بارانی علاقوں میں گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے حکمت عملی جاری

بارانی علاقوں میں گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے حکمت عملی جاری

لاہور(کامرس رپورٹر )محکمہ زراعت پنجاب نے بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کو گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے منظور شدہ اقسام کاشت کرنے کی ہدایت کی ہے ۔گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے این اے آر سی2009 ،بارس2009 ،دھرابی 2011 ،پاکستان2013 ،فتح جنگ2016 ،احسان 2016 ،بارانی2017 اور چکوال50 کی کاشت15 نومبر تک مکمل کریں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق گندم کی بوائی کیلئے40 تا50 کلوگرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں۔بیج کے اگاؤ کی شرح 85 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہیے نیز کاشت سے قبل بیج کو محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورہ سے پھپھوندی کش زہر ضرور لگا لیں۔گندم کی کاشت سے قبل عام ہل چلائیں اور سہاگہ دیں تاکہ اگنے والی جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں۔کاشتکار بوائی سے قبل دو مرتبہ عام ہل چلائیں اور بھاری سہاگہ دیں تاکہ وتر زمین کی اوپر والی تہہ میں آجائے اور بذریعہ ڈرل گندم کی کاشت یقینی بنائیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید بتایا کہ کم بارش والے علاقوں(راجن پور،لیہ،ڈیرہ غازی خان،مظفرگڑھ،بھکر،میانوالی اور خوشاب کے بارانی علاقہ جات) میں بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے وقت ایک بوری ڈی اے پی اورپونی بوری یوریا اورآدھی بوری ایس او پی یا دو بوری نائٹرو فاس اور آدھی بوری ایس او پی فی ایکڑ ڈالیں جب کہ درمیانی بارش والے علاقوں (چکوال،پنڈی،گھیب،پنڈدادخان کے علاقہ جات) اور زیادہ بارش والے علاقہ جات ( روالپنڈی، اٹک،جہلم،ناروال،گجرات،کھاریاں اور شکرگڑھ کے علاقہ جات) میں دو بوری ڈی اے پی اورسوا بوری یوریا اورآدھی بوری ایس او پی یا پانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ(18%) اور دو بوری یوریا اور آدھی بوری ایس او پی فی ایکڑ استعمال کریں ۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ بارانی گندم کے کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں اور بوائی کے بعد اگر18 تا20 دن کے اندر بارش ہو جائے تو کھیت وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلائیں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی اور وتر بھی دیر تک قائم رہے گا یا فصل کے اگاؤ کے بعد کھرپے یا کسولے سے خشک گوڈی کر کے فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک کریں۔

مزید : کامرس