سپریم کورٹ کے ججز نے ریمارکس دیے کہ کیس کرپشن کا نہیں ،پتہ نہیں کس لیے سزا بھگت رہا ہوں :نواز شریف

سپریم کورٹ کے ججز نے ریمارکس دیے کہ کیس کرپشن کا نہیں ،پتہ نہیں کس لیے سزا ...

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججزنے ریمارکس دیئے کہ کیس کرپشن کا نہیں، مجھے نہیں پتا کس لیے سزا بھگت رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا سی پیک اور کراچی میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے یا دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی سزا ہے ؟۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں ہو رہا اور نہ ہی شریف خاندان میں اختلافات کی خبر یں درست ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹکراﺅ کی بات ہوتی ہے ہمیں ٹکر مارنے والے کو کوئی نہیں پوچھتا ،جب بھی مارچ آتا ہے تو مارچ کی افواہیں گردش کرتی ہیں ۔

مزید خبریں :شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت مختصر کارروائی کے بعد 7نومبر تک ملتوی ہو گئی

سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عدلیہ کا حامی نہیں ہوں جو نظر یہ ضرورت ایجاد کر کے ڈکٹیٹر کی راہ ہموار کرے ۔انہوں نے کہا کہ توہین عدالت باہرنہیں بلکہ اندر سے بھی ہو سکتی ہے ،ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ،ڈکٹیٹر کو ہار پہنانے اور خوش آمدید کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں ہوں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کیس چل رہے ہیں ،کسی کی نگرانی نہیں ہو رہی ،میرے ریفرنسز میں نگران جج کیوں ہے ؟۔نواز شریف نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج تاریخ میں کبھی اتنی بلند سطح پر نہیں گئی، ملک میں رکارڈ ترقی ہوئی، زرمبادلہ کے زخائر میں اضافہ ہوا، ہم نے پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کیا لیکن کیا سی پیک کی سرمایہ کاری اور کراچی میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے۔آصف زرداری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ میرے خلاف گالیاں نہیں نکال رہے بلکہ وہ کسی اور کو خوش کررہے ہیں ، ایسے وقت میں جمہوری پارٹیوں کو اکٹھا ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنو کریٹ حکومت سے متعلق 17سال سے سن رہا ہوں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...