سیاسی عدم استحکام بجٹ خسارے کو خطرناک حد تک لا جا سکتا ہے :حنیف گوہر

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان کی معاشی صورتحال انتہا ئی خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے ، کر نٹ اکا و نٹ خسارہ صرف درآمدات کم کر نے سے نہیں بر آمدات بڑھا کر ہی پو را کیا جا سکتا ہے، کمز ور پالیسیا ں ملک کو قر ضوں کی دلدل سے نہیں نکا ل سکتی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے مر کزی رہنما انصاف بزنس فورم سندھ کے صدر حنیف گو ہر نے حکو مت کے منی بجٹ کو مستر د کر تے ہو ئے کہا کہ اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیا ں نا کام ہو چکی ہیں ۔ حکومت نے فو ڈ ، پھل ،جوس،کاسمیٹکس سمیت 731مصنوعات پر مو جو دہ ٹیرف میں 300%تک ریگو لیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کر کے40ارب روپے کا منی بجٹ ملکی تجا رتی اور کرنٹ اکا ونٹ خسارے کو پو را کر نے کے لئے دیا ہے ۔پاکستان کی معاشی صورتحال انتہا ئی خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے ۔ اسٹیٹ بینک کی رپو رٹس کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر صر ف تین ما ہ کی درآمدات کے لئے باقی ہیں جس سے غیر یقینی میں اضا فہ ہو رہا ہے ۔ملکی برآمدات پہلے ہی 5 ارب ڈالرگر چکی ہیں اور کر نٹ اکاونٹ خسارہ رواں ما لی سال کی پہلی سہ ما ہی میں 115%بڑھ کر3.5 ارب ڈالر ہو چکا ہے جبکہ ما لی سال 2016-17 کے دوران ریکارڈ12ارب ڈالرکے کر نٹ اکا ونٹ خسا رے اور تیزی سے بڑھتی سود کی ادائیگؤں نے خطر ے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ انصاف بزنس فورم سندھ کے صدر حنیف گو ہر نے مختلف اکنا مک فورمزاور ٹی وی پر وگرامز میں اس حوالے سے کہا تھا کہ تیز ی سے بڑھتا کرنٹ اکا ونٹ خسارہ اور بیر ونی ادائیگیا ں ملکی وسائل اور زرمبا دلہ کو دیمک کی طر ح چا ٹ رہے ہیں ۔پاکستان کی معیشت کو Export Oriented Growthکی ضرورت ہے مگر حکومت consumption led growthسے معاشی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے ۔ سابق وزیر اعظم نو ا ز شر یف کے دور سے اب تک مو جو دہ حکومت نے 35ارب ڈالر کے قر ضے لئے ہیں جو کہ ملکی تا ریخ میں سب سے زیا دہ ہیں جس کا حجم اب بڑھ کر 25ہزار ارب سے زائد ہو چکا ہے ۔ پاکستان کے مجمو عی بیر ونی قر ضے 83ارب ڈالر جبکہ اند رنی قر ضوں اور دیگر ادائیگیوں کا حجم 16ہز ار ارب سے زائد ہو چکا ہے ۔ حکومت نے پچھلے تین بر سوں میں 18 ارب ڈالر سود کی ادائیگیا ں کی ہیں جس کا بوجھ عوام پر مہنگی بجلی و گیس ، پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتیں اور ٹیکسوں میں اضا فہ کر کے پو را کیا گیا ۔ مو جو دہ حکومت نے ملکی ڈھانچے کو نہ صرف کمزور کیا ہے بلکہ ایسی صورتحال میں لا کر کھڑا کیا ہے کہ جہا ں سسٹم کو چلانے کے لئے اگلے سال مز ید 18ارب ڈالردرکار ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں اگر کر پشن ،گو رننس اور درست اکنامک پالیسا ں مر تب نہ کی گئیں تو معا شی ڈھانچہ بر ی طرح تبا ہ ہو سکتا ہے ۔ادارہ شما ریا ت کے مطا بق ، پچھلے چا ر بر سوں میں 98ارب ڈالرز کا تجا رتی خسارہ ریکا رڈ کیا گیا جو کہ اس با ت کی دلیل ہے کہ درآمدات اور بر آمدات پر تو جہ نہیں دی گئی ۔وزیر خزانہ کے غیر ضروری فیصلوں سے انڈسٹری ، کسان ، تنخواہ دار طبقہ اور عوام نہ صرف طرح متا ثر ہو ئے ہیں بلکہ مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت ، معاشی زبوں حالی اور ملکی وسائل کا ضیا ئع ہو ا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے مر کزی رہنما انصاف بزنس فورم سندھ کے صدر حنیف گو ہر نے یہ بھی کہا کہ غیر ضروری درآمدات کو مو جو دہ حالات کے تنا ظر میں کم کر نا بھی ضروری ہے جس کو ہم سپو رٹ کر تے ہیں مگر یہ عمل ٹھو س حکمت عملی کے تحت چا ر سال پہلے کر نا چا ہیے تھا تا کہ قیمتی زر مبا دلہ بھی بچتا اور پا کستان کی معیشت زبو ں حالی کا شکا ر بھی نہ ہو تی ۔حالیہ حکومتی اقدام سے غیر ضروری درآمدات 300 سے 400 ملین ڈالرز تک کم ہو سکتی ہیں ۔مگر آٹو سیکٹر ، ٹائلز ، سینیٹری ، فر نیچر اور دیگر پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے سے انڈسٹری کو نقصان پہنچے ہو گا ۔ پاکستان کے موجودہ وسائل، انڈسٹری اور نظام کودیکھتے ہو ئے متوازن امپو رٹ پالیسی کی اشد ضرورت ہے تا کہ ذرمبا دلہ کے ذخا ئر پر پر یشر کم سے کم رہے اورقیمتی زر مبا دلہ بھی بچا یا جا سکے ۔ بحرحال ایکسپو رٹ کی بحالی ہی مو جو دہ حالات میں دور رس مثبت اثرات مر تب کر سکتی ہے ۔ پاکستانی معیشت پر عالمی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈاینڈ پو ورز نے پاکستان میں معاشی سرمایہ کاری کو highly speculativeاور بڑھتے تجارتی خسارے اور بیر ونی ادائیگیو ں پر خدشات کا اظہا ر کیا ہے ۔عا لمی ریٹنگ ایجنسی مز ید کہا کہ پاکستان کی بڑھتی درآمدات کی وجہ سے بیر ونی اکاونٹ کمز ور ہو ا ہے اور پاک چین اقتصا دی راہداری کے انر جی اور انفراسٹکچر کے پر وجیکٹس سے کر نٹ اکاونٹ مز ید بڑھے گا جس کی وجہ سے بجٹ خسارہ 2200ارب تک پہنچ سکتا ہے ۔اگر بجٹ خسارہ اس حد سے تجا وز کر تا ہے تو ہما رے اندازے کے مطابق اس کا حصہ شر ح نمومیں مز ید 2%تک بڑھ جا ئے گا جس کا تذکر ہ اسٹینڈرڈاینڈ پو ورزنے بھی کیا ہے ۔حنیف گو ہر نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈاینڈ پو ورزکے اعداداو شما ر کے بعد سر مایہ کا روں کی تشویش میں اضافہ ہو ا ہے ۔دوسر ی جانب تیزی سے بدلتی خطے کی صورتحال کے بھی منفی اثرات ملکی معیشت پر پڑتے ہو ئے نظر آر ہے ہیں ۔ امر یکی وزیر خا رجہ ٹلر سن نے اسلام آباد میں وزیر اعظم سے ملا قات میں ایک با ر پھر دہشت گر دوں کی پاکستان میں محفوظ پناہ گا ہوں اور ٹرمپ انتظامیہ کے الزامات دہرائے ۔امریکی دبا و کے بعد پاکستان کی سالمیت اور معاشی استحکا م کے لئے خطرات لا حق ہیں ۔ امریکی انتظامیہ نے دہشت گر دی کی اس جنگ میں 70 ہزار پاکستانی جانوں کی قر بانی ، انفراسٹکچر کی تبا ہی اور 120 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اپنی 17 سالہ ناکامی کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔ پاکستان کی اعلی سول اور فو جی لیڈرشپ نے پاکستان کی دہشت گر دی کی جنگ میں قر بانیو ں کو تسلیم کر نے پر زور دیا ہے کہ اب دنیاکو ڈومور کر نا ہے پاکستان بہت قر بانی دے چکا ۔ حکومت کو چا ہئے کہ ٹھوس خا رجہ پالیسی بنائے تا کہ ملکی اندرونی اور بیر ونی محاذوں پر پاکستان کی ساکھ کو بحال کیا جا سکے ۔ہما رے وطن کو دو بڑے چیلینجزدرپیش ہیں ، ایک طر ف سیا سی عدم استحکام کا سامنا ہے کہ جہا ں سابق وزیر اعظم نو از شر یف اور مو جو دہ وزیر خزانہ کو کر پشن ریفرنسز میں نیب عدالتوں کے چکت لگا رہے ہی تو دوسری طرف غلط معاشی پالیسیوں کی قیمت ملک کی غریب عوام ادا کر رہی ہے۔ جس کے انتہا ئی منفی اثرات پاکستان کی اسٹاک ما رکیٹ ، بر آمدات اور سر مایہ کا ری پر پڑ رہے ہیں ۔ا نصاف بزنس فورم سندھ کے صدر حنیف گو ہرنے اس با ت کی اپیل کی ہے حکومت فلفو ر ہنگامی اقدامات لے ۔ قومی اداروں میں گو رننس ، کر پشن اور بہتر معاشی ایجنڈابنا ئے اور قومی مفاد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹری ، تاجر نما یندوں، معاشی تجزیہ کا روں اور صنعتکا روں کے ساتھ ملکر بجلی کے بحران ، ایکسپورٹ کی ہنگا می بنیا دوں پر بحالی ، متوازن امپورٹ پالیسی ، ایکسپورٹر کے 250سے 300ارب کے ریفنڈز، غربت ، بے روزگاری، ملکی اداروں کے ریفارمز کاروڈمیپ اور مہنگائی کے کنٹرول کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کر ے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...