قائد اعظم ؒ کی باغی بیٹی اپنے پاپا سے جا ملی ، دینا واڈیا 98سال کی عمر میں انتقال کر گئیں

قائد اعظم ؒ کی باغی بیٹی اپنے پاپا سے جا ملی ، دینا واڈیا 98سال کی عمر میں ...

کراچی (رپورٹ / نعیم الدین ) بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بیٹی دینا واڈیا اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوگئیں اور اپنے پاپا سے جا ملیں،پاکستان میں رہائش پذیر نہ ہونے کے باوجود پاکستانی عوام کو ان سے ایک خاص انسیت اور لگاؤ تھا کیونکہ وہ بابائے قوم کی صاحبزادی تھیں ۔وینا واڈیا پر پاکستانیوں نے اپنی محبتیں اس وقت نچھاور کیں جب وہ 2004میں پاکستان تشریف لائیں ۔نئی نسل کے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ جس قائد اعظم کے بارے میں وہ کتابوں میں پڑھتے رہے ہیں ان کی صاحبزادی ان کے درمیا ن ہیں ۔انہوں نے اس دورے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کو قذافی اسٹیڈیم جاکر دیکھا تھا اور جس طرح عوام نے ان کا استقبال کیا تھا وہ دراصل قوم کا اپنے عظیم قائد کوخراج عقیدت تھا ۔اس سے قبل وینا واڈیا 1948میں قائداعظم محمد علی جناح کے انتقال کے موقع پر کراچی آئی تھیں اور انہوں نے کچھ وقت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ گذارا تھا ۔ 2004 کے دورے میں وہ اپنے والد کی جائے پیدائش وزیرمینشن بھی تشریف لے گئیں تھیں جہاں وہ ان کمروں اور سامان کو دیکھ کر اپنے والد کی یادوں کو تازہ کرتی رہیں۔ انہوں نے نے قائد اعظم کے مزار پر حاضری بھی دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پاکستان کے عوام کیلئے بھی ایک بڑا ایسا لمحہ تھا جس میں ایک بیٹی باپ کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھا رہی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مزار پر مہمانوں کیلئے رکھی گئی کتاب میں انہوں نے انتہائی مختصر الفاظ درج کیے وہ تاریخ کا حصہ رہیں گے اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کتاب میں لکھا تھا ’’یہ میرے لیے ایک دکھ بھرا شاندار دن تھا، اُن کے خواب کو پورا کیجئے ‘‘۔یوں تو وہ قائد اعظم کی زندگی میں ہی الگ ہوگئیں تھیں مگر باپ کی محبت اور شفقت انہیں پاکستان دوبارہ لے آئی۔ وہ اپنی پھوپھی محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش گاہ موہٹہ پیلس گئیں جہاں انہوں نے کچھ وقت گزارا تھا۔ دینا واڈیا کے دنیا سے رخصت ہونے پرلگتا ہے کہ قائد کی ایک اور نشانی ہم سے جدا ہوگئی۔ انہوں نے پاکستان کا دوسرا اور اپنی زندگی کا آخری دورہ 2004میں کیا تھا جس دوران انہوں نے اپنے والد کے مزار پر حاضری بھی دی۔ دینا واڈیا نے دورہ پاکستان کے موقع پر قائدا عظم محمد علی جناح کی تین تصاویر پسند کی تھیں جن کی نقول انہیں بھجوا دی گئیں ،یہ تصاویر انہیں اپنے والد کی یاد دلاتی رہی ہوں گی۔دینا واڈیا نے قائدکی شیروانی بھی دیکھی اور کہا کہ وہ اس کے درزی کو جانتی تھیں۔ واقفیت کا یہ اظہار گزرے، بیتے دنوں کی یاد کا عکس ہے جو ہمیشہ دینا کے ساتھ رہا ہوگا۔وہ باپ کی زندگی میں ان سے الگ ہوئیں اوریباً ساٹھ سال بعد ان کے مزار پر حاضر ہوئیں۔ ان کی جذباتی کیفیت کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے اسے محسوس ہی کیا جاسکتا ہے دیکھا نہیں جاسکا۔باپ کی محبت انہیں فلیگ اسٹاف ہاو191س لئے گئی جہاں انہوں نے قائداعظم کے نوادرات دیکھے، وہ موہٹا پیلس گئیں جہاں کبھی ان کی پھوپھی محترمہ فاطمہ جناح رہتی تھیں اور وہ وزیر مینشن گئیں جہاں ان کے والد پیدا ہوئے تھے۔ ،وہ کافی عرصہ سے علیل اور لندن میں زیر علاج رہنے کے ساتھ برطانیہ میں ہی مقیم تھیں تاہم یہ واضح نہیں ہو سکاہے کہ ان کی وفات لندن میں ہوئی یا بھارت میں ؟۔خاندانی ذرائع کی جانب سے صرف ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔دینا واڈیا 15اگست 1919میں لندن میں پیدا ہوئی تھیں اور انہوں نے 2004میں کراچی کا دورہ کیا تھا اور اس دوران انہوں نے مزار قائد? پر حاضری بھی دی تھی۔دینا واڈیا پارسی کاروباری شخصیت نیوائل واڈیا سے شادی کے بعد کچھ عرصہ ہندوستان میں رہیں اور اس کے بعد برطانیہ چلی گئیں،اور وہ پاکستان اس وقت آئیں جب قائد اعظم محمد علی جناح کا انتقال ہوا دینا واڈیا نیویارک میں انتقال کر گئی ہیں ان کی عمر اٹھانوے برس تھی۔ممبئی میں واڈیا گروپ کے ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے انھوں نے اپنے سوگواراں میں بیٹے نسلی این واڈیا جو واڈیا گروپ کے چیئرمین بھی ہیں اور بیٹی ڈیانا این واڈیا کو چھوڑا ہے۔عالمی شہرت یافتہ مصنف اور تاریخ داں سٹینلے ولپورٹ کے مطابق دینا واڈیا چودہ اور پندرہ اگست کی رات کو 1919 کو لندن میں پیدا ہوئی تھیں۔پاکستان میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ان کی وفات کی خبر پر ٹوئٹر میں کہا ہے کہ اپنے قائد کی بیٹی کی وفات کی خبر سے انھیں شدید صدمہ پہنچا ہیٹوئٹر پر بے شمار لوگ تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ان میں کئی صحافی اور دیگر جانی پہچانی شخصیات شامل ہیں۔اسلام آباد سے سینئر صحافی احتشام الحق نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ، ’قائد اعظم کی اکلوتی بیٹی اور ہو بہو ان ہی جیسی دینا واڈیا انتقال کر گئیں۔ اللہ ان کی روح کو سکون بخشے۔‘صحافی عمر آر قریشی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’کتنی عجیب بات ہے کہ جناح کی اکلوتی بیٹی اس ملک میں کبھی نہیں رہیں، جو ان کے والد نے بنایا۔

دینا واڈیا

مزید : صفحہ اول