ان کیمرہ کارروائی سے تشخیص خراب ہوا کھلی ، عدالت لگائی جائے : جسٹس شوکت

ان کیمرہ کارروائی سے تشخیص خراب ہوا کھلی ، عدالت لگائی جائے : جسٹس شوکت

اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ریفرنس کی کارروائی کھلی عدالت میں چلانے کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے جبکہ درخواست پر فیصلے تک سپریم جوڈیشل کونسل میں ٹرائل روکنے کے معاملے پروفاق کو نوٹس جاری کر کے معاملہ لاجر بنچ کے سامنے لگانے کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے ، عدالت عظمیٰ کی جانب سے کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار جسٹس شوکت عزیر صدیقی کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین سپریم جوڈیشل کونسل کو قوانین بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ جوڈیشل کونسل کو صرف ضابطہ اخلاق بنانے کا اختیار ہے، ایک جج کیخلاف ڈی ایس پی کو ڈانٹنے کے الزام پر انکوائری شروع ہوئی، جج نے استعفیٰ دیا تو میڈیا نے کرپشن پر مستعفی ہونے کا لیبل لگا دیا۔ ٹرائل کھلی عدالت میں ہو تو مکمل سچ عوام کے سامنے آئے گا، اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آدھا سچ ہمیشہ تباہ کن اور خطرناک ہوتا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ کہ ججوں کے کنڈکٹ کے تحفظ کیلئے سماعت ان کیمرہ ہوتی ہے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو یہ تحفظ نہیں چاہئے، جسٹس شوکت عزیز صدیق کی جانب سے جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ریفرنس پر کارروائی روکنے کی بھی استدعا کی گئی تاہم اس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کہ فوری طور پر کارروائی روکنے کا حکم نہیں دے سکتے۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی کی طرف سے سپریم جوڈ یشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے ، جبکہ سپریم کورٹ نے کیس لارجر بنچ کے سامنے لگانے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے درخواست پر فیصلے تک ٹرائل روکنے کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

جسٹس شوکت

مزید : علاقائی