کرپشن کیس ، سیکرٹری آبپاشی 7 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب

کرپشن کیس ، سیکرٹری آبپاشی 7 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ آبپاشی میں 7 ارب روپے کی پشن انکوائری میں سیکرٹری آبپاشی کو 7 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ دو رکنی بینچ کے روبرو محکمہ آبپاشی میں 7 ارب روپے سے زائد کرپشن اور گھپلے سے متعلق سماعت کی۔ کرپشن تحقیقات پر اثر انداز ہونے والے افسران کے تبادلوں کی رپورٹ پیش کردی گئی۔ پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ اصل ذمہ داران کو ہٹانے کے بجائے دیگر افسران کو ہٹا دیا گیا۔ جسٹس کے کے آغا نے ریماکس دیئے کہ سندھ حکومت عدالتوں کے ساتھ گیم کھیلنا بند کردے۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے گیم کے اثرات کا آپ کو اندازہ نہیں۔ چیف جسٹس نے ریماکس میں کہا کہ انکوائری نیب کا کام اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ نیب ماہرین کے ساتھ جا کر نہروں پر ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کریں۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اسپیشل سیکرٹری آبپاشی احمد جنید میمن، چیف انجیئر ارشاد میمن اور سپریٹنڈنٹ انجینئر فیاض کے خلاف 3,3 انکوائریز چل رہی ہیں۔ تینوں افسران انکوائریوں پر اثرانداز ہورہے ہیں عدالتی حکم کے باوجود ان کو عہدوں سے نہیں ہٹایا گیا۔ عدالت نے ریماکس میں کہا کہ کرپشن میں ملوث افسران کے عہدوں پر رہنے سے شفاف انکوائری کی توقع نہیں۔ کرپشن میں ملوث افسران کو عہدوں سے ہٹانے کے لیئے عدالت نے حکم دے دیا۔ 7 دسمبر کو سیکریٹری آبپاشی کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ عدالت نے نیب کو روہڑی کینال، جھمڑاو کینال اور نارہ کینال کے سروے کی اجازت دے دی۔ نیب کے مطابق 2013-14میں روہڑی کینال میں بندوں کی تعیمرات کے لیے رقم جاری کی گئی۔ ملزموں نے روہڑی کینال کی بندوں کی تعیمرات کے بجائے رقم ہڑپ کرلی۔ کرپشن میں پروجیکٹ ڈائریکٹر اشفاق نور میمن، ولی محمد نائچ سمیت دیگر شامل ہیں۔ نیب کو روہڑی کینال پر بندوں کی تعمیرات کے لیے سروے سے بھی روکا گیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر