کرپشن نوازی کا عذاب

کرپشن نوازی کا عذاب
کرپشن نوازی کا عذاب

  

ہوسِ زر اور ہوسِ اقتدار ایک عارضہ ہی نہیں ،عذابِ الٰہی کی ایک قسم بھی ہے ، اقتدار کی طمع اور حرص انسان کو لبِ گور تک پہنچا دیتی ہے مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا بالاآخر قبر کی مٹی ہی اس کا پیٹ بھرتی ہے۔مال و اقتدار کی ہوس انسان کو خود غرضی کے ایسے عارضے میں مبتلا کر دیتی ہے کہ پھر اس کے آگے نہ تو ملکی مفاد مقدم ہوتا ہے اور نہ ہی قومی غیرت اس کے آنگن میں بسیرا کرتی ہے۔بس مال کی ہوس اور اقتدار کی طوالت ہی اس کا مطمع نظر ہوتی ہے اور ایسے حکمران ہر جائز اور ناجائز ذرائع استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں شخصیات مضبوط اور ادارے کمزور ہوتے ہیں۔کرپشن کے بازار گرم کئے جاتے ہیں، ضمیر کی بولیاں لگتی ہیں، میرٹ کا قتلِ عام ہوتا ہے ، انصاف کا خون ہوتا ہے، ملکی وسائل کا مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

اس وقت ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور ہمارے کرپٹ حکمران ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک میں ماہانہ 400 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے اور یہ کرپشن کا زلزلہ اتنا خوفناک ہے جس نے ریاست کی چولیں تک ہلا کر رکھ دی ہیں اور ملک اس وقت بدترین قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

پاکستان میں کرپشن اور حکمران لازم و ملزوم ہیں، موجودہ حکومت کے سربراہ اور سابق وزیرِاعظم نوازشریف تو اس بنیاد پر نااہل بھی ہو چکے ہیں ، وقت اور حالات کا تقاضا تو یہ تھا کہ نوازشریف پارٹی کی صدارت کسی اور کے سپرد کرکے عدالتی احکامات کی تعمیل کرتے مگر الٹا اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنا کر نوازشریف اور ان کی جماعت ملک کو مزید بحران میں مبتلا کررہی ہے جس سے نہ صرف عالمی سطح پر ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی نا قابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔شریف خاندان اور ن لیگ کی جانب سے بار بار عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ ان کی حکومت کے خلاف سازش کی گئی ہے اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لئے یہ سب ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔مگر میاں صاحب اور ان کی جماعت یہ تاثر دینے میں اب تک مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے۔

ملک میں جب تک صحیح معنوں میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی اور قانون کی نظر میں سب برابر نہیں ہوں گے تب تک ملکی ترقی کا خواب محض ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گا، احتساب بلا تفریق ہونا چاہئے جس نے بھی ملکی دولت اور وسائل کو لوٹا ہے اس کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے خواہ وہ کوئی سیاستدان ہو ،جج ہو یا پھر جرنیل ، قانون سب کے لئے ایک ہونا چاہئے۔اس ملک میں سیاستدانوں کا تو بہت دفعہ احتساب ہوا ہے مگر قانون کی اصل حکمرانی تب ہوگی جب ججز اور جرنیلوں کا بھی بلا تفریق احتساب ہوگا۔

پانامہ میں 400 لوگوں کے نام ہیں جن میں ججز ، سابقہ فوجی جرنیلوں اور بیورو کریٹس کے بھی نام ہیں ،ان سب کا بھی احتساب ہونا چاہئے تاکہ کرپشن کو نکیل دی جا سکے اور یہی کرپشن کو روکنے کا واحد طریقہ ہے تاکہ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو سکے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ