وزیر اعلیٰ کی سوات موٹروے کی بروقت تکمیل اور دن رات شفٹوں میں کام آگے بڑھانے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ کی سوات موٹروے کی بروقت تکمیل اور دن رات شفٹوں میں کام آگے بڑھانے ...

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سوات موٹروے کی بروقت تکمیل کیلئے دن رات کی شفٹوں میں تعمیراتی کام آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے ، انہوں نے شاہراہ میں حائل ہائی ٹرانسمشن لائنیں فوری ہٹانے، پہاڑوں کی کٹائی، سرنگوں کی ڈرلنگ و لائننگ ، دونوں اطراف پر مسافروں کیلئے آرام گاہوں مساجد و دیگر سہولیات پر کام تیز کرنے کے علاوہ سکیورٹی کا موثر بندوبست کرنے نیز گاڑیوں اور سکیورٹی عملے کی تقرری کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں زیر تعمیر سوات موٹر وے اور سی پیک منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق اجلاسوں کی صدارت کر رہے تھے اس موقع پر وزیراعلیٰ کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان، سیکرٹری مواصلات انجینئر محمد آصف خان کے علاوہ خیبر پختونخواہائی ویز اتھارٹی ، فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن ، این ایل سی ، واپڈا، سوئی گیس اور دیگر متعلقہ صوبائی اور وفاقی اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔حکام نے بتایا کہ موٹروے کیلئے کرنل شیر انٹرچینج سے چکدرہ تک اراضی کی خریداری سو فیصد مکمل ہو چکی ہے ، ترقیاتی کام بھی جاری ہے ، راستے میں آنے والی ہائی ٹرانسمیشن لائنیں ہٹائی جارہی ہیں جبکہ1200 میٹر لمبی دوہری سرنگوں پر شمالی اور جنوبی دونوں اطراف سے کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ایکسپریس وے سے گزرنے والے سات انٹر چینجز کیلئے مقامات کا تعین اور اراضی کا حصول بھی مکمل ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ منصوبے کو پانچ پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے اور پانچوں پر تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے۔ اگلے دو مہینے تک کرنل شیر انٹر چینج سے کاٹلنگ تک موٹر وے ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی پہاڑی علاقے میں سرنگوں کی کھدائی کاکام بھی دن رات جاری ہے اورکوشش کی جارہی ہے کہ 81 کلومیٹر موٹر وے کو وقت مقررہ پر چکدرہ تک ٹریفک کی آمد ورفت کے لیے کھول دیا جائے گا ۔وزیر اعلیٰ نے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیلئے درکارتقریباً12 کروڑ روپے کی متعلقہ وفاقی ادارے کو ادائیگی کے انتظامات کی ہدایت بھی کی اور واضح کیا کہ 35ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر سوات ایکسپریس موٹر وے صوبائی حکومت کا اپنا منصوبہ ہے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ منصوبہ اگلے سال مارچ میں مکمل ہوجائے گا جس سے ملاکنڈ اور شمالی علاقہ جات میں سیاحت اور کار وبار کونمایاں فروغ ملے گا ۔ موٹر وے کو مینگورہ تک توسیع دینے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے اور جلد معاہدہ ہوجائے گا ۔ سیاحت کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا میں 14 صحت افزا مقامات کا چناؤ کیا گیا ہے جس کے لئے چین اور ایف ڈبلیو او کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدوں پر بات چیت جاری ہے تاکہ صوبے میں سیاحت کی صنعت کوفروغ ملے۔انہوں نے ایف ڈبلیو او کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ وعدے کے مطابق منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنائیں ۔اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جو اپنے وسائل سے سوات موٹر وے اور پشاور ریپڈ بس جیسے میگا پراجیکٹس تعمیر کررہا ہے وفاقی حکومت ہمارا ساتھ دے یا نہ دے ہم اپنا کام جاری رکھیں گے ۔اُنہوں نے کہا کہ سوات موٹر وے ، ہزارہ موٹر وے، گلگت شندور چترال شاہراہ اور پشاور تا ڈی آئی خان ایکسپریس موٹر وے سے پورا صوبہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے کھل جائے گا جس سے صوبہ ترقی کرے گا اور عوام خوشحال ہوں گے ۔پرویز خٹک نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صوبے پر قرضوں کا بوجھ نہ پڑے اس لیے ہم بی اوٹی کی بنیاد پر بننے والے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے سیاحت کے شعبے میں صوبے میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے دس تا چودہ نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی ہے ہم اپنے ساتھ یہ منصوبے چین بھی لے کرگئے تھے جس میں بیرونی سرمایہ کاروں نے بہت دلچسپی لی ہے اور ان پر ایف ڈبلیو او سے بھی بات چیت کررہے ہیں تاکہ انہیں ترقی دے کر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے پر کشش بنا سکیں دنیا میں بہت سارے ایسے ممالک ہیں جہاں سیاحت کے شعبے سے سالانہ اربوں ڈالر کمائے جاتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرمایہ کار خیبر پختونخو ا میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں اور کئی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدے بھی ہوچکے ہیں اسی طرح ہمارے ساتھ چین جانے والے انوسٹرز نے بھی اپنے طورپر چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ نجی سطح پر ایک ارب ڈالرکے معاہدے کیے ہیں ۔اُنہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں پر بھی زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھر پور فائدہ اُٹھائیں ۔ سی پیک کی وجہ سے دُنیا بھرکے ممالک خیبرپختونخوا کا رخ کررہے ہیں جس میں امریکہ،کینڈا اور یورپ بھی شا مل ہیں خیبرپختونخوا سب کے لئے اوپن ہے۔جو مراعات چینی سرمایہ کاروں کے لیے ہیں وہی مراعات پاکستانی اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے صوبے میں دیگر ممالک نے بھی یہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی لی ہے ملائشیا سو ایکٹر اراضی پر دُنیا کی سب سے بڑی حلا ل فوڈکی انڈسٹری غازی ہری پورہزارہ میں لگارہا ہے جبکہ کینڈا کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کامعاہد ہ ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تما م معاہدے سڑکوں ریلوے ٹریکس اور کارخانے سے متعلق ہیں۔ اس مقصد کیلئے ہم نے حطار میں 2 ہزار ایکٹر اراضی مختص کی تھی جس میں ایک ہزار ایکڑ اراضی کارخانہ داروں نے خرید لی ہے اور مزیدکی فروخت کاسلسلہ جاری ہے اسی طرح رشکی انٹر چینج پر چالیس ہزار ایکڑ اراضی پر چائنا انڈسٹریل پارک تعمیر ہوگا ہم اندرون ملک سرمایہ کاروں کو بھی اتنے ہی مواقع دے رہے ہیں جتنے چینی سرمایہ کاروں کودے رہے ہیں۔ ہم نے چین میں چوبیس بلین ڈالر کے معاہدے کئے ہیں جس میں انیس سو میگا واٹ بجلی، فارسٹ ریلوئے ٹریک اور گلگت دیر چترال ایکسپریس وے شامل ہیں۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول