پنچائت کا انوکھا فیصلہ

پنچائت کا انوکھا فیصلہ

پنچائتی نظام برصغیر کا ایک دیرینہ اور روائتی نظام ہے، اس کے فوائد بھی گنائے جاتے ہیں، امکانی طور پر ایسا بعض دوسرے ممالک میں بھی ہوگا تاہم مشرق میں تو اس پر عمل کیا جاتا ہے، برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد گو اس نظام کی پہلے جیسی حیثیت تو نہ رہی لیکن یہ ختم نہ ہو سکا اگرچہ اس کی قانونی حیثیت نہیں لیکن روائت اتنی مضبوط ہے کہ جہاں یہ رائج ہے وہاں اس کی حیثیت بھی مستحکم ہے خصوصاً ہمارے ملک کے قبائلی علاقوں میں اس پر اب بھی عمل ہوتا ہے اور پنجاب اور سندھ کے کئی دیہات بھی اس سے منسلک ہیں ماضی کی جو روایات سننے میں آتی ہیں ان کے مطابق تو یہ نظام معاشرتی طور پر بہت مفید ہے اور اس کے ذریعے تنازعات مقامی طور پر حل ہو جاتے ہیں، اس نظام کو ماننے اور اس پر عمل کرنے والے تو گن گاتے ہیں، شاید یہ گزرتے زمانے کا اثر ہے کہ موجودہ دور میں قانون کی عمل داری کے باوجود پنچائت کا سلسلہ جاری ہے اور قبائلی علاقوں میں تو یہ مستقل سی حیثیت رکھتا ہے، تاہم اب پنچائتوں کی غیر جانب داری پرانے تہذیبی دور والی نہیں رہی، بلکہ اجارہ داری بن گئی اور طاقتور کی غلام ہے، اس سے اب کمزوروں کے استحصال کا کام لیا جاتا ہے۔دیہات سے ملنے والی خبروں میں ہمیشہ ونی کی رسم کے فیصلوں کی اطلاعات ملتی تھیں کہ کسی جرم کے جرمانے کے طور پر چھوٹی عمر کی بچی کو بوڑھے یا دوگنا، سہ گنا عمر والے کے ساتھ منسوب کردیا جاتا ہے، ایسا ملک میں خلاف قانون ہے اور کئی امور میں پولیس نے کارروائی بھی کی، اب راجن پور سے خبر ہے کہ وہاں پنچائت نے دو ڈاکٹر بہنوں کا رشتہ ان کے کزنز سے کرنے کا فیصلہ سنایا اور حکم دیا کہ یہ شادیاں ہوں گی اور اگر رشتے نہ دیئے گئے تو اس کنبے کی 123۔ ایکٹر زمین ضبط کرلی جائے گی۔ دونوں ڈاکٹر بہنوں نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ ان کے کزنز ان پڑھ ہیں، ڈاکٹر بہنوں کے بھائی طارق مزاری کے مطابق دس سال قبل اس کی شادی اپنے قریبی رشتہ داروں میں ہوئی اب وہ لوگ اس کی بہنوں کا رشتہ مانگتے ہیں، سرپنچ رفیق مزاری نے اسے وٹہ سٹہ شادی کا رواج قرار دیا کہ بچی دی جائے تو پھر اس کے بدلے رشتہ بھی مانگتے ہیں۔ڈاکٹر بہنوں کے احتجاج کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ متعلقہ ڈی، ایس، پی نے گھریلو تنازعہ اور کزنز میں زمین کا جھگڑا کہہ دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کزنز یا بھائیوں میں زمین کا جھگڑا ہے تو وہیں تک کیوں محدود نہیں بات ان پڑھ لڑکوں کی ڈاکٹر لڑکیوں کے ساتھ زبردستی شادی کی کیوں ہوئی؟ بادی النظر میں یہ بھی طاقتور کی عدالت کا فیصلہ ہے اور معاشرتی روگ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس مروجہ نظام کی طرف توجہ دینا ہوگی کہ آج کے دور میں جب پورا قانون موجود ہے اور شرعی قوانین بھی لاگو ہیں تو یہ پنچائتی نظام کیوں چل رہا ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس نظام کو قطعی طور پر ختم کردیا جائے اور پنچائت کرنا جرم قرار دیا جائے تاکہ طاقتور کو کمزوروں کے استحصال کا موقع نہ ملے، اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہو تو وہ بھی کرلی جائے، راجن پور کے اس واقعہ کو مثال بھی بنایا جاسکتا ہے، پولیس کے مداخلت نہ کرنے پر متعلقہ پولیس افسروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے اور فیصلہ کرنے والوں کو قانون کی زد میں لایا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ