مغل شہنشاہ جہانگیر کسی اور کے نصیب کا بیٹا تھا ، شہنشاہ اکبرکی رانی بیٹے کی مراد پانے کے لئے کس بزرگ کی اہلیہ کے پاس گئی تھی؟ تاریخ مغلیہ کا سچا واقعہ

مغل شہنشاہ جہانگیر کسی اور کے نصیب کا بیٹا تھا ، شہنشاہ اکبرکی رانی بیٹے کی ...
مغل شہنشاہ جہانگیر کسی اور کے نصیب کا بیٹا تھا ، شہنشاہ اکبرکی رانی بیٹے کی مراد پانے کے لئے کس بزرگ کی اہلیہ کے پاس گئی تھی؟ تاریخ مغلیہ کا سچا واقعہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تاجدار اولیا ءحضرت شیخ سلیم چشتیؒ حضرت بابافریدالدین مسعود گنج شکرؒ کی اولاد سے تھے۔آپ صاحب علم وفضل، جامع شریعت وطریقت بزرگ تھے۔نہایت بردبار اور حلیم تھے ۔ معروف محقق ڈاکٹر ظہور الحسن شارب لکھتے ہیں کہ ایک بار مغل فرمانروا شہنشاہ اکبرآپ کی خدمت میں حاضر ہوا اوردعا کی درخواست کی ۔اکبر اولاد نرینہ سے محروم تھا ۔ دین اکبری کی وجہ سے بہت سے مسلمان شہنشاہ اکبر سے نالاں تھے۔وہ جب آپؒ کے در پرنیازمندی کے ساتھ پہنچاتو آپؒ نے اس پر شفقت فرمائی ۔ آپؒ نے شہنشاہ اکبر سے کہا۔

”افسوس ہے کہ تیری تقدیر میں بیٹا نہیں ہے۔“

شہنشاہ نے سنا توعرض کیا”چونکہ میری تقدیر میں بیٹا نہیں ہے اسی لیے توآپ سے عرض کیا ہے۔ آپ دعا کیجئے تاکہ مغل سلطنت کو اسکا وارث مل سکے“

آپؒ نے تھوڑی دیرمراقبہ کیا اور پھر فرمایا”اس ملک میں راجپوتوں کی حکومت بہت عرصے تک رہے گی۔اچھا کل بادشاہ بیگم کو میری بیوی کے پاس بھیج دینا“

دوسرے دن جب بادشاہ بیگم آپؒ کے یہاں آئی تو آپؒ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو رانی کی پشت سے پشت ملا کر بیٹھنے کا حکم دیا۔ جب آپؒ کی اہلیہ محترمہ رانی کی پشت سے پشت ملاکر بیٹھیں توآپؒ نے اپنی چادر دونوں پر ڈال دی۔ پھر اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ اپنا ہونے والا فرزندرانی کو دے دو ۔جب بادشاہ بیگم کے لڑکا پیدا ہواتو اس لڑکے کانام آپ نے اپنے نام پر ”سلیم“ رکھا۔ شہزادہ سلیم آپؒ کو ”شیخوبابا“ کہاکرتاتھا۔ شہزادہ سلیم اپنے والد شہنشاہ اکبر کے انتقال کے بعد تخت وتاج کا مالک ہوااور ”جہانگیر“ کے لقب سے مشہورہوا۔

مزید : روشن کرنیں