’’ آپ کو یاد ہے آپ نے میرے ہاتھ چومے تھے ‘‘

’’ آپ کو یاد ہے آپ نے میرے ہاتھ چومے تھے ‘‘
’’ آپ کو یاد ہے آپ نے میرے ہاتھ چومے تھے ‘‘

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سیاستدان جاوید ہاشمی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھری عدالت میں ایسی دلچسپ بات کہہ دی کہ جسے سن کر چیف جسٹس میاں ثاقب نثاربھی پریشان ہو گئے اور کہا کہ آپ نے تو میری عقیدت کا راز ہی کھول دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اصغر خان کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت سینئر سیاست دان اور مسلم لیگ ن کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا اورپھر چیف جسٹس نے مخدوم جاوید ہاشمی کو بڑی خوشخبری سنا دی۔جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ اسد درانی نے لسٹ میں میر انام نہیں دیا لیکن نیب نے مجھے بھی نوٹس جاری کردیا حالانکہ مجھے سات آٹھ سال پہلے اس کیس سے بری کردیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں بیمار آدمی ہوں لیکن سپریم کورٹ کیلئے میرا احترام مجھے ہر سماعت پر یہاں کھینچ لاتا ہے اور میں سپریم کورٹ کے احترام میں لفٹ بھی استعمال نہیں کرتا، جب ہم یہاں پیش ہوتے ہیں تو ساری قوم دیکھتی ہے کہ کچھ کیا ہے تبھی عدالت جارہے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ ان لوگوں کے ساتھ عزت و احترام سے بات کریں اور اگر ان لوگوں کیخلاف ثبوت نہیں تو بتادیں جس کے بعد چیف جسٹس نے جاوید ہاشمی کو آئندہ نوٹس جاری نہ کرنے کا حکم دیا۔دوران سماعت جاوید ہاشمی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے کہا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے میرے ہاتھ چومے تھے اور آنکھوں سے لگائے تھے؟۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہاشمی صاحب آپ نے بھری عدالت میں آپ کی ذات سے میری عقیدت کا راز کھول دیا ہے لہٰذا اب میں اْصولی طور پر یہ کیس سننے کیلئے ڈس کوالیفائی ہوگیا ہوں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد