شکر نالوں مٹھے ..........

شکر نالوں مٹھے ..........
 شکر نالوں مٹھے ..........

  

میرے جیالو، پیپلز پارٹی کے روشن اجالو، سندھ اسمبلی میں شرجیل میمن کی تقریر پر آنکھوں میں بھر بھرآنسو نہ لاؤ، یعنی ہتھ ہولا رکھو، یہ دیکھو جمہوریت کی طاقت کیسے نیب کے شکنجے سے اپنے سابق وزیر کو نکال کر لائی اور اس نے کیسے طمطراق سے گج وج کے تقریر کی، لیکن ایک رکن کے اس چیلنج پر کہ وہ کلمہ پڑھ کر قرآن پر حلف دیں کہ انہوں نے کرپشن نہیں کی۔ ایوان نے اُس رکن کی بڑی اوئے اوئے کی۔ ہونی بھی چاہئے ان کا یہ چیلنج دراصل جمہوریت کے خلاف سازش تھی اور ہم سب کو اس گھٹیا چیلنج کی جتنی ہوسکے مذمت کرنی چاہئے۔

یہ دراصل شہتیروں کو جپھا ڈالنے کی کوشش تھی۔ فوگ اور سموگ میں وہی فرق ہے جو سیاستدان اور لیڈر میں ہے۔ اب آپ چاہیں کہ سموگ میں اداکارہ انجمن کی طرح لمبے لمبے ہوکے یعنی سانس لیں اور فوگ کا لطف اٹھائیں ممکن نہیں۔ ایک خربوزے والا آواز لگا رہا تھا شکر نال مٹھے، شکر نال مٹھے۔

ایک صاحب ریڑھی پر ہی خربوزے کھانے لگے، خربوزے پھیکے تھے، وہ غصے سے بولے یہ تو پھیکے ہیں۔ ریڑھی والا بولا یہی تو کہہ رہا ہوں شکر نال مٹھے یعنی شکر لگا کر کھائیں تو میٹھے ہیں۔ آپ شرجیل میمن کے خطاب کو پیپلز پارٹی کی جانب سے آئینی کمیٹی میں احتساب بل واپس لینے کے عمل کو ملا کر پڑھیں۔

احتساب قانون میں پیپلز پارٹی نے تجویز دی تھی کہ سیاستدانوں، حکمرانوں کے ساتھ مہربانوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ اب آج انہوں نے اپنی تجویز نما ترمیم واپس لے لی۔ یعنی جتھے دی کھوتی ...... آگے آپ سمجھ گئے ہونگے۔

سجنو تے مترو عرف میرے بھولے پاکستانیو، یہ ایک جمہوری معاشرہ ہے اور صرف یہ پاکستان میڈ جمہوریت میں ممکن ہے کہ سات ارب روپے کی کرپشن کے ملزم کی اسمبلی آمد پر اسے پھولوں کے ہار پہنائے جائیں، اس پر کئی کلو پتیاں نچھاور کی جائیں اور پھر پوری اسمبلی اس بات پر لعن طعن کرے کہ نیب ایک ظالم ادارہ، ایک ظالم جن ہے اور سیاستدان وہ معصوم شہزادیاں، جنہیں یہ جن چھت سے اٹھا کر لے جاتا ہے اور پھر اس شہزادی کو روز پوچھتا ہے۔ دس میرے نال ویاہ کرنا اے کہ نئیں۔

اس کے انکار پر عدالتوں سے اس کی ضمانت کراکے بحفاظت اور تمام مکمل سپیئر پارٹس کے ساتھ چھت پر چھوڑ جاتا ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال سوچتے تو ہونگے کہ کتنی مضبوط جمہوریت ہے جس میں چور اسمبلی میں اور محافظ کٹہروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا یہ شکوہ کہ پیپلز پارٹی کے لئے احتساب الگ اور مسلم لیگ کے لئے الگ ہے۔ تو بھیا آپ بھی جانتے ہیں، یہی تاثر تو ختم کرنا ہے اور لوگوں کو بتانا ہے کہ دیکھ لیں صرف میاں صاحب کو ہی پینجا نہیں لگ رہا بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی عدالتوں کے احاطوں میں مدھولا جا رہا ہے۔

کہتے ہیں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پستا ہے۔ میرا بیچارہ گھن تو خوشی خوشی اپنی سائیکل کی گراریوں کو گریس لگا رہا تھا، اس کی چین کس رہا تھا کہ انہیں بھی نیب نیب کھیلنے کے لئے بلا لیا۔ اب بڑے چودھری صاحب چھوٹے سے پوچھ رہے ہونگے، غوں غوں غاں غاں غڑر غڑر یعنی پرویز الٰہی صاحب، لڑائی میاں صاحب کی، یہ اچانک ہماری طرف نگاہ کیسے پڑ گئی۔ گھر کی شفٹنگ میں بچے والدین کی مدد کر رہے تھے، باپ نے دیکھا ایک بچہ الماری اٹھائے ہوئے پسینہ پسینہ ہو رہا ہے، وہ بولا بیٹا بھائی کو مدد کے لئے بلالو، وہ بولا ابا جی بھائی جان الماری وچ ہینگر پھڑ کے بیٹھے نے۔

(ابا جی بھیا الماری میں ہینگر پکڑ کر بیٹھے ہیں) بہرحال چودھری برادران کو اتنا پریشان نہیں ہونا چاہئے، میاں نواز شریف صاحب احتساب کا مقابلہ کرنے کیلئے سب کچھ چھوڑ کر آگئے ہیں۔ آپ لوگوں کی تو شو کی شان بڑھانے کے لئے اینٹری ڈالی گئی ہے۔

کیا لوگ ہیں ہم لڑائی اس بات پر ہوتی ہے کہ میں ہی چور نہیں، سامنے والا بھی چور ہے۔ کاش کبھی اس بات پر بھی جھگڑے ہوں کہ میں سامنے والے سے زیادہ اچھا ہوں۔

پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون، قاف اور پی ٹی آئی میں کاش کبھی زیادہ اچھا کہلانے کی لڑائی ہو۔ کاش سموگ میں کتا کھانسی کا شکار، معاشرہ فوگ کی راحت کو محسوس کرسکے۔ یہ معاشرہ جو اس سموگ کو جلا بخشتا ہے۔ سو جتن لگا کر اسے ہیرو بناتا ہے۔

قائداعظم ثانی جمہوریت کا دیوتا، ٹائیگر سب پر بھاری، نیا پاکستان نیا پاکستان نجانے کیا کیا سپنے بنتا ہے، اور آخر میں جنوں بنھو اوہی لال۔ کوئی سات ارب کھا کر جمہوریت کا چیمپیئن، کوئی اربوں کھربوں کے محل بنا کر جمہوریت کا دیوتا، کوئی کھربوں کے فلیٹس بنا کر جمہوریت کا شیر اور یہ بھوکی ننگی خوابوں کی ماری قوم مرتی جاتی ہے مرتی جاتی ہے،لٹتی جاتی ہے، خون تھوکتی پکارتی ہے، شیر اک واری فیر۔ ایڑیاں رگڑتی ہے اور تشنج زدہ آواز میں میڈاں سائیں سب تو بھاری کہتے کہتے مر جاتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں ہوئی شمع فروزاں روشن

موم کے جسم میں دھاگے کا جگر ہوتا ہے

چلیں جی آپ کی جمہوریت سلامت رہے۔ یہ اسمبلیاں سلامت رہیں، جو اربوں روپے کے ملزموں کو ہار پہناتی ہیں اور بڑے فخر سے اسے معصوم قرار دیتی ہیں۔ سلامت تو وہ مہربان بھی رہیں جو کچھ عرصہ بعد احتساب کا نعرہ لگاتے ہیں، قوم کو آس دیتے ہیں، شہزادی اٹھاتے ہیں اور ایک این آر او کے بعد اسے کوئی گزند پہنچائے بغیر اس کی چھت پر چھوڑ آتے ہیں۔

چلیں جی سب سلامت رہیں، اس بھوکی ننگی قوم کا کیا ہے، زندہ رہے تو کیا مر جائے تو کیا۔ پنٹو اپنی خالہ کے گھر چھٹیاں گزار کر آیا، اس کے دوست نے پوچھا تمہاری شرارتوں پر کسی نے کچھ نہیں کہا۔ وہ بولا نہیں بس خالو مجھے کشتی میں بٹھا کر لے جاتے تھے، واپسی میں مجھے تیر کر آنا پڑتا تھا۔ دوست نے پوچھا تیر کر کیوں؟ وہ بولا دراصل خالو مجھے دریا میں پھینک دیتے تھے۔

دوست بولا بہت مشکل ہوتی ہوگی تیر کر آنے میں، وہ بولا زیادہ مشکل بوری سے نکلنے میں ہوتی تھی۔ تو بھیا میرے اس قوم کو آپ چاہے دریا میں پھینکو، بوری میں بند کرو اس نے تیر کر آ ہی جانا ہوتا ہے۔

بہت ڈھیٹ ہے، لیکن ڈریں اس وقت سے جب کشتی اس کے ہاتھ آگئی، ڈریں اس وقت سے جب چپو یہ خود چلانے لگی۔ ڈریں اس وقت سے جب آپ بوری نہیں کھول پائیں گے۔

کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو اپنی

کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا وہ ہماری طرح

مزید : کالم