ایران کی القاعدہ کو مالی امداد ، اسلحہ فراہمی کا انکشاف

ایران کی القاعدہ کو مالی امداد ، اسلحہ فراہمی کا انکشاف

واشنگٹن( اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) کالعدم تنظیم القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن نے اپنی ایک یادداشت میں مبینہ طور پر لکھا تھا ایر ا ن نے اس کے کچھ سعودی کارکنوں کو ہر وہ امداد فراہم کی تھی جس کی انہیں ضروت تھی جس میں نقد رقم اور اسلحے کی فراہمی کیساتھ ساتھ لبنان میں حزب اﷲ کے کیمپوں میں تربیت بھی شامل تھی۔ پہلی مرتبہ یہ انکشاف ان 19صفحات کے ذریعے منظر عام پر آیا ہے جو سی آئی اے کی طر ف سے بدھ کے روز جاری ہونیوالی تقریبا 47ہزار دستاویزات میں شامل تھے۔ اسامہ بن لادن نے لکھا ہے ایران توقع رکھتا تھا اس ا مد اد کے بدلے میں ہم سعودی عرب میں اپنے مشترک دشمن امریکہ کی تنصیبات کو نشانہ بنائینگے ۔ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپا ؤ نڈ پر حملے ا و ر القاعدہ سربراہ کی ہلاکت کے بعد وہاں سے جو دستاویزات حاصل کی گئی تھیں، سی آئی اے نے ان کی چوتھی قسط بدھ کے روز اپنی ویب سا ئٹ پر جاری کی اور "تکنیکی وجوہات"واشنگٹن کے سکیورٹی تھنک ٹینک "فاؤنڈیشن فار ڈیفنس ڈیمو کریسیز"کے جریدے "لانگ وار جرنل"کو دستاویزات کی ایک نقل فراہم کی تھی۔ دستاویزات ، تصاویر، آڈیوز ، ویڈیوز ارو دیگر کمپیوٹر فائلز پر مبنی موار کی پہلی قسط مئی 15 ء د و سری قسط مارچ16ء اور تیسری قسط امسال جنوری میں جاری ہوئی تھی۔ حالیہ جاری کردہ مواد میں اسامہ بن لادن کے ہاتھ سے لکھی ہوئی 228صفحات کی ڈائری بھی شامل ہے۔ جن میں سے19صفحات ایران کے بارے میں ہیں۔امریکی انٹیلی جنس حکام اور پراسیکیوٹرز طو یل عرصے سے یہ الزام لگاتے چلے آرہے ہیں ایران نے 1991ء کے بعد القاعدہ سے تعلقات قائم کئے تھے جس کی ایران تردید کرتا رہا ہے ۔ ڈائری کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے اسامہ نے مبینہ طور پر لکھا تھا "جو کوئی بھی ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہے ایران ایک بے تلکلفانہ اور واضح بیانئے کیساتھ اس کی مدد اور حمایت کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتا ہے۔ یاد رہے نائن الیون کے بارے میں امریکی حکومت کے کمیشن کی تحقیقات میں بھی یہ بتایا گیا تھا 1991یا1992کے آغاز میں ایران کے حکام کی القاعدہ کے لیڈروں کیساتھ سوڈان میں ملاقات ہوئی تھی اور حزب اﷲ کے کیمپوں میں القاعدہ کے شدت پسندوں کو تربیت دی گئی تھی۔ایران کے بارے میں اسامہ کی تحریر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے نا ئن الیون کے سانحے سے قبل ایران القاعدہ کے جنگجوؤں کو کھلے دل کیساتھ سفری سہولتیں فراہم کرتا تھا۔ ان کو ایران کے اندر سے پاسپورٹ پر مہر لگوائے بغیر گزرنے دیا جاتا تھا یا انہیں کراچی میں ایران کے قونصل خانے سے بڑی آسانی سے ویزا جاری کر دیا جاتا تھا اس طرح القاعدہ کے کارکنوں پر سعودی حکومت کو زیادہ شبہ نہیں ہوتا تھا۔ اس دستاویز کے مطابق القاعدہ کے ایران کے انٹیلی جنس ایجنسی کیساتھ تعلقا ت بھی تھے۔ اسامہ بن لادن نے اپنی ڈائری میں مبینہ طور پر یہ بھی لکھا ہے "نائن الیون کے بعد ایران نے القاعدہ کے کچھ لیڈروں کو گھر و ں پر نظر بند بھی کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ 2003میں عراق پر امریکہ کے حملے کی وجہ سے ایران بھی دباؤ میں آگیا تھا کیونکہ اسوقت عراق میں القاعدہ فروغ رہی تھی۔ ایران ہمارے ساتھیوں کو بطور کارڈ اپنے قبضہ میں رکھنا چاہتاتھا"لانگ وارجزنل"نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے یہ بات بعد میں اسوقت درست ثابت ہوئی جب 2015میں یمن میں القاعدہ کی مقامی شاخ نے ایرانی سفارتکاروں کو پکڑ لیا تو اسوقت کی رہائی کیلئے القاعدوں کے ایران کے پاس قید القاعدہ کے کارکنوں کو چھوڑ دیا گیا ۔

انکشاف

مزید : علاقائی