جانوروں کی دنیا

جانوروں کی دنیا

نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں محو پرواز عقابوں کے جھنڈ نے نیچے نگاہ دوڑائی تو ایک جنگل کا منظر تھا جہاں ایک عجیب افراتفری کا سماں تھا۔ چند ہاتھیوں،چیتوں، ریچھوں اور بھیڑیوں کا غول تھا، جو ایک بڑے جنگلی ہجوم کے آگے رواں تھا۔ اس جنگلی مخلوق میں اکثریت لومڑوں، بندروں، ہرنوں، بارہ سنگھوں، لگڑ بھگڑوں، کینگروؤں، زرافوں اور زیبراؤں پر مشتمل تھی۔ ہاتھی اپنی سونڈیں اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخ رہے تھے، ریچھ اور بھیڑیئے بھی عجب دھمالی انداز میں چنگھاڑ رہے تھے، لومڑوں، بندروں کے ساتھ چمگادڑیں بین کر رہی تھیں۔ جنگلی بلیوں کے گلوں سے لٹکے چوہے بھی اچھل اچھل کر احتجاج کر رہے تھے۔ باقی ماندہ جنگلی مخلوق کے ساتھ مینڈکوں، جھینگروں، لمبی ٹانگوں والے مکڑوں کے گروہ بھی نوحہ کناں تھے، گویا یہ کسی بڑے احتجاج کا مظاہرہ تھا۔ وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے تھے۔ ان سب کا ایک ہی نعرہ تھا۔۔۔’’ہمارا شیر بادشاہ واپس کرو‘‘۔

اڑتے ہوئے عقابوں میں سب سے عمر رسیدہ باز انہیں نہایت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ساتھی عقاب بھی حیرانی کے عالم میں تھے۔ انہوں نے اپنے باراں دیدہ باز سے اس جنگلی افراتفری کا سبب پوچھا تو مسکرایا اور کہنے لگا: ’’چند دھایاں پیشتر ایک نا گہانی بلا کی آمد نے اس جنگل کا حسن و سکون برباد کرنا شروع کیا تھا جس کا شاید یہ کوئی انجام ہے، آج ایک نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ اس جنگل کا بادشاہ (شیر) چند انسان شکاریوں کے جال میں پھنس چکا ہے۔ ایک اونچی مچان پر موجود ان شکاریوں نے شیر کو اپنے جال میں پھنسا کر اچک لیا ہے اور ہوا میں معلق کر دیا ہے۔ اور اب جنگلی مخلوق کی اکثریت اس تگ و دو میں ہے کہ کسی طرح ’’بادشاہ‘‘ کو بچایا جا سکے۔ لہٰذا وہ ایک جلوس کی شکل میں احتجاج کرنے نکل پڑے ہیں۔یہ سن کر ایک نو عمر باز نے سوال داغ دیا: ’’مگر احتجاجی جنگلی مخلوق میں تو کئی ایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر شیر کی رال ٹپکا کرتی تھی اور جنہیں شیر اپنے دستر خوان کی زینت بنایا کرتا تھا۔ مثلاً یہ ہرن، بارہ سنگھے وغیرہ۔ انہیں بھلا شیر سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے‘‘؟۔۔۔ یہ سن کر معمر باز ہنس پڑا اور بولا: ’’تمہیں اللہ نے تیز ترین آنکھوں سے نوازا ہے۔ مگر ابھی تم کم سن ہو، تمہارا تجربہ اور علم ابھی اتنا وسیع نہیں۔ میں اس جنگل کی تاریخ کے کئی عشروں سے واقفیت رکھتا ہوں۔ اس جنگلی مخلوق کا احتجاج اور در پردہ سرگوشیاں ان کے چہروں سے جان جاتا ہوں، تم اگر غور سے ان کی آنکھوں میں جھانک سکو یا دلوں کو پڑھ سکو تو جان جاؤ گے کہ ان ہاتھیوں، ریچھوں، لومڑوں، بندروں، ہرنوں وغیرہ کا واویلا ’’مصنوعی‘‘ سا ہے۔ بادشاہ سے کوئی مخلص نہیں، یہ سب منافقت اور ریا کاری ہے، کیونکہ بادشاہ بھی اب ان سے مخلص نہیں رہا تھا۔

ایک اور نو آموز، جواں سال عقاب سے یہ جواب ہضم نہ ہوا اور اس نے سوال کیا: ’’بادشاہ تو بادشاہ ہوتا ہے اس کا کسی کے ساتھ مخلص یا غیر مخلص ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا، اس کا ہر حکم واجب اطاعت ہوتا ہے خواہ جیسا بھی ہو۔ پھر یہ ہنگامہ کیسا؟‘‘ معمر باز نے ایک سرد آہ بھری اور گویا ہوا: ’’برخوردار! یہ ایک طویل داستان ہے۔ کبھی یہ جنگل نہایت پر امن ہوا کرتا تھا اور اس کا بادشاہ بھی ایک جنگلی شیر ہوا کرتا تھا، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جس ناگہانی بلا کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، اس نے ایک عجیب کرشمہ دکھایا۔ جس طرح آج ایک اونچی مچان پر موجود چند شکاریوں نے شیر کو ہوا میں معلق کر رکھا ہے، اس بلا کے شکاری ساتھیوں نے بھی اس شیر کے باپ کو (جو کہ اس وقت جنگل کا بادشاہ تھا) اسی طرح جال میں پھنسا کر جنگل سے دور کسی اور ہی دنیا میں لے گئے تھے، جہاں اُن جیسی انسانی مخلوق بسیرا کرتی تھی جو دوٹانگوں پر چلتی تھی، اُن کے لئے تو وہ خونحوار شیر ایک ’’عجوبہ‘‘ تھا۔

اُن شکاریوں نے شیر کو ایک آہنی پنجرے میں محبوس کردیا اور دیگر انسانوں پر اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کے لئے اسے تماشا بنا دیا۔ اُس شیر کے لئے تو وہ لمحات گویا قیامت کی گھڑی تھی، مگر جب روزانہ ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر اُسے مرغوب غذائیں ملتی گئیں تو وہی قفص اُس کے لئے جنت نظیر چمن ہوگیا۔ شکاریوں نے اپنی ہم جنس مخلوق کے لئے تفریحِ طبع کا سامان مہیا کردیا تھا۔ انسان جوق در جوق آتے، اُسے دیکھتے، مسکراتے اور آگے بڑھ جاتے۔ رفتہ رفتہ شیر بھی انسان آشنا ہوگیا۔ اُس کا وہ دورِ کہولت اُس کی درندگی چھین لے گیا، اُس میں انسانوں جیسی علامات سرایت کرتی گئیں۔ وہ جنگلی شیر، جو اپنی طاقت کے بل پر کسی ہرن، کسی کمزور چوپائے کو پھاڑ کھانے کے بعد بچا ہوا گوشت دیگر جنگلی مخلوق کے سپرد کرکے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتا تھا، وہ انسانوں میں آکر ایک نئے ذائقہ سے آشنا ہوگیا۔ وہ اپنی ’’سادہ درندگی‘‘ بھول گیا۔

وقت گزرتا رہا، محبوس شیر کی جوانی ڈھلنے لگی تو نئے شکاری جنگل سے ایک تنومند شیر پکڑ لائے اور ترس کھاکر اُسے واپس جنگل میں چھوڑ دیا ۔ بوڑھا شیر جب واپس جنگل لوٹا تو اُس کا بیٹا جوان ہوچکا تھا، وہ جنگلی روایات کا امین تھا اور اپنے ہی ڈھنگ سے جینے کا عادی تھا، مگر بوڑھا شیر، انسانوں میں رہ کر جو کچھ سیکھ سمجھ آیا تھا، وہ طلسمِ ہوش رُبا داستانیں اپنے نو آموز بیٹے کو سناتا رہتا۔ وہ اپنے جواں سال شیر بیٹے کو انسانوں میں پائی جانے والی عیاریاں اور لالچ و ہوس کی داستانیں سناتا اور اُسے سمجھاتا کہ انسان ایک بہت چالاک مخلوق ہے۔ جو اپنی عقل و فہم کی بدولت، ہم جیسے طاقتور جانوروں کو زیر کرنے کا ہنر جانتی ہے، بلکہ اُس نے یہ بھی بتایا کہ اُس کے پنجرے سے متصل جنگل کے اکثر بڑے بڑے طاقتور جانور جیسے چیتے، ہاتھی، ریچھ، بھیڑیئے بھی اُس نے قابو کر کے بند کر رکھے ہیں، جنہیں وہ مختلف طریقوں سے اپنے تابع بنالیتا ہے، حتیٰ کہ ہاتھیوں، بندروں سے بھی کرتب کروا کے دیگر انسان کو مخلوظ کرایا جاتا ہے۔جواں سال شیر اپنے بوڑھے باپ کی باتیں سن کر متحیر ہوجاتا۔

پھر ایک دن اُس نے اپنے باپ سے دریافت کیا: ’’ یہ لالچ طمع اور ہوس(جو کہ انسانوں میں بکثرت پائی جاتی ہے) کیا چیز ہیں اور ان کے فوائد کیا ہیں؟ بوڑھے شیر نے جواب دیا کہ تمہیں اپنا پیٹ بھرنے کے لئے روزانہ محنت مشقت کرکے شکار ڈھونڈنا پڑتا ہے، جبکہ کبھی کبھی تمہیں بھوکا بھی سونا پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے تمہیں پُرسکون نیند نہیں آتی اور بے چینی میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ ہم جنگلی درندے ہی نہیں تمام چرند پرند اور سمندری مخلوق فقط ’’آج‘‘ کی سوچ رکھتے ہیں اور آنے والے ’’کل‘‘ کا ادراک نہیں رکھتے، جبکہ فقط انسان میں یہ ’’خوبی‘‘ پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے آنے والے کل کے بارے میں بھی سوچتا ہے اور آنے والے وقت کے لئے مال و اسباب اکٹھا کرتا رہتا ہے اور کبھی بھوکا نہیں سونا چاہتا۔ کئی ذہین و فطین انسان تو اپنے مرجانے کے بعد اپنی آنے والی نسلوں کی لذتِ کام و دہن کا بندوبست بھی کر جاتے ہیں اور یہی جبلت ’’طمع اور ہوس‘‘ کہلاتی ہے۔ اسی ہوس و طمع کی بدولت انسان، جب کبھی انسانیت سے بھی گر جائے تو اُسے ایک لالچی انسان کہا جاتا ہے اور جن انسانوں میں یہ علتیں نہیں پائی جاتیں وہ درویشانہ، اولیانہ اور پیغمبرانہ ہستیاں بن جاتے ہیں‘‘۔

جواں سال شیر یہ سُن کر مسکرا دیا اور پوچھا: ’’کیا ہم یہاں جنگل میں انسانی ہوس و طمع جیسے حربے استعمال کر کے بھوک اور روزانہ کی دربدری سے نجات نہیں پا سکتے اور اپنے بعد آنے والی اپنی نسلوں کے لئے خوراک کا انتظام نہیں کر سکتے؟ شیر خوش ہو کر بولا:’’کیوں نہیں؟ لیکن اس کے لئے ہمیں عیاری اور چالاکی سے کام لینا ہو گا اور جنگلی مخلوق میں سے جو تگڑی اور طاقتور مخلوق ہو گی اُسے ساتھ ملانا ہو گا،یعنی ہاتھی، ریچھ، بھیڑیئے وغیرہ۔ ہمیں جو شکار زیادہ لذت دے اُسے اپنے طاقتور ساتھیوں کو ساتھ ملا کر بہت کم عرصے میں اکٹھا کرنا ہو گا اور اُسے چھپا دینا ہو گا،کیونکہ اسی طرح ہم بھی انسانوں کی طرح آنے والے کل سے بے فکر ہو سکتے ہیں‘‘۔چنانچہ دونوں باپ بیٹے نے اپنے اقرباء (جن میں لومڑ پیش پیش ہے اور تمہیں شاید علم نہ ہو کہ لومڑ جنگل کا سب سے چالاک جانور ہوتا ہے) اور جنگل کی دیگر طاقتور مخلوق، جن میں ہاتھی، بھیڑیئے، ریچھ وغیرہ شامل تھے، اُنہیں اکٹھا کیا اور حرص،طمع اور لالچ کے ’’فوائد‘‘ سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں ہمنوا بنا لیا۔

لومڑ کو ہدف دیا گیا کہ نہایت کم عرصے میں جنگلی غذائی چوپائیوں، ہرنوں،بھینسوں اور دیگر کھائے جانے والے جانوروں کو دھوکہ دہی سے ورغلا کر لایا جائے اور وہ شکار کرتے جائیں گے،چنانچہ کچھ ہی عرصے میں حقیر جنگلی مخلوق کی اکثریت کو چیر پھاڑ کے انہوں نے خفیہ مقامات پر ذخیرہ کرنا شروع کر دیا‘‘۔۔۔ اتنا کہہ کر معمر باز خاموش ہو گیا،ساتھی عقاب بھی کسی اانجانے کرب میں مبتلا ہو گئے۔ معاً ایک تیز فہم عقاب نے سوال کیا:’’مگر کیا شکار کی گئی مخلوق کی اکثریت اپنے اوپر ڈھائی جانے والی قیامت کے باوجود شیر کے لئے ہمدردانہ جذبات رکھتی ہے اور اُس کے حق میں رطب اللسان ہے، کیا یہ اتنی ہی احمق مخلوق ہے کہ اُسے اپنے آپ پر ظلم ڈھانے والے بھی اچھے لگتے ہیں؟‘‘ معمر باز نے جواب دیا،’’یہ مخلوق جانتی ہے کہ اسے ہر حال میں کسی نے کھا جانا ہے۔خواہ وہ شیر ہو یا باہر سے آنے والا کوئی شکاری۔یہ شخصیت پرست مخلوق ہے اور باہر سے آنے والے کسی شکاری کی نسبت اپنے ہی شیر کا شکار بننے کو ترجیح دیتی ہے۔

آج جن شکاریوں نے شیر کو ہوا میں معلق کر رکھا ہے،دراصل وہ جنگل میں اپنے لئے شکار کی کمیابی پر پریشان ہیں اور جان چکے ہیں کہ یہ شیر حرص و لالچ میں انسانوں سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گیا تھا۔اب یہ اِس کوشش میں ہیں کہ شیر اور اُس کے ساتھی ’’ذخیرہ شدہ‘‘ جنگلی خوراک کی نشاندہی کریں اور اُسے واپس لوٹائیں‘‘۔ ایک نوخیز عقاب نے معصوم لہجے میں پوچھا: ’’تو کیا شیر اور اُس کے ساتھی وہ ذخیرہ کیا گیا شکار ان شکاریوں کے حوالے کر دیں گے؟‘‘معمر باز مسکرایا اور بولا:’’شیر اور اُس کے ساتھی کبھی ایسا نہیں کریں گے، آج شیر معلق ہے، کل اُس کے ساتھی معلق ہو جائیں گے اور ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے جائیں گے اور وقت گزرتا جائے گا۔ذخیرہ شدہ خوراک گل سڑ جائے گی۔ جسے نہ وہ خود کھا سکیں گے، نہ کسی اور کو کھانے دیں گے، اِس شیر کے باپ نے انسانوں میں رہ کر فقط لالچ، حرص، عیاری، مکاری یا طمع جیسی لعنتیں ہی سیکھیں، مگر کسی درویش انسان کے مُنہ سے کبھی ’’مکافاتِ عمل‘‘ کا ذکر بھی سُن لیتا تو شاید آج ایسی ابتلا سے محفوظ رہتا‘‘۔

پاکستان امن اور ترقی کا گہوارہ کیسے بن سکتا ہے،یہ ہر پاکستانی سوچتا ہے۔ہمارے دوست عارف میاں نے بھی اِس حوالے سے بہت سوچا۔ سوچتے سوچتے تھک گئے یا پتا نہیں کیا ہوا،دن رات گردان کرنے لگے کہ ہمارے سارے مسائل کی جڑ برصغیر کا دو ممالک میں بٹ جانا ہے، پھر وہ کاغذ قلم تھام کر اہلِ دانش سے ملے، سوال اس اس تکنیک سے کئے کہ کسی طرح سے ان سے یہ جواب لے لیں کہ تقسیم کے ذمے دار جناح صاحب تھے،وہ اگر قیام پاکستان کی تحریک نہ اٹھاتے، ہندوستان متحد رہتا تو آج یہاں ہر شخص چین کی بانسری بجا رہا ہوتا اور ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔

عارف میاں ملکی بٹوارے سے اتنے ناراض ہیں کہ وہ بانی اکستان کو قائداعظم کے خطاب سے نہیں ’’جناح صاحب‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ان کی کتاب ’’برصغیر کیسے ٹوٹا؟‘‘ میں تعلیم، بیورو کریسی، صحافت، سیاست اور قانون سے تعلق رکھنے والے بہت سارے دانشوروں کے انٹرویوز شامل ہیں۔ان کی غالب تعداد نے اول تو یہی جواب دیا کہ انڈین نیشنل کانگریس کے ہندو رہنما جب کسی طرح بھی دس کروڑ مسلمانوں کو مستقبل کے آئینی ڈھانچے میں باعزت مقام دینے پر آمادہ نہ ہوئے تو اسلامیانِ ہند نے قائداعظمؒ کی رہنمائی میں پاکستان کے حصول کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ دوسرے، اب ایسے سوالات اُٹھانا لاحاصل ہے کہ تقسیم کا المیہ کیوں پیش آیا۔دانش مندی یہی ہے کہ اب پاکستان اور بھارت اپنے مسائل مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرنے پر توجہ دیں۔

عارف میاں کی تسلی تشفی نہیں ہوئی۔اس کے بعد وہ اہلِ دانش سے یہ پوچھنے چلے گئے کہ کیا پاکستان کا قیام جمہوری عمل کا نتیجہ ہے اور کیا عقیدہ اور سیاست اکٹھے رہ سکتے ہیں؟ ان کی حال ہی میں چھپنے والی کتاب کا عنوان ہے:’’ پاکستان، آئین اور عدلیہ‘‘۔اس میں قانون کی دُنیا سے متعلق ان بارہ شخصیات سے انٹرویوز شامل ہیں: جسٹس(ر) جیہہ الدین احمد،عابد حسن منٹو، بیرسٹر اعتزاز احسن، علی احمد کُرد، احسان وائیں، جسٹس(ر) شبر رضا رضوی، عرفان قادر، لطیف آفریدی، جسٹس (ر) سید افضل حیدر، بیرسٹر ظہور الحق، احمد اویس اور ایس ایم ظفر۔

مذکورہ بالا کتاب میں بلاشبہ پاکستان کی قانونی اور دستوری تاریخ سے متعلق کئی اہم مباحث ہیں، جن سے ہمیں اپنے سیاسی نظام کی پیچیدگیوں اور بالادست طبقات کے مفادات اور حکمت عملی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔البتہ فاضل مصنف نے اقلیتوں کے مسائل کے پردے میں قادیانیوں کے دفاع کی بھونڈی سی کوشش کی ہے۔انہیں پاکستان کا اسلامی اور جمہوری مملکت ہونا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ پاکستان کا آئین جو پاکستانی عوام کی امنگوں کا مظہر ہے اور جس کی تشکیل میں وفاق میں شامل چاروں یونٹس کے نائندگان نے بھرپور حصہ لیا تھا، اس کی حیثیت کو اپنے سوالات کے ذریعے مشکوک بنانے کی فضول سعی کی ہے۔انہوں نے آئین ایسی مقدس قومی دستاویز پر بار بار اعتراضات کا کیچڑ اچھال کر افسوسناک حرکت کی ہے۔ ذرا سوالات کا اسلوب دیکھیے:

*۔۔۔ آئین میں کوئی خاص خامی نہیں ہے؟

*۔۔۔ کیا پاکستان کا آئین کنفیوزڈ ہے؟

*۔۔۔ آپ ذاتی طور سے سمجھتے ہیں کہ مذہب آئین کے اندر نہیں ہونا چاہئے؟

*۔۔۔ آئین میں مذہب کو شامل کیا گیا، اسلام کو ریاست کا مذہب بنایا گیا اور قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔ کیا یہ آئین کی خامی نہیں؟

عارف میاں کے ایسے سوالات کے جواب میں تمام دانشوروں نے کھل کر تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کا آئین ہر لحاظ سے ایک مکمل دستاویز ہے، اس میں اقلیتوں کے حقوق کا پورا پورا تحفظ کیا گیا ہے،لیکن عارف میاں کو قادیانیوں کا دستوری طور پر غیر مسلم قرار پانا بُری طرح کھٹکتا ہے، وہ پہلو بدل بدل کر ان کا مسئلہ اٹھا کر آئین کو ناقص دستاویز بتاتے ہیں۔ سوال دیکھیے:

’’1973ء میں آئین بنا اور اگلے سال 1974ء میں آئین کے تحت احمدیوں کو زبردستی غیر مسلم قرار دیا گیا،بنیادی حقوق کا کیا بنا؟

بیرسٹر اعتزاز احسن نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے سے متعلق مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے جو جواب دیا، وہ لائق مطالعہ ہے۔ اعتزاز کا کہنا ہے:

’’جہاں تک احمدیوں کے متعلق آئینی ترمیم کا تعلق ہے، حقیقت میں پیپلزپارٹی کی طرف سے اس کشیدگی کی بڑی انکوائری کی گئی جو طلبا تصادم کی وجہ سے احمدیوں کے متعلق پیدا ہو گئی تھی،بڑی تحریک چلی تھی۔ اس کو کنٹرول کرنے کے لئے بھٹو شہید نے پیپلزپارٹی کی حکومت نے قومی اسمبلی کی کمیٹی بنا دی۔یحییٰ بختیار بتاتے ہوتے تھے کہ شاید آئینی ترمیم نہ آتی۔

جب جرح کر ر ہے تھے تو امیر جماعت احمدیہ مرزا طاہر نے اس سوال پر کہ حلفیہ بتائیں جو جماعت احمدیہ میں نہیں ہیں،آپ انہیں مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں؟مرزا طاہر نے قومی اسمبلی کے سامنے جواب نفی میں دیا،جس پر قومی اسمبلی کے ممبران میں ہیجان پیدا ہوا۔اس کی وجہ سے یہ ترمیم کی گئی۔۔۔ آئین کے اندر بنیادی حقوق آرٹیکل 8سے آرٹیکل28 میں دیئے گئے ہیں، یہ جتنے حقوق ہیں تکنیکی طور پر جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے سب پاکستانی شہریوں کو دوسرے پاکستانی شہریوں کی طرح برابر حاصل ہیں۔ (ص105-106-)

قادیانی مسئلے کے حوالے سے بار بار سوال اُٹھانے پر اعتراز احسن زچ ہو گئے اور انہیں کہنا پڑا: ’’مَیں سمجھتا ہوں کہ آپ معاملے کو زیادہ کھینچ کر لمبا کر رہے ہیں‘‘۔ (ص107:)

مَیں عارف میاں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ محض سوالات اُٹھانے کی بجائے ٹھوس ریسرچ کی طرف آئیں اور تحقیق کے لئے جو موضوع اختیار کریں اسے پورے استدلال کے ساتھ پیش کریں اور اس طرح سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کریں۔محض لفظوں کے پھاگ اڑانے سے کچھ نہیں ہو گا!!

مزید : رائے /کالم