حاضری سے استعفیٰ کی درخواست مسترد،اسحٰق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار،8نومبر کو پیش ہونے کا حکم

حاضری سے استعفیٰ کی درخواست مسترد،اسحٰق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے ملزم کے ضمانتی کو حکم دیا ہے کہ وہ آٹھ نومبر کو اسحاق ڈار کو عدالت میں پیش کریں۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے ریفرنس کی سماعت کی تو ملزم کی وکیل عائشہ حامد نے اپنے مؤکل کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا اور عدالت میں اسحق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی۔ وفاقی وزیر خزانہ کی وکیل نے کہا کہ اْن کے مؤکل لندن میں زیر علاج ہیں اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق ’وہ چار منٹ سے زیادہ دیر تک پیدل نہیں چل سکتے‘۔ اْنھوں نے کہا کہ اسحق ڈار کے سینے پر بوجھ ہے اور تین نومبر کو اْن کی انجیوگرافی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اْن کے مؤکل عدالت میں پیش نہیں ہوسکے جبکہ آئندہ سماعت پر ملزم کے پیش ہونے کے بارے میں عدالت کو بھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے اس میڈیکل رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے استدعا کی کہ ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔استغاثہ ٹیم نے کہا کہ ملزم اسحق ڈار کی یہ میڈیکل رپورٹ ایک نجی ہسپتال کی ہے جس میں بیماری کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔نیب کی پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ مظفر عباسی نے موقف اختیار کیا کہ میڈیکل رپورٹ بھجوانے کا بھی ایک طریقہ ہے اور ملزم براہ راست اپنی ٹیم کو میڈیکل رپورٹ نہیں بھجوا سکتا۔وفاقی وزیر خزانہ کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے اْن کے موکل عدالت میں پیش نہیں ہوسکے اس پر عدالت نے نیب کی ٹیم سے استفسار کیا کہ میڈیکل رپورٹ بھجوانے کا کیا طریقہ ہے۔ نیب کی پراسیکیوشن ٹیم نے جواب دیا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے توسط سے یہ رپورٹ بھیجی جاسکتی تھی۔عدالت نے نیب کی طرف سے اسحق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔نیب کے چیئرمین کی طرف سے وفاقی وزیر خزانہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست پر دلائل دیتے ہوئے اسحق ڈار کی وکیل نے کہا کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار چیئرمین نیب کے پاس تھا لیکن اب ایسا کرنا غیر قانونی ہے۔عائشہ حامد نے کہاکہ 'ہجویری ہولڈنگ کے بینک اکاؤنٹس میں 232 روپے ہیں جبکہ دوسرے اکاؤنٹ میں دس روپے موجود ہیں۔'ان کے مطابق اسحق ڈار کے ایک نجی اکاؤنٹ میں 1990 روپے ہیں جبکہ وفاقی وزیر خزانہ کے ذاتی اکاؤنٹ جس میں اْن کی تنخواہ اور دیگر مراعات جاتی ہیں دو کروڑ روپے ہیں۔نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین نیب کے پاس صرف 15 دن کیلئے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار ہے۔اْنھوں نے استدعا کی کہ عدالت ملزم کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دے۔

اسحق ڈار/ وارنٹ برقرار

مزید : کراچی صفحہ اول