’کرپشن کے الزامات‘ لیڈر شپ نے مایوس کیا: احمد لدھیانوی

’کرپشن کے الزامات‘ لیڈر شپ نے مایوس کیا: احمد لدھیانوی

ملتان(جنرل رپورٹر)اہلسنت والجماعت پاکستان کے سربراہ ، قائد اہلسنت علامہ محمد (بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

احمد لدھیانوی نے کہا ہے کہ حکومت کی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کے خطرناک نتائج برآمدہوں گے ،انہوں نے کہا کہ فوج اور عدلیہ ریاست کے اہم ادارے ہیں حکومت ان دونوں اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ پر کرپشن کے الزامات سے عوام سیاسی لیڈر شپ سے مایوس ہوئی ہے ،اس غیر یقینی صورتحال میں محب وطن قوتوں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا اگر ملک میں امن کی فضا بہتر ہو گی تو معیشت بھی مستحکم ہو گی اگر امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ،علامہ محمد احمد لدھیانوی نے مزید کہا کہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کی بدولت مہنگائی عروج پر ہے ،حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو گا ، انہوں نے کہا کہ جو کالعدم جماعتیں انتہاپسندانہ رویہ ترک کر کے اعتدال پسندی اور سیاست میں آنا چاہتی ہیں انہیں راستہ ملنا چاہیے اس سے ملک میں امن کی فضا مزید بہتر ہوگی اور دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہو گی ،انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے قبل کیے گئے مطالباک انتہائی تشویشناک ہیں ،پاکستان پہلے بھی پرائی جنگ میں ہزارووں جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ اگر ہماری قر بانیوں امریکہ اور اس کے اتحادی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تو ہمیں بھی اپنی ملکی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے تما مطالبات کو مسترد کر دینا چاہیے ،مولانا محمد احمد لدھیانوی گزشتہ روز مرکزی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ حکومت فورتھ شیڈول میں ان لو گوں کو شامل کرے جو عملی طور پر دہشت گردی میں ملوث ہوں لیکن جن مذہبی کارکنوں کا دہشت گردی سے دور تک کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہے انہیں اس کالے قانون کی بھنیٹ چڑھانا سراسر زیادتی ہے جس سے مذہبی کارکن مایوسی کا شکار ہیں ،انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے محب وطن قوتوں کو سامنے لانا ہوگا اور غیر جانبدارانہ رویہ اپنانا ہو گا ، انہوں نے تجویز دی کہ کالعدم مذہبی جما عتیں جو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی عمل میں حصہ لینا چاہیں ان کے ساتھ حکومت اور اداروں کوبیٹھ کر مذاکرات کرنے چاہئیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر