خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

لاہور(نامہ نگار خصوصی )منشیات کی تلاشی کے نام پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیاہے۔جسٹس انوارالحق نے اس سلسلے میں صفدر شاہین پیرزادہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست پردرخواست گزار کو ہدایت کی کہ جس تھانہ کی حدود میں یہ واقعہ پیش آیا اس تھانے کا تعین کرکے متعلقہ ایس ایچ او کو بھی درخواست میں فریق بنایا جائے ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے منشیات کی تلاشی کے نام پر خاتون کو برہنہ کیا اور پھر اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دی، خاتون کو سرعام برہنہ کرکے تلاشی لینے کی کسی بھی قانون میں اجازت نہیں، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر آئی جی اور ڈی جی ایف آئی اے نے اس واقعے کا کوئی نوٹس نہیں لیا، اس نوعیت کے واقعات کو اگر نہ روکا گیا تو مستقبل میں مزید واقعات پیش آسکتے ہیں، جس خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے وہ پوری دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے سمیت تمام ذمہ د اروں کے خلاف کارروائی کرے جس پر عدالت نے کہا کہ تھانے کی حدود کا تعین کئے بغیر نوٹس نہیں کئے جا سکتے، عدالت نے تھانے کی حدود کا تعین کرنے کی ہدائت کرتے ہوئے مزید سماعت 3نومبر تک ملتوی کر دی۔

Back to Conv

مزید : علاقائی