مصالحتی کورٹس کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ‘ سعیدا للہ مغل

مصالحتی کورٹس کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ‘ سعیدا للہ مغل

رحیم یار خان ( کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کی جانب سے صوبہ بھر میں قائم کی جانے والی مصالحتی کورٹس کے حقیقی ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

ہیں مختلف نوعیت کے مقدمات کے جلدفیصلوں میں مصالحتی کورٹ اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صرف 4ماہ کے دوران 155مقدمات جو کہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت تھے فیصلے کئے گئے اور فریقین کی رضا مندی سے صلح ہوجانے پر ختم ہو چکے ہیں جو کہ مصالحتی عدالت پر عوام کے اعتما دکا مظہر ہے ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سعید اللہ مغل نے گزشتہ روز مصالحتی عدالت میں سینئر سول جج ایڈمن شیخ فیاض حسین کے ہمراہ (ADR)سنٹر کی اگاہی مہم کے سلسلہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہماری اس کامیابی میں وکلاء کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جن کی مشاورت سے کئی اجڑے خاندان آج ہنسی خوشی آباد ہیں انہوں نے مصالحت کار وسول جج ملک منیر احمد سلیمی کے کردارکی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد انصاف کی فراہمی میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حدیث مبارکہ کے مفہوم’’ آپس میں صلح کروانا افضل ترین صدقہ ہے ‘‘کے مطابق اپنا بھر پور کردار ادا کررہے ہیں اس موقع پر صدر بار خادم حسین خاصخیلی نے کہا کہ مصالحتی کورٹس کا قیام احسن فیصلہ ہے جو کہ انصاف کی بروقت فراہمی میں اپنا کردار احسن طریقہ سے نبھا رہا ہے سینئر سول جج ایڈمن شیخ فیاض حسین نے میڈیا کو مصالحتی کورٹس میں فریقین اپنی مرضی سے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر اپنا معاملہ بیان کرتے ہیں جس کی روشنی میں مصالحتی جج قانون کے مطابق اور فریقین کی رضامندی سے فیصلہ کرکے صلح کرواتا ہے اس فیصلے کو زندگی میں دوبارہ کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتااس موقع پرخانپور کے 4گھرانوں میں خالدہ ،راشدہ ،نسیم اور شمیم کی وٹہ سٹہ کی شادی ہوئی ہوئی تھی جس میں خالدہ بی بی کیس سینئر سول جج مکرم حسین سپرا کی کورٹ میں خرچہ نان ونفقہ کا کیس زیر سماعت تھا اور شمیم بی بی کا خرچہ نان نفقہ کا اجراء خانپور کی کورٹ فیملی جج محمد آصف گل کی کورٹ مین زیر سماعت تھا مگر ان مقدمات میں صلح کروا دی گئی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر