یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے سیمینار

یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے سیمینار

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) یونیورسٹی آف ایجوکیشن، ٹاؤن شپ کیمپس لاہور میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے گزشتہ روز ایک سیمینار اور آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے بطور مہمان خصوصی جبکہ رجسٹرار یونیورسٹی آف ایجوکیشن ڈاکٹر منظوم اختر نے بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔ سیمینار کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤفِ اعظم نے کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فروا نثار نے طالبات کو بریسٹ کینسر کی علامات، تشخیص اور علاج کے متعلق تفصیل سے معلومات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینسر جیسے مہلک مرض کا مقابلہ کرنے کے لئے سب سے پہلے اس کے بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً خواتین اس معاملے میں بہت پیچھے ہیں۔

۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھاتی کے سرطان کے 90 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے 40 ہزار سے زائد خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ غیر ضروری شرم و حیاء کے باعث خواتین کا بریسٹ کینسر کی تکلیف کو برداشت کرنا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا نہایت غلط سوچ ہے، جسے ہمیں فوری تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ چھاتی کے سرطان کا علاج ممکن ہے بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص ہو جائے اور اس مرض کی تشخیص کوئی مشکل کام نہیں، یہ خواتین خود بھی کر سکتی ہیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤفِ اعظم نے کہ امراض سمیت تمام مسائل کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہم خود تیار نہیں ہوتے۔ عصر حاضر میں جب ہر فرد کو اپنے مسائل کھل کر بیان کرنے کی آزادی حاصل ہے تو پھر خواتین خاموش کیوں رہتی ہیں؟ اس تقریب کے انعقاد کا مقصد بھی خواتین میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ وہ اپنی صحت اور سماج سے متعلق تمام مسائل پر کھل کا اظہار خیال کریں، کیوں کہ اسی طرح وہ بے جا روایات اور غلط سوچ کے گرداب سے نکل سکتی ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر امجد ثاقب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے حق کے لئے بولنا سیکھیں، بلاوجہ کی خاموشی کسی بڑے گناہ سے کم نہیں۔ بریسٹ کینسر کے خلاف جہاد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں، کیوں کہ یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی کوکھ سے جنم لینے والی آئندہ نسلوں کے مستقبل کا بھی سوال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے طلباء و طالبات کو کینسر کے ساتھ ساتھ غربت، افلاس اور جہالت کے خلاف بھی علم جہاد بلند کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی اگلی نسلوں کو ایک بہتر سماج دے سکیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4