" اعتزاز اور نواز"

" اعتزاز اور نواز"

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے مریم نواز کے انداز سیاست کی تعریف کرکے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا سیاسی حلقوں میں ان کے بیان کی تشریحات ہونے لگیں۔ چوہدری صاحب کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ایک ایسے وقت میں پارٹی کو فرنٹ لائن سے لیڈ کیا جب چوہدری نثار اور شہبازشریف مصالحت کے نام پر پارٹی کو سیاسی لحاظ سے ایک کونے میں دھکیل رہے تھے۔ اور مریم نے اپنی سیاست سے پارٹی کو اس کونے سے باہر نکالا۔ اس میں شک نہیں کہ اسٹببلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مسلم لیگ میں اس وقت واضح طور پر دو دھڑے بن چکے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ جو لوگ چوہدری نثار والے "فاختائی" نظرئے سے متفق ہیں انہیں تو اس میں اعتزازاحسن کی چوہدری نثار سے دیرینہ مخاصمت جھلکتی نظر آئی اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اعتزازاحسن کا بیان بہت سوچی سمجھی چال ہے اور وہ نون لیگ کو اسٹبلشمنٹ سے لڑوانا چاہتے ہیں۔ جبکہ میاں نوازشریف کے جارحانہ انداز سیاست کی پیروی کرنے والے نون لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کو اعتزازاحسن کا بیان بہت بھایا ہے ، اسی لئے پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء4 اللہ نے بھی اسے مثبت قراردیا اور کہا کہ اعتزازاحسن نے یہ بات ایک تجزئے کے طور پر کی ہے جو کہ درست ہے۔

چوہدری اعتزازاحسن بہرحال ہیں بڑے کمال کے بندے ،،،،، اگران کے قدردان ان کی سیاسی دانش کے معترف ہیں تو وہ جب لب کشائی کرتے ہیں تو ان کے ناقدین بھی اسے غور سے سنتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے ہمیشہ سیاست میں اپنے معیار خود مقرر کئے، مریم نواز کے بارے میں ان کے بیان سے اگرچہ ایک نئی بحث شروع ہوئی لیکن اس بحث کا ایک طویل پس منظر ہے۔ جس میں ان کے مسلم لیگ نون یعنی میاں نوازشریف سے تعلقات کی دلچسپ تاریخ پر اگرایک نظر ڈال لیں تو یہ بیان اور بھی لطف دے گا۔ بنیادی طور پر پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما ہونے کے باوجود اعتزازاحسن کئی بار نون لیگ کے قریب بھی رہے، جنرل پرویز مشرف کے دور میں بعض ایشوز پر ان کے بینظیر بھٹو سے بھی فاصلے پیداہوگئے اور انہوں نے میاں نوازشریف سے لندن میں انفرادی حیثیت میں ملاقات کی اگرچہ بینظیر بھٹو ان کے روابط پر بہت خوش نہ تھیں لیکن چوہدری اعتزازاحسن نے نوازشریف کو ان کے اس برے وقت میں بھی قانونی معاونت فراہم کی۔ اس کے نتیجے میں 2002 کے الیکشن میں میاں نوازشریف نے این اے 124 میں ان کے خلاف پارٹی امیدوار کھڑا نہ کیا اور انہیں پیپلزپارٹی اورنون لیگ کا مشترکہ امیدوارقراردیا گیا۔ اگرچہ مقامی طور پر مسلم لیگ نون نے نوازشریف کے اس فیصلے کو دل سے تسلیم نہ کیا اور تمام لیگی ووٹ ایم ایم اے کے امیدوار کو دلوائے گئے جس کی وجہ سے چوہدری اعتزازاحسن شکست سے بال بال بچے اور چند ہزار ووٹوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔

ججز بحالی کی تحریک میں اعتزازاحسن ایک بار پھر نون لیگ کے قریب آگئے، وہ ججز کی بحالی کے اپنے موقف پر اس قدر غیرمتزلزل رہے کہ انہوں نے اسی دوران 2008 کے انتخابات میں پارٹی پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے سے بھی انکار کردیا۔ اعتزازاحسن نے افتخار چودھری سمیت تمام برطرف ججز کی بحالی کے لئے جنرل پرویزمشرف کے خلاف چلائی جانے والی اپنی تحریک کا رخ مشرف کی رخصتی کے بعد اپنی پارٹی کی حکومت کی طرف موڑدیا۔پارٹی سربراہ اورملک کے صدر آصف علی زرداری سے ان کے تعلقات کشیدگی کی حد تک خراب ہوگئے۔نوازشریف اور وہ ایک بار پھر ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوگئے، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میاں نوازشریف کو ججز بحالی کی سیاست میں جب پیپلزپارٹی کے اندر سے اتنا بڑا کندھا مل گیا تو وہ جلاوطنی کی طویل غیر حاضری کے بعد ایک بار اسی تحریک کی بنیاد پرملکی سیاست میں دوبارہ زندہ ہوگئے۔

نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ افتخار چوہدری کو بحال کروانے کے لئے چوہدری اعتزاز احسن ،میاں نوازشریف کی گاڑی میں سوار ہوگئے اور اپنی ہی پارٹی کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرڈالا جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے ججز کو بحال کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں افتخارچوہدری نے جو اندازاختیار کیا اس پر چوہدری اعتزازاحسن کو اپنی پارٹی سے بڑے طعنے سننے کو ملے۔

لیکن ججز بحالی کے بعد اعتزازاحسن اور نوازشریف میں پھر فاصلے پیداہوگئے اور یہ فاصلے اختلافات کی صورت تب اختیار کرگئے جب 2013 کے انتخابات میں این اے 124 میں ان کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز کو شکست ہوئی۔اعتزازاحسن کو رنج شکست پر نہیں بلکہ حلقے میں ہونے والی مبینہ دھاندلی پر ہوا۔ اور انہوں نے دھاندلی کے خلاف ایک وائٹ پیپرجاری کیا۔ پھر چوہدری نثار نے ان کے بارے میں بیانات دے کر انہیں نوازشریف سے مزید دور کر دیا جس کے بعد اعتزازاحسن نے پچھلے چار سال کے دوران نوازشریف اور ان کے معتمد ساتھی چوہدری نثار پر شدید تنقید کی ہے اور وہ نیب ریفرنسز میں نوازشریف اور ان کی فیملی کے خلاف سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں

چوہدری اعتزازاحسن کے حالیہ غیر متوقع بیان پر سیاسی حلقے چونک گئے ہیں کہ اب پھر کیا نیا ہونے والا ہے ، کیا یہ بیان واقعی پیپلزپارٹی کی طرف سے نواز شریف کو اسٹبلشمنٹ سے لڑانے کی کوئی چال ہے یا اعتزازاحسن پھر نوازشریف کے قریب ہورہے ہیں،

لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو چوہدری صاحب نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں داغا ہے جب میاں نوازشریف پر ان کی پارٹی کے اندر چوہدری نثار کی قیادت میں ارکان کی ایک بڑی تعداد قیادت سے علیحدگی اختیار کرنے پردباؤ ڈال رہی ہے، اور اگر نوازشریف ان کی یہ بات مان کر بیرون ملک بیٹھ جائیں، ملک میں ان کی پارٹی کی آئندہ حکومت بھی بن جائے تو اس کے باوجود ان کی اپنی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی۔ نوازشریف خود اقتدار سے محروم ہوچکے ہیں، نااہلیاں اور سزائیں سیاست میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ لیکن ان کی سیاسی اہمیت اسی میں باقی رہے گی کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے بطور پارٹی سربراہ اپنا کردار یقینی بنائے رکھیں۔ اس امر کا اندازہ خود میان نوازشریف کو بھی ہے۔ چوہدری اعتزازاحسن کے اس اہم موقع پر بیان نے نوازشریف کو اپنے موقف اور اپنی سیاست میں اپنی پارٹی کے اندر مضبوط کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ججز بحالی تحریک کی طرح اعتزازاحسن کا یہ بیان ایک بار پھر نوازشریف کو ملکی سیاست اور بالخصوص اپنی پارٹی کی اندرونی سیاست میں مضبوط کرگیا ہے۔ اور انہوں نے بہت سوں کے کھیل کو خراب کردیا ہے۔

مزید : کالم