پیرا میڈیکل الائیڈ ہیلتھ سپورٹ سٹاف کا پنجاب میں ہسپتالوں کی نجکاری کیخلاف احتجاج کا اعلان

پیرا میڈیکل الائیڈ ہیلتھ سپورٹ سٹاف کا پنجاب میں ہسپتالوں کی نجکاری کیخلاف ...

لاہور (جاوید اقبال ) پیرا میڈیکل الائیڈ ہیلتھ سپورٹ سٹاف نے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری اور مختلف شعبہ جات آؤٹ سورس کر کے نظام پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے کرنے کے فیصلے کو قابل قبول قراردیتے ہوئے صوبے بھر میں 4نومبر کو ہسپتالوں کی نجکاری کیخلاف احتجاج کا اعلان کردیا ۔ پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز آرگنائزیشن کے چیئرمین ملک منیر ،صوبائی صدر محمود اختر،ترجمان شعیب انور چودھری ،پاکستان ہیلتھ سپورٹ سٹاف کے صوبائی صدر قاری ارشادالرحمان ،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری شیخ محمد نصرت اورپاکستان ہیلتھ سپورٹ سٹاف آرگنائزیشن کے صدر عاشق گجر ،محمد عقیل رشید ،وسیم صادق نے پاکستان فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ ،گلگت بلتستان میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو پروفیشنل الاؤنس دیا جاتا ہے جبکہ پنجاب کے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اس سے محروم ہیں حکومت پنجاب کو چاہئے کہ پنجاب میں بھی ہیلتھ پروفیشنلز کو پروفیشنل الاؤنس دے ۔ملک منیر نے کہا کہ سر گنگا رام ہسپتال/ فاطمہ جناح میدیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ ابھی تک ایڈہاک، کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کروانے میں سنجیدہ نہیں جبکہ محکمہ صحت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ہیلتھ سپورٹ سٹاف کے سروس سٹرکچر پر بھی ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔ جس کی وجہ سے ملازمین میں بے چینی کی سی کیفیت ہے۔محمود اختر نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس بلایا جائے اور اس میں ملازمین کو حکومت پنجاب کی مجوزہ پالیسی کے مطابق ریگولر کروانے کیلئے ایجنڈاہنگامی بنیاد وں پر شامل کروا کر اس پر حکومت سے عمل درآمد کروایا جائے۔ شیخ محمد نصرت نے کہا کہ حکومت سنجیدگی سے ملازمین کو ریگولر کروانے کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کر سکتی تومجبوراً ہمیں احتجاج کا راستہ اپنانا ہو گا اور ہم نہیں چاہتے کہ ہم غریب عوام کی خدمت چھوڑ کر احتجاج کا راستہ اپنائیں۔ شعیب انور چودھری نے کہا کہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اور ہیلتھ سپورٹ سٹاف کے باقی ماندہ مطالبات کو بھی حکومت سنجیدگی سے لے اور ان کا جامع حل نکالا جائے جبکہ ہیلتھ پروفیشنلز الاؤنس کی فراہمی اور سروس سٹرکچر پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔عاشق گجر نے کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ صفائی کیلئے ہائر کی گئی پرائیویٹ کمپنیوں کو 28ہزار روپے فی ورکر کے حساب سے تنخواہ دی جاتی ہے مگر سرکاری ملازمین کو صرف 14ہزار دیا جاتا ہے۔دریں اثناء مرکزی چیئرمین ملک منیر نے کہا کہ ہم ہڑتالیں نہیں کرنا چاہتے مگر حکومت مجبور کر رہی ہے کہ ہم ہسپتال بند کر کے سڑکوں پر آئیں ۔4انہوں نے کہا کہ نومبر کو لاہور سمیت پنجاب کے 36اضلاع میں ڈیڑھ لاکھ ملازمین احتجاج کریں گے اوراگر حکومت نے ہمارے مطالبات منظور نہیں کئے تو ہم ہسپتال بند کرنے کے احکامات بھی دے سکتے ہیں ۔عقیل رشید اور وسیم نے کہا کہ یونینوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ۔ہر مسئلے کا حل احتجاج اور ہسپتال بند کرنا نہیں ہمیں مذاکرات کرنا چائیں اوراگر حکومت مذاکرات کی میز پر نہ آئے تو پھر احتجاج کا راستہ اختیار کرناچاہئے ۔

پاکستان فورم

مزید : صفحہ آخر