اسلام آباد ایکسائز ،اربوں روپے مالیت کی 11لاکھ گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں کی فائلیں غیر محفوظ

اسلام آباد ایکسائز ،اربوں روپے مالیت کی 11لاکھ گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں کی ...

اسلام آباد(سید گلزار ساقی سے) اسلام آباد ایکسائز میں رجسٹرڈ شدہ 11لاکھ سے زائد گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں کی اصل فائلیں غیر محفوظ ہو گئیں دفاترز میں جگہ کم پڑ گئی ،اربوں روپے مالیت کی گاڑیوں کی لاکھوں اصل رجسٹریشن فائلیں محفوظ رکھنے میں عملہ سمیت ایکسائز افسران شدید پریشان رہنے لگے آگ یا دیگر حادثہ سے محفوظ رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات کے باوجود عملہ خوف میں مبتلا رہتا ہے، مالکان نے گاڑیوں کی ریٹرن فائل پالیسی بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے، ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد جو کہ مختلف شعبوں پر مشتمل ہے پراپرٹی ٹیکس ، موٹروہیکلز ٹیکس،ایکسائز ٹیکس،ہوٹل ٹیکس پر مشتمل ہے محکمہ ایکسائز نے اپنے اخراجات سمیت حکومت کی طرف سے ملنے والے سالانہ ریونیو ٹارگٹ کو پورا کرنے کیلئے محکمہ ہذا کی تمام شعبہ جات کے سٹاف بھر پور فرائض سر انجام دیتے ہوئے ڈائریکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اس سلسلہ میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں پراپرٹی ٹیکس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی مد میں سالانہ اربوں روپے کماتے ہیں شعبہ موٹر وہیکلز رجسٹریشن میں اربوں روپے مالیت کی تقریباً ساڑھے 11لاکھ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ کی گئی ہیں جس سے اب تک اربوں روپے ریونیو حاصل کر چکے ہیں ذرائع کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر تقریباً گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی مد میں 2سے3 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل کیا جاتا ہے ان لاکھوں رجسٹرڈ شدہ گاڑیوں کی اصل فائلیں محکمہ ایکسائز کے پاس جمع ہو جاتی ہے جبکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے مالکان کو رجسٹریشن بک فراہم کر دی جاتی ہے جس سے محکمہ ایکسائز کے پاس اربوں روپے مالیت کی گاڑیوں کی اصل فائلوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری عائد ہے اس ذمہ داری سے محکمہ ایکسائز کے ملازمین اور افسران کے سر پر حادثہ کا خوف سوار رہتا ہے، ذرائع کے مطابق اربوں روپے مالیت کی ساڑھے 11لاکھ سے زائد گاڑیوں موٹر سائیکلوں کی فائلیں غیر محفوظ سمجھتے ہوئے آگ سمیت فائلیں چوری ہونے سے بچانے کیلئے ہر وقت افسران ملازمین پریشان رہتے ہیں ذرائع کے مطابق اکثر گاڑیوں کے مالکان نے ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد مریم ممتاز سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ گاڑیوں کی اصل فائلیں پن جاب ایکسائز کی طرح(ریٹرن پالیسی) بنائی جائے ،تاکہ گاڑیوں کے مالکان اپنی اصل فائل اپنے پاس رکھ کے محفوظ سکیں گے اور فائل ریٹرن پالیسی سے محکمہ ایکسائز سے 11لاکھ سے زائد اصل فائلوں کو محفوظ رکھنے کی پریشانی سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔اس سلسلے میں جب ڈائریکٹر ایکسائیز اسلام آباد مریم ممتازسے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے پھر بھی اس سلسلے میں اعلی حکام کو تجاویز دی گئی ہیں جن پر مشاورت جاری ہیں،گاڑیوں،موٹرسائیکلوں کی تمام فائلیں کمپیوٹر میں سکین کرکے بیک اپ ڈیٹا بھی رکھا ہوا ہے، ہمارے پاس اس وقت لاکھوں گاڑیوں کی جو فائلیں ہیں وہ ہرلحاظ سے محفوظ ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر