خیر سگالی کا قابلِ تعریف مظاہرہ

خیر سگالی کا قابلِ تعریف مظاہرہ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن قائدین نے حکومت کے ساتھ تعاون کے معاملے پر کئی قدم آگے بڑھا دیئے ہیں،جس کے نتیجے میں امنِ عامہ کی نازک صورتِ حال سے نپٹنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر تیار ہو گئی ہیں،غالباً موجودہ حکومت کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ وزراء کی کمیٹی قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کے پارلیمینٹ ہاؤس میں واقع چیمبر میں گئی، جہاں انہوں نے وزراء کا کھلے بازوؤں اور مسکراتے کشادہ چہرے سے استقبال کیا، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے سے چیمبر میں موجود تھے۔ یوں دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ وزراء کی ایک ہی وقت میں ملاقات ہو گئی،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپوزیشن نے اِس نازک مرحلے میں اپنی اپنی پارٹیوں کی سیاست چمکانے سے گریز کرتے ہوئے حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی، حکومت کے اس وفد کی قیادت وزیر دفاع پرویز خٹک کر رہے تھے، جو اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جو اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لئے تشکیل کی گئی ہے۔ شہباز شریف نے اس موقع پر کہا اگرچہ تحریک انصاف نے ماضی میں مذہبی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے تاہم مسلم لیگ(ن) ایسا نہیں کرے گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت بھی نہیں کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ حکومت صبرو تحمل کا مظاہرہ کرے اور حکمتِ عملی سے کام لے کر مسئلے کا حل نکالے۔

آصف علی زرداری اور اُن کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے بھی مفاہمت اور تعاون کی بات کی ہے۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں حکومت کے ساتھ لازمی تعاون کریں گے۔ ہم کب تک ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے رہیں گے، مُلک کی خاطر کبھی تو ایک ہونا پڑے گا،ملکی صورتِ حال کے بارے میں آصف علی زرداری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزارتِ داخلہ کا قلمدان خود وزیراعظم عمران خان کے پاس ہے اس لئے اُن کی ذمے داری ہے کہ وہ معاملے کو حل کرائیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر وزیراعظم ایوان میں ہوتے تو وہ کہتے قدم بڑھاؤ، عمران خان ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

یہ مقامِ اطمینان ہے کہ اپوزیشن قیادت نے تمام تر شکر رنجیاں اور گلے شکوے بھلا کر حکومت کو حالات کی بہتری کے لئے غیر مشروط تعاون کی پیش کش کر دی ہے، ورنہ چند روز پہلے تک اسمبلی کے باہر اور اندر جو گرما گرم ماحول تھا اور ’’چوروں اور ڈاکوؤں‘‘ کو یاد دلایا جا رہا تھا کہ اگر اُنہیں چور ڈاکو نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے، شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بنانے کے معاملے پر بھی حکومت بہت تیزی کے ساتھ اتنی دور نکل گئی کہ وزیر اطلاعات اپنے جوشِ جذبات میں یہ تک کہہ گئے کہ اگر شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا تو کیا وہ کمیٹی کا اجلاس جیل میں بُلایا کریں گے، طنز کے ان تیروں کے ذریعے شہباز شریف کو دو پیغامات دیئے گئے ایک تو یہ کہ اُن کے اگلے برس جیل ہی میں گزریں گے اور دوسرا یہ کہ انہیں کمیٹی کا سربراہ بہرحال نہیں بنایا جائے گا،حالانکہ گزشتہ دس سال سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ قائد حزبِ اختلاف ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ ہوتا ہے،کیونکہ حکومت کا احتساب تو پارلیمانی اپوزیشن ہی نے کرنا ہوتا ہے،جس کے نمائندے قومی اسمبلی میں اِس وقت شہباز شریف ہی ہیں۔اگر حکومت یہ کام بھی اپنی ہی جماعت کے کسی رُکن کو پیش کرنا چاہتی ہے تو یہ بھی اپنی نوعیت کی درخشاں مثال ہو گی کہ حکومت کے حسابات کا احتساب (نام نہاد ہی سہی) بھی کوئی حکومتی رُکن ہی کر رہا ہو گا، لگتا یوں تھا کہ اِس معاملے کو بھی اَنا اور ضد کا مسئلہ بنا لیاگیا ہے،لیکن شہباز شریف، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی داد دینی چاہئے کہ انہوں نے کسی بات کو اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا اور حکومت کو ایک ایسے تعاون کی پیشکش کر دی ہے، جس کی اس وقت حکومت قوم اور سب کو ضرورت ہے۔

حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے جو کمیٹی قائم کی ہے، بظاہر ابھی اس نے کوئی خاص پیش رفت نہیں کی اور تحریک لبیک کی قیادت نے تو اعلان بھی کر دیا ہے کہ بات چیت شروع ہوئی تھی، جو کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ اِس وقت کن امور پر بات ہو رہی ہے یہ تو مذاکرات میں شریک حضرات کو ہی معلوم ہو گا تاہم صورتِ حال کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ معاملے کو جتنی جلد ممکن ہو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کر لیا جائے،کیونکہ راستوں اور کاروبار کی بندش سے عوام کو گو ناگوں تکالیف کا سامنا ہے، مختلف شہروں سے سبزیوں پھلوں وغیرہ کی نقل و حمل مشکل ہو گئی ہے اور یہ اشیا ایسی ہیں جو دو چار روز سے زیادہ ذخیرہ نہیں کی جا سکتیں، اس طرح کروڑوں روپے کا نقصان الگ ہوتا ہے اور ضرورت مند محروم رہنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے دوہرے عذاب میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں،کیونکہ جو تھوڑا بہت پھل وغیرہ منڈی سے بازاروں میں پہنچ جاتا ہے وہ بھی صارف کو مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے۔

سکولوں و کالجوں کی بندش سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، اتفاق سے اس وقت اعلیٰ کلاسوں میں داخلوں کا موسم بھی ہے،جن کی فیسیں وغیرہ جمع کرانے میں طلباء و طالبات کو مشکلات ہیں،جن طالب علموں کے تحریری امتحان اور انٹرویوز وغیرہ ہو رہے تھے وہ بھی منسوخ ہو گئے ہیں۔یہاں تک کہ اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کے لئے بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کے ایک گروپ کو سڑکوں کی بندش کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں اور اُنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور منتقل کرنا پڑا،چونکہ ایسے یاتریوں کے پاس محدود علاقوں کا ویزا ہوتا ہے اِس لئے سڑکوں کی بندش سے اُن کے مسائل دو چند ہو جاتے ہیں۔ یہ تو چند امور ہیں زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اس احتجاج سے متاثر نہ ہو رہا ہو، تشدد کا عنصر بھی در آیا ہے،جس کی وجہ سے مسائل سنگین ہو رہے ہیں، اِس لئے اِن حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر اس معاملے کو حل کریں شاید اپوزیشن کا یہ تعاون اس تلخی اور کڑواہٹ کو بھی کچھ کم کر سکے،جس کا ذائقہ گزشتہ دو ماہ میں بہت چکھا گیا ہے اور ضرورت تھی کہ اس میں کمی ہو،شاید یہی اس کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔

مزید : رائے /اداریہ