آسیہ کیس کو تشدد نہیں قانونی انداز میں اصلاح کر کے حل کرنا چاہیے : حافظ سعید

آسیہ کیس کو تشدد نہیں قانونی انداز میں اصلاح کر کے حل کرنا چاہیے : حافظ سعید

لاہور (آن لائن) امیر جماعۃالدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعیدنے کہا ہے کہ آسیہ مسیح کیس کی بنیاد پر تفتیش سے لیکر نظام شہادت تک سبھی قانونی سقم دور کئے جائیں۔گستاخیوں کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانونی نظام کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ اس مسئلہ کو تشدد نہیں قانونی انداز میں (بقیہ نمبر32صفحہ12پر )

اصلاح کر کے حل کرنا چاہیے۔ ہمیں دشمن کی سازشوں کو بخوبی سمجھتے ہوئے اسلام اور پاکستان کا دفاع کرنا ہے، حکومت سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کیخلاف فی الفور نظرثانی کی اپیل دائر کرے۔ توہین رسالت قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ۔ ایوب مسیح اور ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگوں کو راتوں رات بیرون ملک نہ بھیجا جاتا تو پاکستانی عوام یوں عدم اعتماد کا شکار نہ ہوتی۔ بین الاقوامی سطح پر شان رسالت ؐ میں گستاخیوں سے دیگر ملکوں میں اقلیتوں کو شہ ملتی ہے۔ حکمران بیرونی قرضوں کی پرواہ کئے بغیر تحفظ حرمت رسول ؐکا فریضہ سرانجام دیں۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران انہوں نے مزیدکہاکہ آسیہ مسیح کیس سے متعلق فیصلہ پر پورے ملک میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ علماء، دانشوروں، حکومت اور تمام طبقات کو معاشرے کی صحیح معنوں میں رہنمائی کرنی اور یکسوئی کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ اس وقت ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں۔ آسیہ مسیح کی طرح پہلے بھی پاکستان میں ایسے کئی مقدمات قائم ہو ئے۔ جب تک مغرب میں گستاخیوں کا یہ سلسلہ نہیں تھا دوسرے ملکوں میں بھی اقلیتوں کی طرف سے ایسے واقعات کم ہوتے تھے۔ آسیہ مسیح کیس کے فیصلہ پر فرانس میں خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ آسیہ مسیح کیس میں تفتیش کا صحیح معنوں میں حق ادا نہیں کیا گیا۔کیا اس بات کا جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے تھا کہ کیس میں گواہ کیوں منحرف ہوئے؟دو عورتوں کے علاوہ باقی نے گواہی کیوں نہیں دی؟۔ یہ سب کچھ جاننا پولیس اور حکومت کی ذمہ داری تھی۔ پاکستان میں عدل و انصاف قائم کرنا ہے تو اس میں شہادت کا معاملہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ گواہی کے تقاضوں کو پورا کئے بغیر عدل و انصاف پر فیصلے نہیں کئے جاسکتے اور نہ ہی انصاف قائم ہو سکتا ہے۔حکمرانوں کو اگر احساس ہو جائے تو یہ مقدمہ ہی قانونی نظام کی اصلاح کا باعث بن سکتا ہے۔

حافظ سعید

مزید : ملتان صفحہ آخر