2010میں منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی خریدی،عبدالعلیم خان

2010میں منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی خریدی،عبدالعلیم خان

لاہور(نمائندہ خصوصی )پاکستان تحریک انصاف کے سنٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان نے اپنے خلاف نیب کی تحقیقات کے حوالے سے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے لاہور میں 2010میں ایک منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی خریدی جس کے پاس ہر طرح کی منظوری اور این او سی موجود تھے اور 2015تک وفاقی یا پنجاب حکومت اور کسی اور ادارے کو اس میں کوئی نقص نظر بھی نہیں آیا البتہ جب میں نے2015میں ایاز صادق کے خلاف قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تو اس کے بعد حکومتی ایماء پر میرے خلاف اسی ہاؤسنگ سوسائٹی کو بنیاد بنا پر نیب نے تحقیقات شروع کر دیں انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ہمارے رجوع کرنے پر نہ صرف یہ سارے نوٹس معطل کیے بلکہ یہ بھی قرار دیا کہ یہ سیاسی انتقامی کاروائی کی جا رہی ہے عبدالعلیم خان نے کہا کہ و ہ گزشتہ10برسوں سے اپوزیشن میں ہیں جبکہ میاں شہباز شریف انہی 10برسوں سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں اگر میں قبضہ گروپ تھا تو میرے خلاف وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیوں کوئی کاروائی نہیں کی ؟ عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ نواز لیگ کی حکومت نے سیاسی مخالفت پر ایس ای سی پی اور ایل ڈی اے سے کاروائی کروائی ہے جس کی بناپر نیب تحقیقات کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ لاہور کے مئیر کو کون نہیں جانتا جو ایاز صادق کے کو آرڈینیٹر تھے اور انہوں نے ہی ایل ڈی اے کو میرے خلاف درخواست دی ہے عبدالعلیم خان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ کل عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے آج بھی کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی انتقامی کاروائیوں سے گھبرانے والے نہیں اور ہر الزام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا عبدالعلیم خان نے کہا کہ کوئی ان کی طرف سے ایک مرلہ زمین پر قبضہ ثابت کر دے تو وہ نہ صرف سیاست چھوڑ دیں گے بلکہ پوری قوم سے معافی بھی مانگیں گے ۔

عبدالعلیم خان

مزید : علاقائی