ڈی پی او کی کھلی کچہری‘ ڈاکٹر میاں سعید کو خراج تحسین

تخت بھائی( نامہ نگار ) ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید احمد کی پریس کلب تخت بھائی میں کھلی کچہری جس میں تاجر، وکلاء اور تمام سیاسی جماعتوں نے بھر پور شرکت کر کے انہیں بہترین کارکردگی پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔جمعرات کے روز پریس کلب تخت بھائی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس سے ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید احمد ،اسسٹنٹ کمشنر تخت بھائی رحمت علی وزیر، پریس کلب کے چیئرمین حاجی حیات اللہ اختر ،میڈیا کلب کے چیئرمین حاجی ہدایت اللہ مہمند،پریس کلب کے سرپرست اعلیٰ الحاج دوست محمد درویش،بار ایسوسی ایشن کے صدرقمر زمان ایڈوکیٹ، مرکزی انجمن تاجران کے صدر و تحصیل کونسل میں اپوزیشن لیڈر حاجی معز اللہ خان مہمند، جنرل سیکرٹری حاجی شیر قیوم مست خیل ،ڈی آر سی کے رجسٹرار حاجی محمد بشیر، پی پی پی ضلع مردان کے جنرل سیکرٹری اورنگزیب خان ، اے این پی کے ضلعی سالار ملک امان خان، تحصیل صدر ناصر خان، پاکستان مسلم لیگ (ن) تحصیل تخت بھائی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رحمت گل ، جے یو آئی کے نائب امیر میاں زاہد ایڈوکیٹ اور پی ٹی آئی پشاور ریجن کے سابقہ جائنٹ سیکرٹری ندیم شاہ ایڈوکیٹ نے اظہار خیال کیا۔اس موقع پر ڈی ایس پی اعجاز خان، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر آفتاب خان، ریسکیو112تحصیل تخت بھائی کے ایمرجنسی آفیسر غیور مشتاق اور دیگر بھی موجود تھے ۔ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمدا نے کہا ہے کہ آئندہ نسلوں کو محفوظ مستقبل دینے کے لیے کلاشنکوف کلچر کا خاتمہ ضروری ہے، عوام ، علمائے کرائے اور صحافی پولیس کے ساتھ تعاون کر کے جرائم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔جرائم پیشہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں عوام پولیس کو اطلاع دے کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں ۔ ڈی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے عوام کا پولیس کے ساتھ تعاون انتہائی ضروری ہے، معاشرے سے کلاشنکوف کلچر کا خاتمہ کر کے ہی ہم آئندہ نسلوں کو تعلیم یافتہ اور امن پسند شہری بنا سکتے ہیں ، والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے ہاتھو ں میں کھلونا بندوق کی بجائے قلم اور کتاب تھما ء کر ان کی بہتر تربیت پر توجہ دیں کیونکہ بندوق سپاہیوں کے ہاتھوں میں اچھی لگتی ہیں جس سے وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری 2015 ؁ء کو وہ پشاور میں بطور ایس پی اپریشن تعینات ہوئے جس سے صرف پندرہ روز قبل سانحہ اے پی ایس رونماء ہوا تھا تب سے سرچ اپریشن کا آغاز اسی غرض سے کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا قلع قمع کیا جا سکے جو عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ، اگر عوام تعاون کریں تو پولیس ہر قسم کے جرائم پر قابوپا کر امن و امان کو مکمل طور پر بحال کر سکتے ہیں جو کہ ہماری آئندہ نسلوں کی محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، انہوں نے کہا جس مٹی پر ہم نے جنم لیا ہے اس پر امن و امان قائم رکھنے کے لیے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیونکہ اللہ زمین پر فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، انہوں نے سیاسی و سماجی شخصیات، علمائے کرام اور میڈیا کے نمائندوں پر زور دیا کہ سود، انڈر پلے، منشیات فروشی ، ہوائی فائرنگ اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کے ساتھ اپنی تعاون مزید بڑھا کر جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی کریں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...