بلوچستان کو صحافیوں کیلئے محفوظ بنایا جائے‘ پی پی ایف

بلوچستان کو صحافیوں کیلئے محفوظ بنایا جائے‘ پی پی ایف

ملتان (جنرل رپورٹر)پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) نے حکومت پاکستان و بلوچستان اور سکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں میڈیا سے وابستہ افراد میں پائی(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

جانے والی خوف اور عدم تحفظ کی فضاء ختم کرنے کے لیے فوری قدم اٹھائیں۔میڈیا کے خلاف جرائم کی کھلی چھوٹ یا استثنیٰ کا بین الاقوامی دن ہر سال 2نومبر کو منایا جاتا ہے، اس موقع پر پی پی ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ میڈیا کارکنوں کے تحفظ کے لیے جس بل کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا ہے اس کا مسودہ ذرائع ابلاغ کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں پر عائد کرے۔ پی پی ایف نے امید ظاہر کی کہ بل میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مناسب تحقیقات کرنے اور میڈیا کارکنوں اور اداروں کے خلاف ہونے والے جرائم کی پیروی کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے پر موثر اقدامات شامل ہوں گے۔پاکستان میں آزادی صحافت پر نظر رکھنے والے سب سے پرانے ادارے پی پی ایف نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں صحافیوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں، عسکریت پسندوں، قبائلی رہنماؤں اور جاگیرداروں، یہاں تک کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کا دعویٰ کرنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے بھی مارا جاتا ہے، قتل، اغواء ، حبس بے جا، ہراساں کرنے اور دھمکانے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ میڈیا ادارے اور ان سے وابستہ افراد کو محض ہدف ہی نہیں بنایا جا رہا بلکہ ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دھمکایا بھی جا رہا ہے، انہیں دباؤ میں لایا جاتا ہے، خوف کا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں ذرائع ابلاغ کے لیے ماحول نے اکتوبر میں بدترین رْخ اختیارکر لیا ہے ، عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے الٹی میٹم کے خاتمے کے بعد 25 اکتوبر سے اب تک صحافیوں اور ابلاغی اداروں پر حملوں کے تین مختلف واقعات پیش آ چکے ہیں۔ کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس نے 13 اکتوبر کو ایک الٹی میٹم جاری کیا تھا جس میں صوبے کے میڈیا اداروں اور کارکنان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔صحافی صرف بلوچستان اور تنازعات کے شکار دیگر علاقوں میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں غیر محفوظ ہیں، جس کا اظہار 27 اکتوبر کو دن دیہاڑے چند نامعلوم افراد کی طرف سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مصروف چوراہے پر تفتیشی صحافی احمد نورانی پر قاتلانہ حملے سے ہوتا ہے۔تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ حملہ آوروں نے احمد نورانی کی گاڑی کا تعاقب کیا۔ بعد ازاں ان کی گاڑیاں کی چابیاں نکال کر پھینکیں اور انہیں اور ان کے ڈرائیور کو تیز دھار آلات سے بری طرح مارا۔ حملہ آور بعد میں انہی موٹر سائیکلوں پر فرار ہوگئے، جن پر کوئی نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی۔رواں سال کے اوائل میں 12 فروری 2017ء4 کو نجی خبری چینل سماء4 نیوز کے اسسٹنٹ کیمرا مین تیمور عباس کو نامعلوم حملہ آوروں نے چینل کی ڈجیٹل سیٹیلائٹ نیوز گیدرنگ (ڈی ایس این جی) وین پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ ٹیم پولیس پر ہونے والے ایک واقعے کی کوریج کے لیے جارہی تھی کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ 22 سالہ عباس کو سر اور سینے پر گولیاں لگیں اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسے۔ شعبہ انسداد دہشت گردی کے عہدیدار راجہ عمر خطاب نے کہا کہ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔2002ء سے اب تک میڈیا سے وابستہ افراد کے قتل کے 73 واقعات میں سے 48 ایسے ہیں جن میں انہیں ہدف کا نشانہ بنایا اور قتل کیا گیا۔ صرف پانچ کیسز میں مجرموں کو سزا ملی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے مقدمات میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ابلاغی اداروں کی عدم دلچسپی ان جرائم کی کھلی چھوٹ کی ناقابل قبول حد تک بلند شرح کا بنیادی سبب ہے۔ یہ مقدمات عدم پیروی کی وجہ سے ختم ہونے سے قبل سالوں تک عدالتوں میں پڑے سڑتے رہتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استثنیٰ کا مسئلہ اس لیے مزید گمبھیر ہے کیونکہ پاکستان میں قتل سمیت تقریباً تمام جرائم میں اگر حملہ آور یا اہل خانہ خون بہا ادا کرنے کے بعد کسی تصفیے تک پہنچ جائیں تو معاملہ ختم ہو سکتا ہے۔ پی پی ایف نے اب تک ایسے چار کیسز کو دستاویزی صورت دی ہے، جہاں عدالتی کارروائی ملزم اور مقتول کے اہل خانہ کے درمیان تصفیے کی وجہ سے ختم کردی گئی۔پی پی ایف نے ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے معاملات پر وفاقی و صوبائی سطح پر خصوصی وکیل کی تقرری کا مطالبہ کیا تاکہ صحافیوں اور ابلاغی کارکنوں کے خلاف تشدد کے معاملات کی تفتیش اور پیروی کی جا سکے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر