کمرشل زور زرعی رقبے کی راہائشی رجسٹریاں پاس کرانے کا انکشاف

کمرشل زور زرعی رقبے کی راہائشی رجسٹریاں پاس کرانے کا انکشاف

لاہور(عامر بٹ سے )صوبائی دارالحکومت میں وثیقہ نویسوں کی جانب سے فراڈ کا نیا طریقہ سامنے آگیا۔ تمام ٹاؤنز میں کمرشل او ر زرعی رقبہ کوسکنی ظاہرکرکے رجسٹریاں پاس کروانے کا انکشاف، کورڈایریا بچانے کے لئے مکان کو پلاٹ ظاہرکراکے گاہک کے علاوہ رجسٹریشن برانچ کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جانے لگی ۔ رجسٹریشن ایکٹ1908کی دفعہ34کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ۔ تفصیلات کے مطابق راوی ٹاؤن، واہگہ، نشتر، شالامار، اقبال، سمن آباد اور داتا گنج بخش ٹاؤن میں کام کرنے والے اشٹام فروش اور وثیقہ نویس اس پریکٹس پر عمل پیرا ہیں۔2010ء سے پہلے وثیقہ نویسوں کی جانب سے کئی طریقوں سے رجسٹریوں کی مد میں لاکھوں روپے کمائے جاتے تھے جس پر بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مختلف احکامات کے تحت قابو پایا گیا لیکن وثیقہ نویسوں نے یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح جاری رکھا جس کا انکشاف اب اس صورتحال میں ہوا ہے کہ اب رقبہ مکان اورپلاٹ کی اصل صورت کو ہی بدل دیا جاتا ہے اور رجسٹری پاس کروالی جاتی ہے۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ تمام وثیقہ نویسوں کی جانب سے کی جانے والی دو نمبریاں متعلقہ رجسٹریشن برانچ کے عملہ اور رجسٹری محرر کے عملہ کے علم میں ہوتی ہیں اس صورتحال کے باعث حکومتی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا جارہا ہے اگر نیب اورمحکمہ اینٹی کرپشن ازخود ریکارڈ کا معائنہ کریں تو بہت بڑا سیکنڈل سامنے آسکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1