سرکاری ہسپتال یونین بازی کے اڈے بن گئے ، خفیہ اداروں کی رپورٹ وزیر اعلٰی کو ارسال

سرکاری ہسپتال یونین بازی کے اڈے بن گئے ، خفیہ اداروں کی رپورٹ وزیر اعلٰی کو ...

لاہور(جاویداقبال)سرکاری ہسپتالوں کو یونین بازوں نے اپنی جاگیربنالیا، ایک ایک ہسپتال میں 20،20 تنظیمیں موجود ہیں جنہوں نے ہسپتالوں کی انتظامیہ کو یرغمال بنا رکھا ہے دوسری طرف صرف لاہور کے ہسپتالوں میں ایسی تنظیموں میں ایک ہزار ڈاکٹرز نرسیں، پیرامیڈیکل سٹاف، سکیورٹی گارڈ یونین لیڈرز کے نام کا لبادہ اوڑھ کر مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں۔ یہ لوگ ملازمین سے یونین کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے چندہ بھی اکٹھا کرتے ہیں اور سائلوں سے لاکھوں روپے مختلف کام کرانے کے نام پر الگ سے اکٹھا کرتے ہیں اکثر یونین باز ایم بی بی ایس نرسنگ سمیت دیگر شعبہ جات میں داخلہ دلانے کے نام پر جھانسہ دے کر لاکھوں روپے ہڑپ کر چکے ہیں .وزراء اور سیکرٹری صحت کے ساتھ تصاویر بنوا کر اپنے اختیارات کا رعب دیتے ہیں یہ انکشاف ایک خفیہ ادارے کی طرف سے وزیراعلی کو ارسال کی گئی رپوٹ میں سامنے آئے ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ہسپتالوں میں یونین بازی بین کر دی جا ئے تو ہسپتالوں کے مسائل بڑی حد تک ختم ہو سکتے ہیں.ہسپتالوں سے بد انتظامی چوروں کی سرپرستی کرنے کا الزام بھی بعض یونین بازوں پر عائد کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتالوں کے مقررہ اوقات کار کا بڑ حصہ یونین بازی میں گزر جاتا ہے بعض ہسپتالوں کے ایم ایس اور دیگر انتظامی افسر نہ صرف یونین بازوں کی سرپرستی کرتے ہیں بلکہ انھیں چندہ بھی دیتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یونین باز آئندہ دنوں میں ہسپتالوں کے بعض شعبہ جات آؤٹ سورس کرنے کے اقدام کے خلاف ایک بڑی تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے لیے چندہ بھی جمع ہو رہا ہے اس کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی تنظیموں کو بھی ساتھ ملایا جا رہا ہے اس لئے تجویز دی گئی ہے کہ بہتر ہو گا کہ حکومت مریضوں کے وسیع تر مفاد میں ہسپتالوں میں یونین بازوں پر پابندی عائد کر دے کیونکہ اگرحکومت ایسا کریگی تو سینئرڈاکٹران کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں ۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت اس کا ٹاسک سیکرٹری ہیلتھ نجم احمد شاہ کو دے کیونکہ وہ مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں وائے ڈی کی ہڑتال کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نجم شاہ کو حکومت بااختیار بنا کر میدان میں اتارے تو بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔مزیدکہا گیا ہے کہ آغاز لاہور سے کر دیا جائے کیونکہ یہاں یونین بازی کرنے والے صرف 42 لوگ ہیں جن میں ڈاکٹر، نرسیں ،پیرامیڈیکل اور کلیریکل سٹاف شامل ہے جن کو شہر بدر کر دیا جائے تو یونین بازی خود بخود ختم ہو جائے گی حکومت اگر ان افراد کے خلاف اینٹی کرپشن میں درج انکوائروں کی تفصیل حاصل کر لے تو کافی حد تک مدد مل سکتی ہے.

مزید : میٹروپولیٹن 1