’پچھلے10 سال کے دوران مردوں میں۔۔۔ ‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے مردوں کو تاریخ کی تشویشناک ترین خبر سنادی

’پچھلے10 سال کے دوران مردوں میں۔۔۔ ‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے مردوں کو ...
’پچھلے10 سال کے دوران مردوں میں۔۔۔ ‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے مردوں کو تاریخ کی تشویشناک ترین خبر سنادی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کسی شادی شدہ جوڑے کو اولاد کے حصول میں دشواری کا سامنا ہو تو عموماً قصور بیوی کا ہی گردانا جاتا ہے اور اسے ہی ڈاکٹروں کے لیے تختہ¿ مشق بنایا جاتاہے لیکن اب ایک جدید تحقیق نے اس حوالے سے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ جان کر مردوں کی تشویش کی انتہاءنہ رہے گی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”گزشتہ ایک دہائی میں مردوں میں بانجھ پن کی شرح دوگنا ہو چکی ہے اور اس وقت اولاد نہ ہونے کے 50فیصد سے زائد کیسز میںاس کی ذمہ داری کلی طور پر مردوں پر عائد ہوتی ہے یا وہ اس میں حصہ دار ہوتے ہیں۔“

’آج کل کے نوجوان لڑکے لڑکیوں سے جنسی تعلق نہیں قائم کرنا چاہتے بلکہ ان سے۔۔۔‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی خواتین کو کبھی بھی یقین نہیں آئے گا

نیشنل ہیلتھ سروسز کے سائنسدانوں نے لاکھوں مردوخواتین کے طبی ڈیٹا پر کی جانے والی اس تحقیق میں بتایا ہے کہ ”گزشتہ 50سالوں میں مردوں میں سپرمز کی مقدار آدھی سے زیادہ کم ہو گئی ہے اور اس وقت ہر 7شادی شدہ جوڑوں میں سے ایک کو اولاد کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔“ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کیتھرین ہڈ کا کہناتھا کہ”خواتین اگر حاملہ نہ ہو رہی ہوں تو وہ خود بھی فوری طورپر یہی خیال کرتی ہیں کہ مسئلہ ان میں ہے۔ اس معاملے میں یہ حقیقت اکثراوقات نظرانداز کی جاتی ہے کہ مسئلہ مرد میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہماری تحقیق میں یہ معلوم ہوا ہے کہ اس وقت بچہ پیدانہ ہونے کے کیسز میں زیادہ تر مسئلہ مردوں میں ہوتا ہے یا میاں بیوی دونوں میں۔ ایسے کیسز کی شرح بہت کم ہے جن میں صرف بیوی کا مسئلہ ہو۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس