بے معنی سوالات

بے معنی سوالات
بے معنی سوالات

  

پاکستان امن اور ترقی کا گہوارہ کیسے بن سکتا ہے،یہ ہر پاکستانی سوچتا ہے۔ہمارے دوست عارف میاں نے بھی اِس حوالے سے بہت سوچا۔ سوچتے سوچتے تھک گئے یا پتا نہیں کیا ہوا،دن رات گردان کرنے لگے کہ ہمارے سارے مسائل کی جڑ برصغیر کا دو ممالک میں بٹ جانا ہے، پھر وہ کاغذ قلم تھام کر اہلِ دانش سے ملے، سوال اس اس تکنیک سے کئے کہ کسی طرح سے ان سے یہ جواب لے لیں کہ تقسیم کے ذمے دار جناح صاحب تھے،وہ اگر قیام پاکستان کی تحریک نہ اٹھاتے، ہندوستان متحد رہتا تو آج یہاں ہر شخص چین کی بانسری بجا رہا ہوتا اور ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔

عارف میاں ملکی بٹوارے سے اتنے ناراض ہیں کہ وہ بانی پاکستان کو قائداعظم کے خطاب سے نہیں ’’جناح صاحب‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ان کی کتاب ’’برصغیر کیسے ٹوٹا؟‘‘ میں تعلیم، بیورو کریسی، صحافت، سیاست اور قانون سے تعلق رکھنے والے بہت سارے دانشوروں کے انٹرویوز شامل ہیں۔ان کی غالب تعداد نے اول تو یہی جواب دیا کہ انڈین نیشنل کانگریس کے ہندو رہنما جب کسی طرح بھی دس کروڑ مسلمانوں کو مستقبل کے آئینی ڈھانچے میں باعزت مقام دینے پر آمادہ نہ ہوئے تو اسلامیانِ ہند نے قائداعظمؒ کی رہنمائی میں پاکستان کے حصول کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ دوسرے، اب ایسے سوالات اُٹھانا لاحاصل ہے کہ تقسیم کا المیہ کیوں پیش آیا۔دانش مندی یہی ہے کہ اب پاکستان اور بھارت اپنے مسائل مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرنے پر توجہ دیں۔

عارف میاں کی تسلی تشفی نہیں ہوئی۔اس کے بعد وہ اہلِ دانش سے یہ پوچھنے چلے گئے کہ کیا پاکستان کا قیام جمہوری عمل کا نتیجہ ہے اور کیا عقیدہ اور سیاست اکٹھے رہ سکتے ہیں؟ ان کی حال ہی میں چھپنے والی کتاب کا عنوان ہے:’’ پاکستان، آئین اور عدلیہ‘‘۔اس میں قانون کی دُنیا سے متعلق ان بارہ شخصیات سے انٹرویوز شامل ہیں: جسٹس(ر) جیہہ الدین احمد،عابد حسن منٹو، بیرسٹر اعتزاز احسن، علی احمد کُرد، احسان وائیں، جسٹس(ر) شبر رضا رضوی، عرفان قادر، لطیف آفریدی، جسٹس (ر) سید افضل حیدر، بیرسٹر ظہور الحق، احمد اویس اور ایس ایم ظفر۔

مذکورہ بالا کتاب میں بلاشبہ پاکستان کی قانونی اور دستوری تاریخ سے متعلق کئی اہم مباحث ہیں، جن سے ہمیں اپنے سیاسی نظام کی پیچیدگیوں اور بالادست طبقات کے مفادات اور حکمت عملی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔البتہ فاضل مصنف نے اقلیتوں کے مسائل کے پردے میں قادیانیوں کے دفاع کی بھونڈی سی کوشش کی ہے۔انہیں پاکستان کا اسلامی اور جمہوری مملکت ہونا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ پاکستان کا آئین جو پاکستانی عوام کی امنگوں کا مظہر ہے اور جس کی تشکیل میں وفاق میں شامل چاروں یونٹس کے نائندگان نے بھرپور حصہ لیا تھا، اس کی حیثیت کو اپنے سوالات کے ذریعے مشکوک بنانے کی فضول سعی کی ہے۔انہوں نے آئین ایسی مقدس قومی دستاویز پر بار بار اعتراضات کا کیچڑ اچھال کر افسوسناک حرکت کی ہے۔ ذرا سوالات کا اسلوب دیکھیے:

*۔۔۔ آئین میں کوئی خاص خامی نہیں ہے؟

*۔۔۔ کیا پاکستان کا آئین کنفیوزڈ ہے؟

*۔۔۔ آپ ذاتی طور سے سمجھتے ہیں کہ مذہب آئین کے اندر نہیں ہونا چاہئے؟

*۔۔۔ آئین میں مذہب کو شامل کیا گیا، اسلام کو ریاست کا مذہب بنایا گیا اور قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔ کیا یہ آئین کی خامی نہیں؟

عارف میاں کے ایسے سوالات کے جواب میں تمام دانشوروں نے کھل کر تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کا آئین ہر لحاظ سے ایک مکمل دستاویز ہے، اس میں اقلیتوں کے حقوق کا پورا پورا تحفظ کیا گیا ہے،لیکن عارف میاں کو قادیانیوں کا دستوری طور پر غیر مسلم قرار پانا بُری طرح کھٹکتا ہے، وہ پہلو بدل بدل کر ان کا مسئلہ اٹھا کر آئین کو ناقص دستاویز بتاتے ہیں۔ سوال دیکھیے:

’’1973ء میں آئین بنا اور اگلے سال 1974ء میں آئین کے تحت احمدیوں کو زبردستی غیر مسلم قرار دیا گیا،بنیادی حقوق کا کیا بنا؟

بیرسٹر اعتزاز احسن نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے سے متعلق مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے جو جواب دیا، وہ لائق مطالعہ ہے۔ اعتزاز کا کہنا ہے:

’’جہاں تک احمدیوں کے متعلق آئینی ترمیم کا تعلق ہے، حقیقت میں پیپلزپارٹی کی طرف سے اس کشیدگی کی بڑی انکوائری کی گئی جو طلبا تصادم کی وجہ سے احمدیوں کے متعلق پیدا ہو گئی تھی،بڑی تحریک چلی تھی۔ اس کو کنٹرول کرنے کے لئے بھٹو شہید نے پیپلزپارٹی کی حکومت نے قومی اسمبلی کی کمیٹی بنا دی۔یحییٰ بختیار بتاتے ہوتے تھے کہ شاید آئینی ترمیم نہ آتی۔ جب جرح کر ر ہے تھے تو امیر جماعت احمدیہ مرزا طاہر نے اس سوال پر کہ حلفیہ بتائیں جو جماعت احمدیہ میں نہیں ہیں،آپ انہیں مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں؟مرزا طاہر نے قومی اسمبلی کے سامنے جواب نفی میں دیا،جس پر قومی اسمبلی کے ممبران میں ہیجان پیدا ہوا۔اس کی وجہ سے یہ ترمیم کی گئی۔۔۔ آئین کے اندر بنیادی حقوق آرٹیکل 8سے آرٹیکل28 میں دیئے گئے ہیں، یہ جتنے حقوق ہیں تکنیکی طور پر جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے سب پاکستانی شہریوں کو دوسرے پاکستانی شہریوں کی طرح برابر حاصل ہیں۔ (ص105-106-)

قادیانی مسئلے کے حوالے سے بار بار سوال اُٹھانے پر اعتراز احسن زچ ہو گئے اور انہیں کہنا پڑا: ’’مَیں سمجھتا ہوں کہ آپ معاملے کو زیادہ کھینچ کر لمبا کر رہے ہیں‘‘۔ (ص107:)

مَیں عارف میاں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ محض سوالات اُٹھانے کی بجائے ٹھوس ریسرچ کی طرف آئیں اور تحقیق کے لئے جو موضوع اختیار کریں اسے پورے استدلال کے ساتھ پیش کریں اور اس طرح سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کریں۔محض لفظوں کے پھاگ اڑانے سے کچھ نہیں ہو گا!!

مزید : رائے /کالم