سبزی اور فروٹ منڈیاں عوام کو کیا کھلا رہی ہیں؟

سبزی اور فروٹ منڈیاں عوام کو کیا کھلا رہی ہیں؟
 سبزی اور فروٹ منڈیاں عوام کو کیا کھلا رہی ہیں؟

  

سوشل میڈیا سے لاکھ اختلاف کیا جائے۔ مگر ایک بات ماننا پڑے گی۔سوشل میڈیا نے بعض معاملات میں عوام کو آگاہی ضرور دی ہے۔ نئی نئی معلومات کی فراہمی بھی وقتاً فوقتاً جاری رہتی ہے۔ میاں شہبازشریف کے کاموں کی عموماً تعریف ہی کی جاتی ہے۔المیہ یہ ہے ہمارے معاشرے میں یہ چیز یکسوئی سے پروان چڑھ چکی ہے۔ ہم معمول میں ہر کام نہیں کرتے نظریہ ضرورت کسی نہ کسی حالت میں زندہ رہتا ہے اس کی مثال ماضی قریب کو سامنے رکھ کر دی جا سکتی ہے۔ کہ لاہور بالعموم اور ملک بھر میں بالخصوص کسی موٹرسائیکل پر بم دھماکہ ہوجاتا ہے یا کسی ویگن میں لگا گیس کا سلنڈر پھٹ جاتا ہے۔ساری ایجنسیاں، حکومتی مشینری ادھر لگ جاتی ہے۔ گیس سلنڈر چیک کرنے والی ٹیم ہلچل مچا دیتی ہے۔ گیس سلنڈر بنانے والی کمپنیوں کی جانچ پڑتال اور انسپکشن شروع ہو جاتی ہے۔ ہرمحکمہ اتنا تیزی سے کام کرتا ہے۔ لگتا ہے ہم ٹھیک ہو گئے ہیں۔یوں وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔ سب ایجنسیاں پرانی تنخواہ پر چلی جاتی ہیں حکومتی مشینری گوداموں کا رخ کرتی ہے۔ بیان بازی دم توڑ دیتی ہے ۔ایک نہیں ایک درجن واقعات بیان کئے جا سکتے ہیں عوام میں اچھا تاثر پھلنے لگتا ہے تو اچانک ہوا نکل جاتی ہے۔ چاروں اطراف ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔

خادم اعلیٰ کی حکومت ہو یا مراد علی شاہ کی پرویز خٹک کی ہو یا ثناء اللہ زہری کی سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ ذاتی ایجنڈے میں پوائنٹ سکورنگ ٹاپ پر ہے۔ یہی حال ہمارے میڈیا کا ہے انہیں بھی کسی ایسی خبر کی تلاش ہوتی ہے جو ان کے ٹی وی، اخبار کی ریٹنگ بہتر کر دے ۔عوامی مسائل نہ سیاسی رہنماؤں کی ترجیح ہیں اور نہ میڈیا کی پرنٹ میڈیا سے راقم خود منسلک ہے، اس لئے گلا کس سے کیسے کروں والی بات ہے۔ سیاسی بازار کسی نہ کسی انداز میں گرم رہتا ہے۔ حکومتوں کی تبدیلی کی جلدی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ کردارکشی اور بغیر تصدیق کے خبروں کی بھرمار معمول بن چکی ہیں۔

تمہید طویل ہو گئی آج کی نشست میں وزیراعظم پاکستان، وزرائے اعلیٰ اور صوبائی فوڈ اتھارٹی سے مخاطب ہونا ہے۔ آج کے کالم کا عنوان بظاہر عام سا ہے، مگر اس کا براہ راست تعلق ہماری صحت سے ہے۔ غریب ہو یا امیر مرد ہو یا عورت ہر ایک نے زندہ رہنے کے لے پیٹ پوجا کرنی ہوتی ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کچھ نہ کچھ تناول فرمایا جاتا ہے۔ امیروں کے جونچلے کچھ زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ ناشتہ بھی فروٹ جوسز سے کرتے ہیں ناشتے میں دیگر انواع و اقسام کی چیزیں استعمال کرتے ہیں۔یہی معمول دوپہر اور شام کے کھانے میں ہوتا ہے۔ عوام میں ہوٹلنگ بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ دنیا کی کوئی چین ایسی نہیں ہے جو ہمارے بڑے شہروں سمیت چھوٹے شہروں حتیٰ کہ تحصیل کی سطح تک قائم نہ ہو گئی ہو۔

میں بات کررہا تھا سوشل میڈیا کی آگاہی مہم کی اس میں جہاں طرح طرح کے ٹوٹکے ملتے ہیں وہیں پر سیب کے چھلکے سے لے کر کیلے کے چھلکے کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ہمیں بتایا جاتا ہے مرغی کے گوشت کے نقصانات سے لے کر بھنڈیاں کھانے کے فوائد سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں کوئی ایسی چیز نہیں رہی جس کے اب تک مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث نہ ہوئی ہے۔ لاہور میں میاں شہبازشریف نے فوڈ اتھارٹی بنائی تو عائشہ ممتاز نامی خاتون کے چھاپوں سے بہت سی ایسی پردے کے اندر چھپی ہوئی چیزیں دکھائی دیں جن کا عوام الناس کو پہلے علم نہ تھا ان کے بعد میرے صحافی دوست محسن بھٹی اور ٹی وی اینکر اقرار حسین کو اعزاز حاصل ہے انہوں نے کیچپ سے لے کر ہلدی تک مرچوں سے لے کر مربوں تک ،بناسپتی گھی سے لے کر آئل تک سب کی حقیقت عوام کے سامنے رکھ دی۔ہمیں کھلایا کیا جا رہا ہے عوام کو نئی آگاہی ملی اور حکومت کو پوائنٹ سکورنگ کا موقع۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہم من حیث القوم کرپٹ ہو چکے ہیں۔ ہمیں نہ کرپشن گناہ لگتی ہے نہ دونمبری غلط لگتی ہے رہی سہی کسر، قومی احتساب بیورو نے پوری کر دی ہے۔ اس کی پلی بارگین پالیسی نے کرپشن کرنے والوں اور دونمبری کے ذریعے لوٹ مار کرنے والوں کو سہارا دیا ہے۔ایک ارب کماؤ اور 20کروڑ نیب میں جمع کرا دو سب کچھ تمہارے لئے حلال ہو جائے گا۔ٹی وی اینکرز اقرار حسین اور محسن بھٹی کے مطابق ہم کیا کھا رہے ہیں۔ موضوع بننا چاہیے اخبارات کا بھی ٹاک شوز سیمینار کا بھی اور مباحثوں کا بھی مگر ایسا نہیں ہوپا رہا کیوں نہیں ہو رہا اس کا جواب تلاش کرنا ہے میرا ذاتی خیال ہے ہم کیا کھا رہے ہیں کے ساتھ اگر تھوڑی سی تبدیلی کرکے کہا جائے۔ ہمیں کیا کھلایا جا رہا ہے۔ کہاں سے کھلایا جا رہا ہے۔ کیسے کھلایا جا رہا ہے۔ توہمارے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے آج کے کالم کا مقصد بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علم میں اس بات کو لانا ہے۔ انسانی صحت کے لئے جان لیوا ہماری روز مرہ استعمال کی اشیاء بننا شروع ہو گئی ہیں۔ آپ کی تھوڑی سی توجہ سے بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔

ہماری سبزی اور فروٹ منڈیاں آپ کی توجہ چاہتی ہیں حکومتوں نے انہیں سیاسی پنڈتوں کو ٹھیکے پر دے کر اپنی جان چھڑوا لی ہے مگر ٹھیکے دار عوام کے ساتھ ساتھ آڑھتیوں کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ عوام کو زہر کھلا رہے ہیں۔ دنیا بھر کی سبزی اور فروٹ منڈی کو گوگل پر دیکھا جائے تو بندے کی طبیعت خوش ہو جاتی ہے اتنی صاف ستھری منڈیاں مجھے سعودی عرب اور دبئی کی منڈیوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ہمارے لئے وہ ہزار درجے بہتر ہیں۔ لاہور ہو یا کراچی سبزی منڈی کا گودام ہو یا فروٹ منڈی کا صفائی نام کی کوئی چیز دیکھنے کو نہیں ملتی۔ لاہور میں بادامی باغ اور علامہ اقبال ٹاؤن کی منڈیاں رہ گئی ہیں۔ کامران بلاک علامہ اقبال ٹاؤن کی سبزی منڈی میں بندہ اگر ایک دفعہ گاڑی لے کر چلا جائے تو دوسری دفعہ آنے سے توبہ کر لیتا ہے اگر بارش ہو گئی ہے دو دو ماہ تک اندر داخل نہیں ہوا جا سکتا۔ گندگی کے ڈھیر تو آپ نے دیکھے ہوں گے وہاں گلی سڑی گوبھی کے پھولوں کے ڈھیر نظر آئیں گے جن میں کیڑے رینگتے نظر آ رہے ہوں گے۔ آپ گاری لے جائیں بدبو گاڑی دھونے تک نہیں جائے گی۔ منڈی والوں سے پوچھا جائے آپ کو چیک کوئی نہیں کرتا تو وہ فرمائیں گے روزانہ جرمانہ ہوتا ہے۔ روزانہ بھتہ دیا جاتا ہے۔ ایک دوکاندار بھی اپنی دکان پر نہیں بیٹھتا آگے جو 6فٹ کی گلی ہے اس میں بیٹھ کر فخر محسوس کرتا ہے کم تولنا تو اب گناہ ہی نہیں رہا۔ ملاوٹ کرنا اوپر چند اچھے سیب یا اچھے انگور لگا کر دونمبر سیب اور انگور دے دینا یہ ہمارے مسلمان دکانداروں کا فخر قرار پا چکا ہے۔ منڈیوں کی صفائی ناجائز تجاوزات کا خاتمہ، منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر کس کی ذمہ داری ہے۔ ہے کوئی اینکر ہے کوئی کالم نویس یا کوئی ڈپٹی کمشنر ہے کوئی وزیراعلیٰ جو سبزی منڈیوں اور فروٹ منڈیوں میں جائے اور دیکھے عوام کو سبزی اور فروٹ کی شکل میں کیسے موت بانٹی جا رہی ہے۔ آیئے مل کر کم از کم نشاندہی کرنے والوں کی صف میں ہی شامل ہو جائیں۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔

مزید : کالم