بھارتی شہر بوپال میں 4افراد کی پولیس اہلکار کی بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ، پولیس اہلکاروں کا مقدمہ درج کرنے سے انکار

بھارتی شہر بوپال میں 4افراد کی پولیس اہلکار کی بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ، ...
بھارتی شہر بوپال میں 4افراد کی پولیس اہلکار کی بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ، پولیس اہلکاروں کا مقدمہ درج کرنے سے انکار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھوپال(ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت کے صوبہ مادھیا پردیش کے دارلحکومت بھوپال میں چار افراد 19سالہ لڑکی کو مسلسل تین گھنٹوں تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنا تے رہے ۔

تفصیلات کے مطابق بھوپال میں جس 19سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اس کا والد بھارتی پولیس میں سب انسپکٹر جبکہ اس کی والدہ سی آئی ڈی کی ملازم ہے لیکن پولیس سٹیشن والوں کی جانب سے ریپ کا مقدمہ درج کرنے سے ہی انکار کر دیا گیاتاہم لڑکی کے والدین نے اپنی کوششوں کے تحت ان چار میں دو افراد کو ڈھونڈ نکالا اور اس کے بعد معاملے نے توجہ حاصل کی تو بھارتی پولیس کے اعلیٰ افسران حرکت میں آئے اور مقدمہ درج کیا گیا تاہم بعد میں مقدمہ درج کرنے سے انکار کرنے والے پولیس افسر کو معطل بھی کر دیا گیا ۔

جس جگہ پر اس لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا وہ بھوپال کی انتہائی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے ،جبکہ اس کی دوسری جانب ریلوے لائن بھی ہے ۔لڑکی کو اس سڑک کے قریب ایک جگہ پر باندھا گیا او رچار افراد نے اسے مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا ۔منگل کی شام جب لڑکی اپنی کوچنگ کلاسز ختم ہونے کے بعد گھر جانے کیلئے جا رہی تھی کہ حبیب گنج کے قریب پیدل چل کر جار ہی تھی اس وقت دو افراد نے لڑکی کو اغوا لیا ،جس میں سے ایک کی شناخت گولو بیہاری کے نام سے ہوئی ہے ۔لڑکی نے اپنے آپ کو چھڑانے کی بہت کوشش کی اور پتھر اٹھا کر بھی انہیں مارے ۔اس کے جواب میں انہوں نے بھی لڑکی کو پتھر سے مارا اور اسے باندھ دیا ۔لڑکی نے پولیس کو ریکارڈ کروائے گئے بیان میں بتایا کہ وہ لوگ اسے مسلسل تین گھنٹے تک مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور وہ اس دوران صرف گٹکا اور سگریٹ پینے کیلئے لڑکی سے دو ر جاتے تھے ۔یہ دونوں افراد عامر اور گولو ہم زلف ہیں ۔درندہ صفت افراد نے لڑکی کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے اور جب انہوں نے لڑکی کو چھوڑا تو لڑکی نے ان سے کچھ کپڑے مانگے ،گولو گھر سے کپڑے لانے گیا تو وہ اپنے ساتھ دیگر دو دوستوں کو بھی لے آیا اور انہو ںنے بھی لڑکی کو اس عزیت میں مبتلا کیا ۔یہ انتہائی خوفناک کام 10بجے تک جاری رہا اور لڑکی کو چھوڑنے سے قبل اس کا موبائل فون ،کان کی بالیاں اور گھڑی بھی لوٹ لی ۔

مزید : بین الاقوامی