ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی لا ءکالج میں داخلے عدالتی فیصلے سے مشروط کر دئیے

ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی لا ءکالج میں داخلے عدالتی فیصلے سے مشروط کر دئیے
ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی لا ءکالج میں داخلے عدالتی فیصلے سے مشروط کر دئیے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی لا ءکالج میں داخلہ نہ دینے کے خلاف درخواست پر پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے داخلے عدالتی فیصلے سے مشروط کر دئیے، عدالت نے یونیورسٹی لا کالج انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 نومبر تک جواب داخل کرانے کا حکم دے دیاہے۔

وینزوویلا کے صدر خطاب کے دوران پیٹِس کے مزے اڑاتے رہے

مسٹر جسٹس شاہد وحید نے محمد یاسین کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے مشتاق موہل ایڈووکیٹ نے پیش ہوکر بتایا کہ درخواست گزار نے گورنمنٹ کالج سے بی ایس آنرز کا امتحان پاس کیا، پرنسپل لا کالج نے بی ایس آنرز کی بنیاد پر داخلہ دینے سے انکار کر دیا، اور کہتے ہیں کہ ایل ایل بی میں داخلے کے لیے بی اے ڈگری والے کو داخلہ دیا جائے گا، جس پر ہائیکورٹ سے رجوع کیا، عدالت نے پرنسپل کو درخواست گزار فارم وصول کرنے اور نام میرٹ لسٹ میں شامل کیا جائے، عدالت کے حکم پر پرنسپل نے داخلہ فارم تو وصول کرلیا لیکن نام میرٹ لسٹ میں شامل نہیں کیا، وکیل درخواست گزار کی طرف سے استدعا کی گئی کہ عدالت پرنسپل لا کالج کو نام میرٹ لسٹ شامل کر کے داخلہ دینے کا حکم دے۔

مزید : لاہور