اس تصویر میں شرمین عبید چنائے کے ساتھ یہ آدمی کون ہے؟ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

اس تصویر میں شرمین عبید چنائے کے ساتھ یہ آدمی کون ہے؟ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں ...
اس تصویر میں شرمین عبید چنائے کے ساتھ یہ آدمی کون ہے؟ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے نے اپنی  فلم میں مریض خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے ڈاکٹر کو کاسٹ کرتے ہوئے اسے مرکزی کردار دیا تھا۔ ڈاکٹر پر اپنی ایک مریضہ کو مبینہ طور پر جنسی طور ہر ہراساں کرنے کے الزامات کی تحقیقات کے دواران ہی انہیں سیونگ فیس میں کردار ادا ملا اور وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے دوران ہی ڈاکومنٹری کی شوٹنگ میں مصروف رہے۔

پی ایس او، ٹوٹل اور شیل کا آئل گاڑیوں کے انجن متاثر کرتا ہے، کارروائی کی جائے،ہنڈا نے اوگرا کو شکایت بھجوا دی

شرمین عبید چنائے کی جانب سے ایک ڈاکٹر پر ان کی بہن کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ پربا ہوگیا ہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک تفصیلی پوسٹ میں ” ہما پرائس “ نامی خاتون صارف نے لکھا ہے کہ فیس بک پر جنسی طور پر ہراساں کرنے پر آپ ہنگامہ برپا کر رہی ہیں کیا آپ کی بہن نہیں جانتی کہ فیس بک کی سیکورٹی سے ناواقف تھیں ؟ کیا آپ ڈاکٹر جواد کو جانتی ہیں کہ جن پر ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے؟ جی جی وہی ڈاکٹر جنہوں نے آپ کی ایک ڈاکومنٹری میں بھی کردار ادا کیا تھا ، اگر آپ نہیں جانتی تو نیچے دی گئی تصویر سے آپ انہیں بخوبی پہچان لیں گی۔اور جب ان کے خلاف اپنی ایک مریضہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے کی تحقیقات ہو رہی تھیں تو آپ ان کے کلینک میں ایک ظہرانے میں شرکت کے لئے گئیں تھیں ۔ آپ تو صرف کم درجے کے لوگوں کو سبق سکھانے کے لئے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا دیتی ہیں۔ ایک عورت کا خیال رکھنے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ ، میں یہ بات کہتے ہوئے قطعا نہیں گھبراتی کے آپ نے ایک ڈاکٹر کو نوکری سے اس لئے نکلوایا کیوں کہ اس نے عظیم چنائے خاندان کے ساتھ دوستی کا سوچا اوروہ ہوتا کون ہے جو ہولی ووڈ کے سپر سٹار ز کے ساتھ راہ و رسم بڑھائے ۔

واضح رہے کہ ڈیلی میل نے ایک آرٹیکل شائع کیا تھا جس میں کہا گیاتھاکہ ڈاکومنٹری میں پلاسٹک سرجری کرنے والے ڈاکٹر جواد کے حوالے سے ایک خاتون نے میںشکایت درج کرائی کہ وہ ان کے پا س سرجری کے لئے آئی اور آتے ہوئے ریڈ وائن کی ایک بوتل لے کر آئی تھی ، وہ جو نہی ان کے کلینک میں داخل ہوئی تو ڈاکٹر نے کلینک کی لائٹس بند کردیں اور دوگلاسوں میں وائن انڈیل لی ، اس دوران ڈاکٹر جواد نے اپنے آئی فون پر رومانٹک نغمہ لگا لیا اور مجھے کہا کہ میں ان کے ساتھ رقص کروں ، ڈاکٹر نے مجھ سے سوال پوچھا کہ آپ مجھے ایک سرجن سمجھتی ہیں یا ایک انسان ؟ میں اس سارے واقعے کے دوران بہت پریشان ہوگئی ۔

خاتون کا مزید کہنا تھا کہ  ڈاکٹر جواد میرے جسم کے نازک حصوں کو چھونے لگا ، اس نے دیگر مریضوں کو واپس بھیج دیا اور مجھے جنسی طور پر ہراساں کرنے لگا، میں بہت زیادہ پریشان ہوگئی جب میں نے اسے کہا کہ میں اسے صرف ایک سرجن سمجھتی ہوں اس کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے ، میں بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی اور وہاں سے اپنا کوٹ اور پرس اٹھایا اور وہاں سے نکل گئی ، بعد ازاں خاتون نے ڈاکٹر کے رویے کے حوالے سے میڈیکل ٹربیونل میں شکایت بھی کی تھی اور اس حوالے سے ثبوت بھی فراہم کئے تھے۔ جبکہ ڈاکٹر جواد نے مئوقف اختیار کیا تھا کہ وہ ابھی ڈاکومنٹری کی شوٹنگ کے سلسلے میں پاکستان میں مصروف ہیں اور ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس