اسحق ڈا ر کے اثاثے منجمد ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتار ی برقرار ، 8نومبر کو پیش ہونے کا حکم

اسحق ڈا ر کے اثاثے منجمد ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتار ی برقرار ، 8نومبر کو پیش ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)احتساب عدالت نے وزیر خزانہ کے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی، اسحق ڈار کی ذاتی اخراجات کی مد میں ماہانہ 6 لاکھ روپے دینے کی استدعا مسترد جبکہ اے جی پی آر کے ذریعے آپریٹ ہونیوالا اکاؤنٹ کھلا رہے گا، عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے ملزم کے ضمانتی کو حکم دیا ہے کہ وہ آٹھ نومبر کو اسحق ڈار کو عدالت میں پیش کریں۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت نے اسحق ڈار، اہلیہ اور بیٹے کے 9 پلاٹس، 6 لگژری گاڑیوں، سوئی ناردرن گیس کمپنی میں شیئرز، دبئی میں ولا اور اپارٹمنٹ کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے ملزم کے ضمانتی کو حکم دیا ہے کہ وہ آٹھ نومبر کو اسحاق ڈار کو عدالت میں پیش کریں۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے ریفرنس کی سماعت کی تو ملزم کی وکیل عائشہ حامد نے اپنے مؤکل کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا اور عدالت میں اسحق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی۔ وفاقی وزیر خزانہ کی وکیل نے کہا کہ اْن کے مؤکل لندن میں زیر علاج ہیں اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق ’وہ چار منٹ سے زیادہ دیر تک پیدل نہیں چل سکتے‘۔ اْنھوں نے کہا کہ اسحق ڈار کے سینے پر بوجھ ہے اور تین نومبر کو اْن کی انجیوگرافی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اْن کے مؤکل عدالت میں پیش نہیں ہوسکے جبکہ آئندہ سماعت پر ملزم کے پیش ہونے کے بارے میں عدالت کو بھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے اس میڈیکل رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے استدعا کی کہ ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔استغاثہ ٹیم نے کہا کہ ملزم اسحق ڈار کی یہ میڈیکل رپورٹ ایک نجی ہسپتال کی ہے جس میں بیماری کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔نیب کی پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ مظفر عباسی نے موقف اختیار کیا کہ میڈیکل رپورٹ بھجوانے کا بھی ایک طریقہ ہے اور ملزم براہ راست اپنی ٹیم کو میڈیکل رپورٹ نہیں بھجوا سکتا۔وفاقی وزیر خزانہ کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے اْن کے موکل عدالت میں پیش نہیں ہوسکے اس پر عدالت نے نیب کی ٹیم سے استفسار کیا کہ میڈیکل رپورٹ بھجوانے کا کیا طریقہ ہے۔ نیب کی پراسیکیوشن ٹیم نے جواب دیا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے توسط سے یہ رپورٹ بھیجی جاسکتی تھی۔عدالت نے نیب کی طرف سے اسحق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

اسحق ڈار/ وارنٹ برقرار

مزید : صفحہ اول