آئیسکو میں 90کروڑ کرپشن سکینڈل کی باز گشت پارلیمنٹ پہنچ گئی

آئیسکو میں 90کروڑ کرپشن سکینڈل کی باز گشت پارلیمنٹ پہنچ گئی

اسلام آباد ( آن لائن ) قومی اسمبلی کی احتساب کمیٹی کے اجلاس میں وزارت توانائی کے ذیلی ادارہ آئیسکو میں 90 کروڑ کرپشن(بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

کا نیا سکینڈل سامنے آیا ہے ، سکینڈل کے دستا و یز اتی ثبوت مٹانے میں اعلیٰ افسران مصروف ہیں جبکہ اعلیٰ حکام نے قومی دولت کو مزید کرپشن کی نذر سے بچانے کیلئے سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے ، سکینڈلز میں آئیسکو حکام نے بے نظیر بھٹو ائرپورٹ پر نئے ٹرانسفارمر کی تنصیب کے دوران مبینہ طورپر 49 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیاں کی ہیں جبکہ حکام نے نجی کمپنیوں سے ساز باز کرکے 25کروڑ روپے کے ناقص انرجی میٹرز خریدے ہیں اس کے علاوہ خریدے گئے 15 کروڑ کے الیکٹریکل میٹریل ہی ضائع کردیا ہے کمیٹی سے ملنے والی سرکاری دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ آئیسکو حکام نے بے نظیر بھٹو ائرپورٹ ر 132 کے وی کے گرڈ اسٹیشن کی تنصیب کے دوران مجموعی طور پر 49کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگی کی ہے اس گرڈ اسٹیشن پر فنڈز اصلی پی سی ون کی منظوری سے زائد نجی کمپنیوں کو ادا کئے گئے ہیں جن کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے دوسرے سکینڈل میں آئیسکو حکام نے صارفین کو فراہم کرنے کیلئے ساٹھ ہزار پانچ سو انرجی میٹرز خریدے تھے جو غیر معیاری اور ناقص ثابت ہوئے تھے اس خریداری پر پچیس کروڑ روپے کا نقصان قومی خزانہ کو پہنچایا گیا ہے ورلڈ بینک کی قرضہ سے خریدے گئے انرجی میٹرز کو عالمی ادارہ نے بھی ناقص قرار دے رکھا ہے اس تیسرے سکینڈل میں آئیسکو حکام نے 15کروڑ کا الیکٹریکل میٹریل خریدا تھا یہ سامان 150 سائٹ پر تنصیب ہونا تھا تاہم نہ ہی سامان تنصیب کیا گیا ہے اور نہ یہ سامان واپس سٹور کو جمع کرایا گیا ہے بلکہ یہ لوٹ مار کی نذر ہوگیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر