خواتین پر چھرے سے حملے،متحدہ کی تحریک التواء پر بحث

خواتین پر چھرے سے حملے،متحدہ کی تحریک التواء پر بحث

کراچی (اسٹاف رپورٹر )خواتین پر چھرے سے حملے کے حوالے سے جمعرات کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو نے تحریک التواء پیش کی ۔ وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے ایوان میں ڈی آئی جی پولیس ایسٹ زون کراچی کی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ پولیس نے ایسے واقعات کے سدباب کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔ کافی دنوں سے ایسے واقعات رونما نہیں ہوئے ہیں ۔ ہیر اسماعیل سوہو نے اپنے تحریک التواء میں کہا کہ کراچی کے ضلع شرقی میں خواتین پر چھرے سے حملے کے متعدد واقعات میں شہر میں خوف وہراس کی فضاء پھیلا دی ہے اور خواتین شہر میں خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور ابھی تک نہیں پکڑا گیا ۔ وہ جب اور جس پر چاہتا ہے ، حملہ کر دیتا ہے ۔ حکومت سندھ اور پولیس کے اقدامات سے لوگ مطمئن نہیں ہیں ۔ قائم مقام اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے ہیر اسماعیل سوہو کی تحریک التواء خلاف ضابطہ قرار دے دی ۔ وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے ڈی آئی جی ایسٹ کراچی کی جو رپورٹ ایوان میں پیش کی ، اس میں بتایا گیا کہ چھرا مارنے کے واقعات میں کل 13 خواتین کو کراچی میں نشانہ بنایا گیا ۔ ان میں سے 7 واقعات تھانہ شاہراہ فیصل ، 2 واقعات تھانہ گلستان جوہر اور ایک واقعہ تھانہ پی آئی بی کالونی میں رپورٹ ہوا ۔ دو واقعات تھانہ عزیز بھٹی اور ایک واقعہ تھانہ گلشن اقبال کی حدود میں رونما ہوا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کو چھرا مارنے کے اسی طرح کے 19 واقعات راولپنڈی میں رونما ہوئے ، جن میں دو خواتین قتل ہو گئیں جبکہ باقی زخمی ہیں ۔ حملہ آور نے وہاں خواتین پر آگے سے حملہ کیا ۔ وہاں ایک ملزم محمد علی کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ذہنی طور پر بیمار ہے ۔ اسی طرح کے 31 واقعات ساہیوال اور اس کی تحصیل چیچہ وطنی میں بھی رونما ہوئے ۔ ان واقعات میں سرخ رنگ کی ہنڈا سی ڈی 70 موٹرسائیکل استعمال ہوئی ۔ حملہ آور نے اپنا بایاں ہاتھ استعمال کیا اور اس نے کی خواتین کی پشت اور کولہوں پر حملے کیے ۔ حملے کے اوقات شام 7 سے رات 12 بجے تک تھے ۔ حملے میں سرجیکل بلیڈ استعمال کیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساہیوال اور کراچی کے واقعات میں بہت سی باتوں میں مشابہت ہے ۔ حملہ آور کی عمر قد اور وزن میں مشابہت ہے ۔ کراچی میں بھی خواتین کو پشت اور کولہوں پر زخم آئے ۔ واردات کا طریقہ کار بھی یکساں ہے ۔ ساہیوال میں بھی کراچی کی طرح حملہ آور نے رات کی تاریکی میں ویران گلیوں میں حملے کیے اور حملے میں ہتھیار بھی ایک جیسے ہیں ۔ ساہیوال کے حملوں میں ملوث ملزم وسیم کی گرفتاری کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی کی سربراہی میں پولیس کی ایک خصوصی پارٹی ساہیوال روانہ کی گئی تھی اور وہاں کی پولیس کے ساتھ مل کر بالآخر 15 اکتوبر 2017 کو منڈی بہاء الدین کے علاقے سے وسیم کو گرفتار کر لیا گیا ۔ وسیم سے کراچی کی پولیس بھی تحقیقات کر رہی ہے ۔ کراچی میں بھی ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ ڈی آئی جی پولیس ایسٹ زون کراچی اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کر رہے ہیں ۔ پولیس کی انویسٹی گیشن برانچ ، انٹیلی جنس کے ادارے اور ٹیکنیکل ماہرین مسلسل ملزم کی گرفتاری کے لیے مصروف عمل ہیں ۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول