پبلک اکاؤنٹس کمیٹی واپڈا اور ای او بی آئی میں اربوں کی مالی بے ضابطگیوں پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی واپڈا اور ای او بی آئی میں اربوں کی مالی بے ضابطگیوں پر سر ...

اسلام آباد (آئی این پی)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی واپڈا او ر ای او بی آئی میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی،نولانگ ڈیم منصوبے پر واپڈا حکام نے بریفنگ کے دوران انکشاف کیا کہ 11 ارب روپے لاگت کا منصوبہ 26 ارب 54 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے،منصوبے کا پی سی ون 2009 میں منظور ہوا، 2016 تک دو بار نظرثانی کی گئی، تین بار ٹینڈر جاری ہوئے لیکن فنڈز نہ ہونے کے باعث تعمیر شروع نہ ہوسکی، ایشیائی ترقیاتی بینک نے فنڈز کی پیشکش کی تاہم ڈیزائن سمیت منصوبے کے کئی پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وزارت خزانہ اور وزارت توانائی نے بلنڈر کیا ہے ، کمیٹی نے استفسار کیا کہ نولانگ ڈٖیم کے حکومت کی جانب سے جاری کردہ 2ارب روپے کے متعلق پیسے کونسے بنک میں رکھے گئے ہیں ،کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھے گئے ہیں یا سیونگ اکاؤنٹ میں، جس پر چیئرمین واپڈا نے جواب دینے سے گریز کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ 400 ملین روپے کہاں خرچ ہوئے یہ پوچھیں گے۔ کمیٹی نے سابق سیکرٹری پانی و بجلی اور سابق چیئرمین واپڈا کو ڈھونڈھنے کے احکامات جاری کئے۔کمیٹی نے نولانگ ڈیم پر مکمل تفصیلی رپورٹ بارہ دن میں طلب کرلی۔ سیکرٹری ترقی و منصوبہ بندی اور سیکرٹری خزانہ کو بھی طلب کرلیا ہے۔ ای او بی آئی حکام نے انکشاف کیا کہسابق چیئرمین ای او بی آئی ظفر گوندل ای او بی آئی سکنڈل میں ملوث تھے۔ معاملے کی انکوائری کرائی گئی جس میں منصوبے کے پی سی ون بھی نہیں بنائے گئے تھے چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ مزدوروں کے پیسوں پر کسی کو ڈاکہ مارنے نہیں دیں گے غلطی کو سدھاریں اور اگر ظفر گوندل نے کیا ہے تو پیسے وصول کریں اور سزا دیں ظفر گوندل ایک حصہ ہے دوسرا حصہ بھی ہے جس نے پیسے روکے وہ بھی ذمہ دارہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ 2009 میں 12ارب کا ٹینڈر کیا وہ کینسل ہوگیا اس کے بعد 38ارب کے ٹینڈر کئے گئے۔ اے ڈی بی سے اس کا کوئی تعلق ہیں تھا دوسرا ٹینڈر 16 ارب سے زائد کا ہوا تیسرا ٹینڈر ہوا اور اس سے لاگت میں اضافہ ہوا۔ یہ بتایا جائے کہ اس میں یہ ٹھیکہ کس کو دیا گیا جس پر وزارت حکام نے جواب دیا کہ ڈیسکان نامی فرم کو دیا گیا۔کمیٹی نے استفسار کیا کہ 2009 میں یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا کیا اس پر کام ہوا ہے ؟جس پر وزارت حکام نے بتایا کہ اس پر کام شروع نہیں ہوا جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہئے۔ وزارت حکام نے بتایا کہ دو ارب کے فنڈز ملے تھے اور 78کروڑ سے زائد کچھی کینال کے منصوبے پر لگا دیئے جس پر کمیٹی نے کہا کہ کس سے اجازت لی گئی ایک منصوبے کے پیسے دوسرے پر لگا دیئے گئے وزارت ترقی و منصوبہ بندی حکام نے بتایا کہ چار سال میں فنڈز واپس نہیں کئے گئے۔ 2.37 ارب روپے میں سے 433ملین روپے لگ چکے ہیں۔ کمیٹی نے استفسار کیا کہ پیسے کونسے بنک میں رکھے گئے ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھے گئے ہیں یا سیونگ اکاؤنٹ میں رکھے گئے ہیں جس پر چیئرمین واپڈا نے جواب دینے سے گریز کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ 400 ملین روپے کہاں خرچ ہوئے یہ پوچھیں گے کیونکہ یہ واپڈا کا پیسہ نہیں بلکہ حکومت کا پیسہ نہیں ہے۔ 17ارب روپے چوری میں جاتے ہیں اور 200 ارب ٹیکنیکل غلطیوں میں جاتے ہیں۔ واپڈا کی غلطیاں ہیں تو اس کو مانیں کمیٹی چیئرمین نے سوال کیا کہ دو ارب روپے نجی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں کیوں رکھے گئے ہیں ان دو ذمہ داروں کے نام بتائے جائیں جنہوں نے یہ پیسے بینک میں رکھے۔ پی اے سی کو جواب دیں ہم کوئی ایسا سوال نہیں کررہے جس کا جواب نہ ہو چیئرمین واپڈا نے کہا کہ اس پر کہا کہ اگلے اجلاس میں اس پر بریفنگ دیں گے جس پر کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ آج اگر بریفنگ نہیں دی تو کب دیں گے ہم روزانہ بریفنگ نہیں لے سکتے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ سے پوچھا کہ آپ کو اس بارے میں علم ہے کہ نہیں جس پر وزارت خزانہ نے جواب دیا کہ ہم اس سلسلے میں رپوٹ لیتے ہیں جس پر کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ یہ وزارت خزانہ اور وزارت توانائی نے بلنڈر کیا ہے کمیٹی رکن سردار عاشق گوپانگ نے کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں ب لکہ درست جواب دیں۔ کمیٹی رکن محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اربوں روپے بنک میں پڑے ہیں وزارت خزانہ‘ آڈیٹر جنرل ان کو بھی پتہ نہیں چلا۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے این او سی جاری کردیا ہے اس کی ڈیزائننگ مکمل کرلی گئی ہے کمیٹی رکن عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ کام شروع نہیں ہوا اور سالانہ پانچ سے سات کروڑ میں خرچ کئے جاتے ہیں۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ چار سوال پوچھے گئے ہیں ان کا تفصیلی جواب دیا جائے گا ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان نے بتایا کہ ہم نے این او سی جاری کردیا ہے کمیٹی نے پوچھا کہ این او سی زبانی ہے یا تحریری جس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے جواب گول کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر دو ارب سے زائد لون کا بوجھ ڈالا جارہا ہے انہوں نے اعتراف کیا کہ این او سی کوئی نہیں ہے جب تک لون کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کن بنکوں میں پیسہ رکھا گیا اور اس میں بدعنوانی ہوئی ہے جس پر چیئرمین واپڈا جواب دینے سے قاصر نظر آئے۔ کمیٹی نے سابق سیکرٹری پانی و بجلی اور سابق چیئرمین واپڈا کو ڈھونڈھنے کے احکامات جاری کردیئے اور کہا کہ ان کو ڈھونڈا جائے اور کمیٹی میں حاضر کیا جائے اور کمیٹی نے نولانگ ڈیم پر مکمل تفصیلی رپورٹ بارہ دن میں طلب کرلی۔ سیکرٹری ترقی و منصوبہ بندی اور سیکرٹری خزانہ کو طلب کرلیا۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ تیس کروڑ روپے خرچ کرکے سندھ میں منصوبہ بند کیا گیا اجلاس میں ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوٹ کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پراپرٹی خریدنے کی مد میں چالیس کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی کمیٹی نے کہا کہ کرپشن کی ذمہ داری کس پر ڈالوں خورشید شاہ نے کہا کہ 2007 میں شروع ہونے والے منصوبے کا افتتاح 2011 میں کیا گیا تھا ای او بی آئی حکام نے بتایا کہ ہیڈ آفس کراچی میں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ای او بی آئی حکام نے چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کو کہا کہ اس کا آپ کو بہتر پتہ ہوگا جس پر کمیٹی رکن شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ یہ تو اہم جواب ہے جناب چیئرمین آپ کو پتہ ہوگا جس پر کمیٹی کشت زعفران بن گئی۔ چیئرمین خورشید شاہ نے کہا کہ سرینا ہوٹل اور دوسرے کاموں میں چار سال میں پیسے نہیں جاری کئے ساڑھے پانچ ارب روپے دو ٹاورز پر خرچ کئے گئے آٹھ ارب روپے کا منصوبہ اب بارہ ارب خرچ ہونگے اس کا کون ذمہ دار ہے بیدردی کی انتہا ہوتی ہے کون چار ارب روپے بھرے گا 2009 میں منصوبہ شروع کیا گیا 2011 میں مکمل ہونا تھا مگر ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ سیکرٹری ای او بی آئی نے کمیٹی میں بتایا کہ جتنے منصوبوں میں تاخیر ہورہی ہے ان کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے پانچ ارب روپے خرچ ہوگئے ہیں پتہ نہیں اس کا فائدہ بھی ای او پی آئی کو ہوگا یا نہیں ای او بی آئی حکام نے انکشاف کیا چھ ارب روپے سے یہ منصوبہ شروع کیا گیا اور اب اس کی لاگت بارہ ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے سوال کیا کہ اس وقت کون ذمہ دار تھا جس پر ای او بی آئی حکام نے بتایا کہ سابق چیئرمین ای او بی آئی ظفر گوندل ای او بی آئی سکنڈل میں ملوث تھے۔ معاملے کی انکوائری کرائی گئی جس میں منصوبے کے پی سی ون بھی نہیں بنائے گئے تھے چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ مزدوروں کے پیسوں پر کسی کو ڈاکہ مارنے نہیں دیں گے گر ظفر گوندل نے کیا ہے تو آپ سے پیسے وصول کریں اور سزا دیں ظفر گوندل ایک حصہ ہے دوسرا حصہ بھی ہے جس نے روکا وہ بھی ذمہ دارہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ 2006 میں ساڑھے چار سو پلاٹ لئے ہیں وہ اب تک الاٹ نہیں ہوئے کورٹ کیسز کو چھوڑیں اس کے علاوہ جو چیزیں وہ بتائیں، عارف علوی نے کہا کہ اس پر نیب نے کارروائی نہیں کی کیا؟ شفقت محمود نے کہا کہ جو آتا ہے لوٹ مار کرتا ہے اور چلا جاتا ہے ملوث افراد ضمانتیں کرواتے ہیں کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ ایک کنال کے دو گھروں کی کنسلٹنسی فیس کی مد میں ایک کروڑ اسی لاکھ روپے ادا کئے گئے ای او بی آئی نے کیس ایف آئی اے کو بھیج دیاہے کمیٹی نے ٹوٹل ریکوی کی تفصیلات اور پنشن سمیت انڈسٹریل مزدوروں کو کتنا پیسہ اور سٹاک ارکیٹ میں سرمایہ کاری اور 2008 سے اب تک ملازمین کتنے ہیں؟

پی اے سی

مزید : علاقائی