شادی نہ کرنے کا سب سے بڑا نقصان جدید تحقیق میں سامنے آگیا، وہ نقصان جس کے بارے میں کسی مرد نے اب تک سوچا بھی نہ تھا، جان کر دل کرے گا کہ ابھی ہی۔۔۔

شادی نہ کرنے کا سب سے بڑا نقصان جدید تحقیق میں سامنے آگیا، وہ نقصان جس کے بارے ...
شادی نہ کرنے کا سب سے بڑا نقصان جدید تحقیق میں سامنے آگیا، وہ نقصان جس کے بارے میں کسی مرد نے اب تک سوچا بھی نہ تھا، جان کر دل کرے گا کہ ابھی ہی۔۔۔

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) شادی معاشرتی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مذہبی فریضہ بھی ہے اور اب جدید سائنس بھی اس کے بے شمارمثبت پہلو سامنے لا رہی ہے۔ ایک نئی تحقیق میں شادی کا ایک اور انتہائی اہم فائدہ سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”شادی شدہ لوگوں کے فالج کا حملہ ہونے کی صورت میں زندہ بچ جانے کے امکانات غیرشادی شدہ افراد کی نسبت حیران کن طور پر 71فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔“ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صرف برطانیہ میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو فالج ہوتا ہے، جن میں سے ایک چوتھائی مرض کے حملے کے ایک سال کے اندر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔۔ایسے میں جو لوگ مستحکم ازدواجی زندگی گزار رہے ہوں ان کے بچ جانے کی شرح دوسروں کی نسبت انتہائی بلند ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ شریک حیات اس مرض کی صورت میں اپنے پارٹنر کی بہترنگہداشت کرتی ہے جس سے اس کے روبہ صحت ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

نارتھ کیرولینا کی ڈوک یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی اس تحقیق میں فالج کا شکار ہونے والے 2ہزار 351افراد کا طبی ریکارڈ حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا اور اس سے مذکورہ نتائج اخذ کیے ہیں۔یہ تمام افراد ایسے تھے جو گزشتہ 5سال سے فالج کے مرض میں مبتلا تھے۔ریکارڈ کے تجزئیے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں نے ایک ہی شادی کی اور وہ اب تک مستحکم چل رہی تھی ان میں صحت مند ہونے کی شرح، ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے کبھی شادی نہیں کی تھی، 71فیصد تھی۔ اس کے علاوہ یہ انکشاف بھی ہوا کہ جن مریضوں کی شادی ٹوٹ چکی تھی یا جن کے شریک حیات کی موت واقع ہو چکی تھی ان کے بچنے کے امکانات غیرشادی شدہ افراد سے بھی کم تھے۔تحقیقاتی ٹیم کے رکن ڈاکٹر میتھیو ڈوپرے کا کہنا تھا کہ ”ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فالج کا مریض زندگی کے سابق صدمات سے بھی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ جن مریضوں کی طلاق ہو چکی تھی ان کے فالج کی صورت میں موت کے منہ میں جانے کے امکانات 23فیصد، جبکہ جن کے شریک حیات کی موت واقع ہو چکی تھی ان کے مرنے کے امکانات 25فیصد تھے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کی ایک سے زائد شادیاں ٹوٹ چکی تھیں ان میں موت کے منہ میں جانے کی شرح 39فیصد اور جو مریض ایک سے زائد بار بیوہ یا رنڈوا ہو چکے تھے ان میں یہ شرح 40فیصد تھی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس