داعش نے جنگِ موصل کے دوران 741 لوگوں کو قتل کیا: اقوامِ متحدہ

داعش نے جنگِ موصل کے دوران 741 لوگوں کو قتل کیا: اقوامِ متحدہ
داعش نے جنگِ موصل کے دوران 741 لوگوں کو قتل کیا: اقوامِ متحدہ

  

نیویارک(این این آئی)اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے موصل پر لڑی جانے والی جنگ کے دوران کم از کم 741 عام شہریوں کو سزائے موت کے انداز میں قتل کیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو اغوا بھی کیا۔

ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں: برطانوی وزیر خارجہ

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور عراق کے لیے امدادی مشن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اس دوران کل ملا کر کم از کم 2521 عام شہری مارے گئے جبکہ 1673 زخمی ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2016 کے اوائل میں دولتِ اسلامیہ کے زیرانتظام موصل کے علاقوں میں شدت پسند تنظیم نے لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کروایا کہ ان علاقوں کے شہریوں کو نشانہ بنانا جائز ہے جہاں عراقی فوج نے قبضہ کر لیا ہے کیونکہ وہ فوجیوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔رپورٹ کے مطابق اس ’فتوے‘ کے بعد دولتِ اسلامیہ نے مشرقی موصل میں شہریوں کو براہِ راست ہدف بنانا شروع کر دیا۔رعد الحسین نے کہاکہ موصل شہر پر قبضے کی جنگ کے دوران داعش کی جانب سے ہزاروں شہریوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا ،جس کے نتیجے میں 741لوگوں کو قتل کردیاگیا ۔انھوں نے مزید کہاکہ سزائے موت کے انداز میں عام شہریوں کا قتل، خاندانوں پر مصیبتیں ڈھانا اور جائیداد کے بے دریغ تباہی کو کسی بھی جنگ کے دوران برداشت نہیں کیا جا سکتا، اور اس کے ذمہ داروں کو اپنے گھناونے جرائم کا جواب دینا ہو گا۔

رپورٹ میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن کے تحت 'بین الاقوامی جرائم،' مثلاً نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کرنے والوں کو جواب دہ قرار دیا جا سکے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ عراقی عدالتوں کو بین الاقوامی جرائم کے معاملات پر اختیار نہیں ہے، اور پولیس اور استغاثہ کے پاس تحقیقات، فردِ جرم عائد کرنے اور لوگوں پر مقدمہ چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ عراقی قانون میں منصفانہ مقدمات کے عمل کی کافی ضمانت نہیں ہے۔

مزید : بین الاقوامی