نواز شریف کے ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست پر احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم

نواز شریف کے ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست پر احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم

اسلام آباد (آئی این پی ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ریفرنس یکجا کرنے کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ،ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کا 19اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اورمسترد کی گئی درخواستوں کو زیر التوا تصور کرنے کا حکم ، عدالت نے دو صفحات پر مختصر فیصلہ جاری کیا ہے ،وجوہات پر مبنی تفصیلی فیصلہ بعدمیں جاری کیا جائے گا،ٹرائل کورٹ کو دوبارہ درخواستوں پر فیصلہ سنانے کا بھی حکم دیا گیا ،وفاقی نیب آرڈیننس کو سیکشن17-D اور قابل اطلاق قوانین کی روشنی میں ٹرائل کورٹ کو بعد از سماعت فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل نذیر تارڑ کی طرف سے دائر ریفرنس یکجا کرنے کی درخواست پر گزشتہ روز تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے احتساب عدالت کے19اکتوبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ۔ عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ مسترد کی گئی درخواستوں کو زیر التوا تصور کیا جائے۔ عدالت نے دو صفحات پر مختصر فیصلہ جاری کیا ہے جبکہ وجوہات پر مبنی تفصیلی فیصلہ بعدازاں جاری کیا جائے گا۔عدالت نے ٹرائل کورٹ کو دوبارہ درخواستوں پر فیصلہ سنانے کا بھی حکم دیا۔نواز شریف کے وکیل کی جانب سے عدالت عالیہ کے روبرو موقف اختیار کیا گیا کہ احتساب عدالت میں جمعہ کو نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی سماعت ہے، اس حوالے سے فرد جرم کی نقول بھی فراہم کردی گئی ہیں، نیب قانون کے تحت اثاثے جتنے بھی ہوں، جرم ایک تصورہوتا ہے جس کے باعث نیب کو 3 ریفرنسز کو ایک ریفرنس میں بدلنے کا حکم دیا جائے کیونکہ ایک ہی الزام پر 3 ریفرنس دائر نہیں کیے جاسکتے، جس پر نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تین ریفرنسز دائر کیے گئے،سابق وزیر اعظم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ تین ریفرنس مشین میں جائیں گے اور سزائیں باہر آئیں گی چونکہ تینوں ریفرنسز میںآمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے لہٰذانیب کورٹ میں فیصلہ وجوہات بیان کئے بغیر قانون کے برعکس دیا تھا اور کہا کہ پراسیکیوٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ رگڑا دیا جائے مگر عدالت نیوٹرل ہوتی ہے جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ کورٹ کا فیورٹ چائلڈ ملزم ہوتا ہے۔

مزید : صفحہ اول