امریکی پابندیوں کا قانون کاتسا، ایران کی 12 شخصیات اور 40 ادارے شامل

امریکی پابندیوں کا قانون کاتسا، ایران کی 12 شخصیات اور 40 ادارے شامل

واشنگٹن(این این آئی)امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے کاتسا نامی قانون کے تحت عائد کردہ نئی پابندیوں میں ایران کی 12 شخصیات اور 40 اداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور امریکا سفر کو ممنوع قرار دینا شامل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے پابندیوں کی فہرست میں 12 شخصیات اور 40 اداروں کے ناموں کا اضافہ کیا جن کا ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے پھیلانے کے لیے سپورٹ یا عالمی دہشت گردی کی فہرست یا پھر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تعلق ہے۔ان افراد اور اداروں پر امریکا کے سفر پر پابندی اور امریکا میں ممکنہ اثاثوں کے منجمد کرنے کے علاوہ دیگر پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ ان میں مذکورہ تمام ناموں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی روابط رکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل یہ دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر کاتسا قانون کو نافذ کیا گیا تو تہران امریکا کو سخت جواب دے گا اور جوہری معاہدے کو منسوخ کر گے گا۔ کاتسا قانون ایران ، شمالی کوریا اور روس پر پابندیاں عائد کر تا ہے۔یہ قانون امریکی صدر کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل یا وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے پروگراموں ، ایران کے ساتھ عسکری ساز و سامان کی خرید و فروخت یا ایران کو متعلقہ حوالے سے تکنیکی یا مالی معاونت پر پابندی عائد کریں۔ البتہ قانون میں اہم ترین پیراگراف ایرانی پاسداران انقلاب اور اس سے مربوط ملیشیاؤں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق ہے۔

امریکی سینیٹ نے جمعرات 15 جون 2017 کو غالب اکثریت کے ساتھ "کاتسا" کا قانون منظور کر لیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اگست کو اس قانون کی توثیق کر دی جس کے نتیجے میں روس کے ساتھ کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ واشنگٹن اس سے پہلے ہی ماسکو میں اپنی سفارتی نمائندگی کو کم کر چکا تھا۔

مزید : عالمی منظر