حرمت رسولؐ پر جان بھی قربان، حالات کا جائزہ لیں!

حرمت رسولؐ پر جان بھی قربان، حالات کا جائزہ لیں!
حرمت رسولؐ پر جان بھی قربان، حالات کا جائزہ لیں!

  

انٹر سروسز پبلک ریلشنز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بھی تحریک لبیک کی طرف سے احتجاج کے حوالے سے مسلح افواج کا نقطہ نظر بیان کیا، ان کے مطابق رسول اکرمؐ کی حرمت کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے اور مسلمان کے لئے تکریم ہی سب کچھ ہے۔ ان کے مطابق مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف عوام کے تعاون سے جو جدوجہد شروع کی تھی وہ تکمیل کے مراحل میں ہے اور افواج پاکستان اس فرض کو پورا کرنا چاہتی ہیں، ان کا موقف تھا کہ حالیہ احتجاج کے سلسلے میں مذاکرات کے ذریعے ہی بات ہونا چاہئے اور عدالتوں میں جو امور زیر سماعت ہیں ان کا فیصلہ عدالتوں ہی کو کرنے دیا جائے۔

ان کے اس بیان سے واضح تھا کہ مسلح افواج مداخلت کے حق میں نہیں تاہم ان کو بلایا جاتا ہے تو وہ اپنے آئینی فرائض کو کماحقہ سرانجام دیں گی، دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ حکومت کسی صورت بھی تشدد نہیں چاہتی اور ہر ممکن طریقے سے مذاکرات کرکے معاملہ سلجھانا چاہتی ہے، تاہم اس عمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے کہ ریاست کی اپنی حیثیت ہوتی ہے، آج ہی یہ بھی اطلاع ہے کہ اب تک تحریک لبیک کے راہنما مولانا خادم حسین رضوی اور مولانا افضل قادری سے پانچ بار رابطہ اور مذاکرات ہوئے، بقول تحریک لبیک یہ ناکام رہے ہیں جبکہ فواد چودھری نے یہ بھی کہا ہے کہ معاملہ کو پرامن طور پر حل کرنے کے لئے وفاقی وزیر مذہبی امور رابطہ اور مذاکرات کریں گے۔

یہ مسئلہ ایک خاتون آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ کے فل بنچ کی طرف سے بریت سے پیدا ہوا، عدالت نے اپیل منظور کی اور شک کا فائدہ ملزمہ کو دیتے ہوئے اسے بری کردیا، وہ قریباً نو سال سے جیل میں تھی کہ توہین رسالت کے الزام میں اسے ماتحت عدالت نے موت کی سزا دی اور عدالت عالیہ نے اپیل خارج کرکے سزا برقرار رکھی تھی، اب احتجاج نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، تحریک لبیک نے ملک کے مختلف شہروں میں ایسے چوراہوں پر ناکہ بندی اور دھرنا دے کر راستے بند کئے جو ٹریفک کو کئی حصوں سے ملاتے ہیں، چنانچہ یہ نظام درہم برہم رہا، اگرچہ دوسری دینی جماعتوں نے تحریک میں حصہ نہیں لیا، لیکن ان کی طرف سے بھی حرمت رسولؐ کے سلسلے میں موقف پر اصرار کے علاوہ فیصلے پر احتجاج کیا اور آج (جمعہ) کے روز نماز جمعہ کے موقع پر بھی حرمت رسولؐ کے حوالے سے اپنے موقف کے اعادہ کی بات کی، ادھر تحریک لبیک نے ہڑتال اور پہیہ جام کی کال دے رکھی ہے۔

یہ بہت حساس مسئلہ ہے اور پھر جو محترم بزرگ چھوٹی چھوٹی بات پر فتوے دے کر قتل تک کے حکم صادر کرسکتے ہیں ان سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے،بہرحال ایک مسلمان (مقلد) صحافی کی حیثیت سے یہ فرض بنتا ہے کہ اب اس عمل پر بات کی جائے، جہاں تک رسول اکرمؐ کی ذات اقدس کا تعلق ہے تو ان کی حرمت ایمان کا جزو ہے کہ ان کو اللہ کا رسولؐ مانے بغیر کوئی ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا یہ شرط اول ہے اور ہم تو یہ تصور نہیں کرسکتے کہ کوئی مسلمان دل میں بھی شائبہ لاسکتا ہے، یوں بھی ہم خود تحریک ختم نبوت کا حصہ رہے۔ 1953ء میں ختم نبوت کے لئے جو تحریک چلی ہم اس کے ادنیٰ سے کارکن تھے اور پھر ہمیں مولانا ابو الحسنات، امین الحسنات، سید خلیل قادری،، پیر فضل عثمان کابلی مجددی، میاں جمیل احمد شرق پوری، اور مولانا عبیداللہ انور کے علاوہ مولانا مفتی محمود اور دوسرے مسلکی اکابر علماء سے قربت کا دعویٰ بھی ہے۔ اس لئے ہم اس عمل اور تحریک سے کماحقہ آگاہ ہیں، اس لئے ہماری گزارشات کو عقیدت ہی کے خانے میں شمار کریں تو مہربانی ہوگی۔

جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے تو بصد ادب یہ عرض ہے کہ تحریک لبیک کو نہ تو سیاسی حمائت حاصل ہے اور نہ ہی اس عمل میں جو وہ کرگزرے ہیں دوسری دینی جماعتوں کی تائید مل سکی ہے، اگرچہ حرمت رسولؐ کے حوالے سے وہ بھی فیصلے پر معترض اور احتجاج کر رہی ہیں،اسی طرح اس دھرنے والوں کو خود ان کے ملک کے تمام حضرات کی حمائت نہیں ملی بلکہ ان کے اپنے عقیدت مند ہی ان کے ساتھ عمل میں شریک ہوئے ہیں، عام شہری سڑکوں کی بندش اور کاروبار زندگی کے تعطل سے پریشان ہیں کہ حفاظتی انتظامات کے تحت سکول، کالج بند ہیں، مارکیٹوں اور بازار والوں نے عقیدت یا خوف کے باعث دوکانیں بند کیں اگرچہ روزمرہ والے حضرات روزی کما رہے ہیں، اسی طرح کوئی پہیہ جام نہیں ہوسکا، یوں تو پہلے ہی روز سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ریلوے کا آپریشن روک دیا گیا تھا اور وہ آج (جمعہ) کو بھی بند ہی رہا، تاہم ہر محلے اور ہر بازار میں خود تحریک والوں کے مسلکی بھائیوں نے اپنی جگہ احتجاج کیا کہ بچوں کی تعلیم اور لوگوں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں۔

ہم نے عرض کیا کہ 1953ء کی ختم نبوت تحریک میں ہم رضا کار تھے تو بعد میں فیلڈ مارشل ایوب خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک تک ہم نے بطور صحافی کوریج کی ہوئی ہے اور یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسی تحریک میں نہ چاہتے ہوئے حالات خراب ہو جاتے ہیں اور شرپسند عناصر کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ تحریک کو شدت کی طرف لے جائیں اور تشدد کے ذریعے حالات خراب کریں، پاکستان اس وقت گوناگوں مسائل سے دو چار ہے ایسے میں اس نوعیت کے ہنگامے قومی سلامتی کے منافی ہیں اور یہ موقع نہیں آنا چاہئے، ہم تحریک لبیک کے حق احتجاج کو چیلنج نہیں کرتے لیکن ان سے یہ ضرور کہیں گے وہ غور کریں کہ ان کے عمل میں عوام کو کیا پریشانی ہوئی اور ان کے دلوں میں احترام کا رشتہ کمزور ہوا ہے، اس لئے ان مہربانوں کو توجہ کرنا چاہئے اور مذاکرات ناکام بنانے کی بجائے ان کو مکمل طور پر کامیاب کرانا چاہئے کہ فساد نہ پھیل پائے۔

مزید : رائے /کالم