10سال پہلے جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگا کر ’’ڈوگر کورٹ ‘‘ بنائی

10سال پہلے جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگا کر ’’ڈوگر کورٹ ‘‘ بنائی
10سال پہلے جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگا کر ’’ڈوگر کورٹ ‘‘ بنائی

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

آج تین نومبر ہے، دس سال پہلے جنرل پرویزمشرف نے آج ہی کے دن ایک نئی ترکیب روشناس کرائی تھی ’’ایمرجنسی پلس‘‘ اس کا مقصد دراصل یہ تھا کہ عدلیہ کو تہہ وبالا کر دیاجائے، جسٹس افتخار محمد چودھری کو سپریم کورٹ نے ان کے منصب پر بحال کر دیا تھا لیکن جنرل پرویزمشرف جو منصوبے بنا چکے تھے انہیں خوف تھا کہ یہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اگر راستے کا یہ روڑا مستقل طور پر ہٹایا نہ گیا جو جسٹس افتخار محمد چودھری کی شکل میں موجود تھا۔ اگر کوئی پوچھے کہ جنرل پرویز مشرف کا زوال کب شروع ہوا تو جواب ہو گا3نومبر سے بہت پہلے زوال کا آغاز اسی لمحے ہو گیا تھا جب انہوں نے آرمی ہاؤس میں چیف جسٹس کو بلا کر ان سے استعفا طلب کیا تھا، لیکن جب انہوں نے انکار سنا تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور دوسرے جرنیلوں سے جو زوال کے اس تاریخی لمحے کے عینی شاہد تھے کہا کہ ان سے استعفا لیں۔ کیسی معصومانہ خواہش تھی کہ جو شخص باس کو انکار کر چکا تھا وہ ماتحت جرنیلوں کا کہا کیسے مان سکتا تھا؟ ویسے بھی یہ حرفِ انکار ایسی چیز ہے جو تاریخ کے لمحوں کو جاویداں کر جاتا ہے، شہنشاہ اکبر اور ان کے بعد جہانگیر کے دربار میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں لوگوں نے تو سجدے کئے ہوں گے کیا ان میں سے کسی ایک شخص کا نام بھی تاریخ میں محفوظ ہے؟ انکار کی توفیق صرف ایک اللہ والے کو ارزانی ہوئی اور اس کا نام آج تک تاریخ کے صفحات پر جگمگ جگمگ کر رہا ہے، لیکن یہ توفیق یونہی نہیں مل جاتی

این سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

یہ سعادت دوسرے ہزارئیے کے مجدد حضرت شیخ احمد سرہندی کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی جو انہیں مل کر رہی۔

جسٹس افتخار محمد چودھری پاکستان کی عدالتی تاریخ کے کوئی غیر معمولی جج نہیں تھے ان سے پہلے بہت سے نامور قانون دان گزر چکے تھے ان میں جسٹس کیانی جیسے نابغہء روز گار جج بھی تھے جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کا دبدبہ تھا، جنرل بختیار رانا مغربی پاکستان (آج کا پورا پاکستان) کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔کسی مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے انہیں پیش ہونے کا حکم جاری ہوا تو وہ سخت سٹپٹائے اور صدر ایوب خان سے شکایت کی کہ مارشل لا میں یہ کیا ہو رہا ہے، ایوب خان نے براہ راست جسٹس کیانی کو فون کیا اور کہا جناب یہ کیا ہو رہا ہے، جسٹس کیانی مذاق مذاق میں پتے کی بات کہنے میںیدطولیٰ رکھتے تھے، ایوب خان سے کہا کہ جنرل بختیار رانا کو کہیں عدالت میں پیش ہو جائیں ورنہ ہائی کورٹ کے تمام ججوں نے استعفوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس وقت لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد بارہ تھی جسٹس کیانی نے کہا ان استعفوں میں ایک اور استعفے کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے( اپنی جانب بلیغ اشارہ) چنانچہ ہائی کورٹ کی تاریخ میں محفوظ ہے کہ جنرل بختیار رانا بطور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر عدالت میں پیش ہوئے، اس لئے اگر آج یا کل کوئی وزیراعظم عدالت میں پیش ہوگیا تھا تو یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا یہ الگ بات ہے کہ جب یوسف رضا گیلانی بطور وزیراعظم سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو کمزور حافظے کے اخبار نویسوں نے لکھا پہلی مرتبہ کوئی حکمران عدالت میں پیش ہوا ہے۔ عرض یہ کیا جا رہا تھا کہ افتخار چودھری جس طرح تاریخی طور پر برطرف ہوئے اسی طرح ان کی بحالی بھی تاریخی تھی اگرچہ بحالی کے بعد انہوں نے بعض متنازعہ فیصلے بھی کئے لیکن جنرل پرویز مشرف کے سامنے استعفے سے انکار کر کے وہ ان کے زوال کے آغاز میں اپنا جو کردار ادا کر چکے تھے وہ بہرحال یاد رکھا جائے گا ورنہ اس سے پہلے پوزیشن یہ تھی کہ جنرل پرویزمشرف کمال ہوشیاری کے ساتھ ایم ایم اے کی جماعتوں کے تعاون سے آئین میں سترھویں ترمیم کر چکے تھے جس کے ذریعے دوسری باتوں کے علاوہ صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دوبارہ حاصل ہوگیا تھا جو تیرھویں ترمیم کے ذریعے نوازشریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ختم کر دیا تھا۔

انہوں نے ایم ایم اے سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ سترھویں ترمیم میں تعاون کرے تو وہ وردی اتار دیں گے لیکن وہ ترمیم ہو جانے کے بعد اپنے اس وعدے سے مکر گئے اور کہا وری تو میری کھال ہے، یہ کیسے اتر سکتی ہے۔ خیر یہ وردی بھی اپنے وقت پر اتر گئی وہ رخصت ہوتی ہوئی پارلیمنٹ سے دوبارہ صدر بھی منتخب ہو گئے لیکن جس زوال کے آغاز کی نیو افتخار چودھری رکھ گئے تھے وہ دوبارہ کمال حاصل نہ کرسکا۔ کہا جاتا ہے کہ جسٹس افتخار چودھری کی برطرفی کے خلاف وکلا کی تحریک شروع ہوئی تو بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے مذاکرات کا وہ سلسلہ ختم کر دیا جو طویل عرصے سے جاری تھا۔ منموہن اس نتیجے پر پہنچے کہ وکلاء کی جو تحریک شروع ہے اس کے نتیجے میں اول تو پرویزمشرف کا اقتدار باقی نہیں رہے گااور اگر رہ گیا تو اس میں اتنی قوت نہیں ہو گی کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان طے ہونے والے کسی بھی معاہدے کو عوام سے منوا سکے۔ 3نومبر 2007ء کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں جنرل پرویز کو استعفا دیناپڑا معلوم نہیں اب ان کی اس بارے میں رائے کیا ہے لیکن انہوں نے کئی مواقع پر تسلیم کیا کہ سپریم کورٹ کے ساتھ ان کی چھیڑ چھاڑ غلط فیصلہ تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید ان کی حکومت اتنی جلدی زوال پذیر نہ ہوتی۔

دس سال پہلے

مزید : تجزیہ