انٹرنیٹ آزادی میں پاکستا ن کی درجہ بندی ساتویں سال بھی ڈاؤن

انٹرنیٹ آزادی میں پاکستا ن کی درجہ بندی ساتویں سال بھی ڈاؤن

نیویارک(این این آئی)دنیا بھر میں انٹرنیٹ آزادی کے حوالے سے رپورٹ جاری کرنیوالے ادارے نے مسلسل 7 ویں سال پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی نہ ہونیوالا ملک قرار دیدیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فریڈم ہاؤس نے اپنی عالمی رپورٹ میں پاکستان کو انٹرنیٹ کے لحاظ سے آزاد نہیں ملک قرار دیا ہے اور کہاکہ ہر سال پاکستان کی درجہ بندی میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

ہے۔ادارے نے اپنی رپورٹ میں بنیادی طور پر گزشتہ سال جون سے رواں سال مئی کے درمیان ہونیوالے واقعات کا جائزہ لیا اور یہ بات سامنے آئی کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ آزادی میں کمی آئی اور جمہوریت کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں 65 ممالک میں انٹرنیٹ کی آزادی کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ 26 ممالک میں بگاڑ دیکھا گیا جبکہ ان میں تقریباً آدھے سے زیادہ ممالک میں الیکشن کے دوران اس میں کمی آئی۔دوسری جانب اس حوالے سے پاکستان پر تیار کی گئی رپورٹ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے تحریر کی ۔رپورٹ کے مطابق رواں سال انٹرنیٹ آزادی کے لحاظ سے 100 بدترین ممالک میں پاکستان کا 73 واں نمبر رہا، اس کے علاوہ 2 اور جگہ پر پاکستان کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور انڈیکس تک رسائی میں رکاوٹوں میں پاکستان 25 میں سے 20 ویں نمبر پر رہا جبکہ گزشتہ برس 19 واں نمبر تھا۔رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ انٹرنیٹ پر انٹرنیٹ کی بندش ، پیچیدہ قانون برائے سائبر جرائم اور سیاسی مخالفین کے خلاف سائبر حملے موجودہ خرابی میں حصے دار ہیں۔

انٹرنیٹ کی آزادی

مزید : ملتان صفحہ آخر