ناصر شیرازی کے اغوا کار سرکاری گاڑیوں میں تھے ،علامہ ناصر عباس

ناصر شیرازی کے اغوا کار سرکاری گاڑیوں میں تھے ،علامہ ناصر عباس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کے اغوا کار سرکاری اورایلیٹ فورس کی گاڑیوں میں تھے۔ایک مذہبی وسیاسی جماعت کے ایسے مرکزی رہنما کو پنجاب حکومت کی ایما پر اغوا کیاگیا ہے جس پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں۔انہیں رانا ثنا اللہ کیخلاف پیٹیشن دائر کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ناصر شیرازی کا اغوا جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔حکومت پنجاب کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف جمعہ کے روز پورے ملک میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالے جائیں گے۔لاہور میں احتجاجی جلوس پریس کلب سے وزیر اعلی ہاؤس تک نکالا جائے گا۔پنجاب کی انتظامیہ اور ادارے ریاست کی بجائے شخصی غلامی کا حق ادا کر کے قانون و آئین سے انحراف کر رہے ہیں۔سیکورٹی ادارے عوام کوتحفظ فراہم کرنے کی بجائے دہشت کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔اس اغوا کے ذمہ دار شہباز شریف ،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب ہیں۔اختیارات اور طاقت کا ناجائز استعمال غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔اگر ناصر شیرازی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر ہو گی۔ ناصر شیرازی کی عدم بازیابی کی صورت میں پنجاب ہاؤس کے گھیراؤ سمیت متعدد دیگر آپشنززیر غور ہیں۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کے دو نوجوانوں کے لاپتہ ہونے پر نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت دیگر رہنماؤں نے واویلا کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ ہمارے مرکزی رہنما کے اغوا پر دانستہ نظر انداز کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔مغوی کے بھائی کی درخواست پر مقدمہ دائر کرنے سے پولیس نے انکار کر دیا ہے۔اغوا کاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ہم نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ظالموں کے مقابلے میں ہم کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نفرت اور تعصب اس ملک کی سالمیت کے دشمن ہیں ۔ہم ان دشمنوں کے خلاف پورے عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ وطن عزیز کی سلامتی و استحکام کے دشمن ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ناصر شیرازی کے اغواکا مقصد حکومت مخالف مذہبی و سیاسی جماعتوں کا دھمکانا ہے۔پوری انتظامی مشینری نا اہل وزیر اعظم کو پروٹوکول دینے میں مصروف ہے۔ملکی آئین و قانون کو پامال کیاجا رہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔اس سنگین مسئلہ میں حکومت کی غیر سنجیدگی ملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث ہو گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر