تمام مقدمات کا ہر صورت سامنا کروں گا، رؤف صدیقی

تمام مقدمات کا ہر صورت سامنا کروں گا، رؤف صدیقی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی نے سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق میڈیا پر چلنے والی خبر کی پُرزور الفاظ میں تردید کرتا ہوں اور اسے سختی سے مسترد کرتا ہوں۔یہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ کل شام چار بجے سے میری تصویر لگا کر منی لانڈرنگ کے مقدمے میں میرا نام چلایا جاتا رہا جبکہ ابھی مقدمہ بنا ہی نہیں ہے۔ کیا منی لانڈرنگ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پیسوں سے ہو سکتی ہے ؟؟؟ اس خبر کو اس قدر منفی انداز سے چلایا گیا کہ طلباء، اساتذہ اور پروفیسرز سب پریشان ہو گئے،یہ بڑے دکھ کی بات ہے۔ دنیا میں کہیں بھی تعلیمی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، اگر تحقیقات ہوں تو اسے صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں کسی کی لسانیت اور قومیت نہیں دیکھی جاتی، صرف شناختی کارڈ دیکھا جاتا ہے۔ نذیر حسین یونیورسٹی اور سن اکیڈمی اسکول کی تعمیر اور اخراجات کے حوالے سے دو اکاؤنٹس ہیں۔ میں ان اداروں کا کسٹوڈین ہوں۔ نذیر حسین یونیورسٹی کے بورڈآف ڈائریکٹرز میں پاکستان کی مایہ ناز شخصیات ممبران ہیں جبکہ سن اکیڈمی اسکول کا شمار کراچی کے بہترین اسکولوں میں ہوتا ہے جہاں بغیر فیس کے بچوں کو برطانوی طرز کی تعلیم دی جاتی ہے جس کا میرٹ یہ ہے کہ داخلہ لینے والے بچے کے والد کی تنخواہ دس ہزار سے کم ہو تو اسے داخلہ دیا جاتا ہے۔ منفی خبروں سے ان تعلیمی اداروں کی ساکھ بے حد متاثر ہوئی ہے۔ ، مجھ پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔ میرے خلاف گندے سندے مقدمات بنائے گئے ہیں ، ایک مقدمہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا دائر کر دیا جاتا ہے۔ بدنام زمانہ ،جرائم میں ملوث، جواری، شرابی، چرسی اور موالی کی گواہی پر مقدمات درج کئے گئے۔ مجھ پر چاہے جتنے مقدمات بنائیں لیکن خدا کے واسطے تعلیمی اداروں کی ساکھ کو مجروح نہ کریں۔ مجھے ایف آئے اے کی جانب سے ایک خط موصول ہوا اور میں نے اس خط کا فوری طور پر جواب دیا کہ جن جن معاملات کی تفصیلات درکار ہیں، مجھے بتائیے، میں وہ سب لے کر حاضر ہو جاؤں گا۔ میں تمام مقدمات کا ہر صورت سامنا کروں گا۔ انشاء اللہ۔ میرے لئے میرا اللہ ہی کافی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر