محاصرے کا روزنامچہ

محاصرے کا روزنامچہ
 محاصرے کا روزنامچہ

  

سیاست اور جمہوریت کا محاصرہ میرے ہوش سنبھالنے سے بہت پہلے سے جاری ہے اور ہوش سنبھالنے کے بعد حالات بھی ہوش اڑانے کے لئے کافی رہے ہیں۔محاصرے طاقت والے کرتے ہیں تاریخ کے ہر دور میں طاقت والوں کے مقابلے میں ایسے جرات والے بھی موجود رہے ہیں جو ان محاصروں کے روزنامچے لکھتے رہے ہیں، ہاں، ان کے نام اور انداز مختلف رہے ہیں، یہی روزنامچے ہماری تاریخ بنتے ہیں اور تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ باکردار لوگوں کی تعریف و تحسین کرتی ہے، بہادروں اور اصول پسندوں کو ہیرو قرار دیتی ہے لہذا ہر وہ شخص تاریخ سے نظریں چراتا ہے جسے تاریخ سے شرمندگی ملتی ہے۔’ محاصرے کا روزنامچہ‘ بنیادی طور پر ایک کتاب ہے جو وجاہت مسعود کے کالموں کا مجموعہ ہے، جی ہاں، وہی وجاہت مسعود جن کے بعض افکار اورنظریات کو سن کرکبھی مجھے بھی بہت غصہ آتا تھا اور اب بھی بہت سارے اہل ایمان موصوف کے ذکرسے فشار خون بلند کرتے پائے جاتے ہیں کہ وہ اپنا مسلک’ ترک رسوم‘ اور خواب’ انسان کے نقش پا کی وسعت کا‘ بیان کرتے ہیں۔

میں نے محاصرے کے روزنامچے کو بہت ساری جگہوں پراپنی سیاسی فکر ہی نہیں بلکہ انشا پردازی کی مرمت کرتے ہوئے بھی پایا ،مجھے ان کے مسلک سے اختلاف ہے مگر خواب سے اتفاق، میں نے جانا کہ جیسے ملکوں کی سرحدیں حتمی نہیں ہوتیں ایسے ہی افکار و نظریات بھی اپنی جگہ جامد نہیں ہوتے، یہ اِدھراُدھرسفر کرتے رہتے ہیں، آپ انہیں کسی لیبارٹری میں موجود مختلف کیمیکلز کی شکل میں بھی دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کوئی نیا مرکب بھی بنا لیتے ہیں ، یہ کبھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور کبھی ٹکراتے ہوئے تباہی بھی پھیلاتے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے ایک سابق امیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قو م پرست طالب علموں کی اپنے وقت کی فعال تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور بھلے وقتوں میں جب نظریات کی بنیاد پر دلائل کی لڑائیاں لڑی جاتی تھیں تو اسلامی جمعیت طلبا کے سٹڈی سرکلز میں ان کی جاسوسی کرنے جاتے تھے، مقصد ہوتا تھا کہ افکار اور دلائل کا مقابلہ گولی اور گالی کی بجائے افکار اور دلائل سے ہی کیا جا سکے مگر پھر یوں ہوا کہ ان کے ذہن میں نظریات کی سرحدیں بدل گئیں، وہ مذہب پسند افکار جو خیالات کی فصیلوں کے باہرایک کی دشمن مانند سمجھے جاتے تھے وہ ذہن پر حاکم ہو تے چلے گئے ،وقت آیا کہ این ایس ایف کا نظریاتی سپاہی جماعت اسلامی پاکستان کاسربراہ بن گیا۔میں نے جب مذہبی جماعتوں کی رپورٹنگ شروع کی تو اس وقت سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کا اپنی اپنی جگہ طوطی بولتا تھا۔ ہمارے دو مختلف مکاتب فکر کی نمائندہ یہ فرقہ وارانہ تنظیمیں ایک ووسرے کے ساتھ باقاعدہ حالت جنگ میں تھیں ۔ ایسے میں ایک تنظیم کا جانثار دوسری تنظیم والوں کے پاس جاسوسی کے لئے گیا اور ایسا متاثر ہوا کہ دشمنوں کا ہی وفادار اورمرکزی عہدے دار بن گیا۔یہ نوے کی دہائی کا آخر تھا کہ مجھے ایک اخبار میں پیپلزپارٹی کی رپورٹنگ کی ذمہ داری مل گئی، میں بہت چیں بجیں ہوا کہ مجھے ضیاء دور سے یہی بتایا گیا تھا کہ پیپلزپارٹی ایک اسلا م اور پاکستان دشمن سیاسی جماعت ہے جس کا ایک ونگ الذوالفقار بھی تھا۔ مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ نقطہ نظر صرف ہم ہی نہیں رکھتے، نقطہ نظر دوسرے بھی رکھتے ہیں، وطن کی محبت کی ٹھیکیداری صرف ہمارے پاس ہی نہیں، یہ وطن دوسروں کا بھی ہے،دوسرے اس میں خواہ مخواہ نہیں ہیں۔

میں اپنے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ پاکستان میں دائیں اور بائیں بازو کی بحث غیر ضروری ہو گئی، یہ مذہب پسند اور مذہب بے زار طبقوں کے درمیان اختلاف بھی حاشیہ آرائی میں چلا گیا، اب اتحاد اور اختلاف کی بنیاد صرف ایک ہے کہ آپ جمہوری قوتوں کے ساتھ ہیں یا آپ جمہوری قوتوں کے مخالف ہیں۔ میں بنیادی طور پر مذہب کو پسند کرتا ہوں اور اسے معاشرے میں اصلاح کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھتا ہوں ، میں مولوی کے طبقے کو مظلوم سمجھتا ہوں اور دکھی ہوں کہ دور کعت کے امام کی یہ اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ جان سکے کہ قوم کیا ہے اور قوموں کی امامت کیا ہے مگراسلام پسند ہونے کے باوجود میں اس کردار کی حمایت نہیں کرپاتا جو مولانا سراج الحق محاصرے والوں کے لئے ادا کرتے ہیں اورہمارے دارالحکومت کا محاصرہ کرنے والے کیا ہیں، وہ ایک طرف لبرل اور ترقی پسند ہونے کے دعوے دار ہیں،بات بات پر امریکہ اور انگلینڈ کی مثالیں دیتے ہیں اور دوسری طرف طالبان کے دفتر کھولنے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وجاہت مسعود اور نجم ولی خان، ایک استاد اور ایک طالب علم ،بہت سارے اختلافات رکھتے ہوئے اور مختلف سمتوں سے سفر کرتے ہوئے اکٹھے آکھڑے ہوتے ہیں، ہاں، میرا مذہب اور زندگی بارے فہم بہت مختلف ہے ،میں زبان و بیان پر ایسا عبور نہیں رکھتا، میرا تاریخ سیاست اور ادب کا مطالعہ بھی بہت وسیع نہیں ہے، میری تاریخی حوالوں کی کمپیوٹر جیسی لپک والی دسترس بھی نہیں ہے اور نہ ہی حیران کردینے والی یادداشت مگر جب آئین اور جمہوریت کا باقاعدہ محاصرہ رکھنے والوں کے مقابلے کی بات ہوتی ہے تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس وقت کے آنے کے بارے میں کوئی شبہ نہیں جب مذہبی اورمعاشرتی بہت سارے نظریات کی صف بندیوں میں ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوں مگر اس مقابلے میں بھی ایک صفت مشترک ہو گی کہ ہم مکالمہ کریں گے، اہل دل ، اہل نظر اور اہل قلم پنچہ آزمائی نہیں کرتے، وہ جانتے ہیں کہ ارسطو زہر پی کر نہیں مرا ، ہاں، اگر وہ زہر نہ پیتا تووہ ضرور مرجاتا۔

محاصرہ صرف سوا سو سے کچھ زیادہ دنوں کا نہیں تھا، اس نے ایک سو چھبیس دنوں کے بعد ایک دوسری غیر مرئی شکل اختیار کر لی تھی، یہ ایسے ہی ہے کہ کسی کا بدن بخار سے ٹوٹتا تھا کہ یہ معلوم مرض تھا اور اس کی دوا بھی کی جا سکتی تھی مگراب محاصرے نے کسی جن اور کسی سائے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ مریض کی یہ حالت زیادہ ڈرا دینے والی ہے ۔ جناب مجیب الرحمان شامی درست فرماتے ہیں کہ کچھ ہے جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگروہ کیا ہے اور کون ایسا کیوں کر رہا ہے اسے نہ تو دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔محاصرہ تو اب بھی جاری ہے تو اس محاصرے کے وجود کا احساس جناب عمران خان، جناب شیخ رشید، جناب فواد چودھری ، جناب سراج الحق اپنے اپنے طور دلاتے رہتے ہیں، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سیاستدان ہیں مگران کی حرکتیں بتاتی ہیں کہ وہ درحقیقت سیاست اور جمہوریت کے محاصرے کے محافظ اور ترجمان ہیں۔ ایک کھلے ڈلے محاصرے کا روزنامچہ لکھنا بھی آسان نہیں مگر دوسری طرف ایک کسی سائے کی طرح موجود اوراثرپذیر محاصرے کی نقشہ کشی اس سے بھی زیادہ دشوار ہے۔ محاصرے کا روزنامچہ لکھنے والوں کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کی زبان بندی بھی ہوجاتی ہے اور ا یسے روزنامچے لکھنے والوں پر ایک اخبار کی خبر کے مطابق نامعلوم لڑکیوں کے نامعلوم بھائی بھی حملہ کر دیتے ہیں، یہ بھی ہوتا ہے کہ روزنامچے لکھنے والے میری طرح اچانک محبوب کی خوبیان بیان کرنے لگتے ہیں مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب محترمہ فاطمہ جناح کا محاصرہ ہو رہا تھا تو اس وقت ہم میں سے کون روزنامچہ لکھ رہا تھا۔ یہ جوآئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے راگ الاپتے ہیں اب میں سے بہت سارے جسموں کے نہیں، محض کردار کے مضبوط ہوتے ہیں، ان کے سر پھٹ جائیں تو اس میں سے خون کے ساتھ ساتھ بہت سارے خواب اور جنون بھی بہہ نکلتے ہیں یوں ایک روزنامچہ لکھا جانا بند ہوجاتا ہے۔ آج اگر کوئی اس دیدہ یا نادیدہ محاصرے کا روزنامچہ لکھنا بند بھی کر دے گا تو کیا فرق پڑے گا، میں نہیں لکھوں گا تو کوئی اور لکھے گا اور مجھ سے بہت بہتر لکھے گا۔ وجاہت مسعود محاصرے کا مسلسل روزنامچہ لکھ رہے ہیں اجمل کمال کہتے ہیں کہ ان کی تحریروں کی دوخوبیاں عمدہ نثر اور متین انداز بیان ہیں اور یہ خوبیاں پاکستان کی اردو صحافت سے قریب قریب رخصت ہوچکی ہیں ۔

 

مزید : کالم