میڈیا کے حالات؟

میڈیا کے حالات؟
میڈیا کے حالات؟

  

اس ہفتے مَیں نے سوچ رکھا تھا کہ برازیل کے انتخابات میں پاپولسٹ سیاستدان بول سونارو کی کامیابی کو بنیاد بناکر اس بات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ یورپ، جنوبی امریکہ، شمالی امریکہ، ایشیا میں پاکستان اور بھارت سمیت کئی ملکوں میں ’’پاپولسٹ‘‘ سیاست دان اور سیاسی جماعتیں کیوں مقبول ہوتی جا رہی ہیں؟جبکہ دائیں بازو اور بائیں بازو کے معتدل سیاسی رجحانات رکھنے والی سیاسی جماعتیں کمزور کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟ ابھی اس بارے میں تحقیق اور سوچ بچار کر ہی رہا تھا کہ ایک نجی نیوز چینل کے مکمل طور پر بند ہونے کی خبر ملی۔ خبر کے مطابق اس وقت میڈیا میں چھائی شدید کساد بازاری کے باعث یہ نیوز چینل بند کر دیا گیا اور اس چینل میں کام کرنے والے 200 افراد بے روزگار ہو گئے۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کام کرنے والے ملازمین اور صحافی اس وقت جن مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا اندازہ صرف یہ صحافی یا ان کے گھر والے ہی کرسکتے ہیں۔اکثر چھوٹے، بڑے میڈیا ہاؤسز اور اخبارات میں شدید معاشی مشکلات کے باعث بڑے پیمانے پر ملازمین کو نو کریوں سے نکالا جا رہا ہے۔ کئی کئی ماہ تک تنخواہ نہیں مل رہی۔ مَیں 2007ء سے بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر اسی شعبے سے منسلک ہوں، بلکہ مَیں اپنے دوستوں، رشتے داروں، عزیز و اقارب کے سامنے ہمیشہ اس با ت پر فخر کرتا ہوں کہ میری روزی روٹی کا سلسلہ صحافت جیسے مقدس شعبے کے ساتھ وابستہ ہے۔ مَیں اپنے بچوں کی جس کمائی سے پرورش کرتا ہوں، وہ اسی شعبے سے ہی حاصل ہوتی ہے اور سچی بات ہے اس شعبے سے وابستہ ہونے کے باعث معاشرے میں بھی عزت ملتی ہے۔

مگر گزشتہ کچھ عرصے سے مَیں نے یہ محسوس کیا کہ معاشی بدحالی کی وجہ سے میڈیا میں کام کرنے والے ملازمین شدید مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔مَیں نے میڈیا میں کام کرنے والے اپنے کئی دوستوں حتیٰ کہ کئی سینئرصحافیوں کو بھی یہ کہتے سنا کہ اب اس شعبے کا کوئی مستقبل نہیں رہا۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور نوکری کھو جانے کے خوف سے کئی لوگوں کو نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہوتے دیکھا۔ جواد نظیر صاحب جیسے اتنے بڑے اور پرانے صحافی کو مرتے بھی دیکھا۔ یہ بات درست ہے کہ اس وقت صرف پا کستان ہی نہیں، بلکہ دنیا کے کئی بڑے ممالک بھی کساد بازاری کا شکار ہیں، مگر کیا پاکستان کی خراب معاشی صورت حال ہی میڈیا کی اس زبوں حالی کا واحد سبب ہے؟ ظاہر ہے کہ نیوز چینل اور اخبارات حکومتی اشتہارات کے ملنے یا نہ ملنے سے بھی متاثر ہوتے ہیں، مگر میرے نزدیک میڈیا کی اس موجودہ زبوں حالی کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

جب 2002ء کے بعد پاکستان میں نجی نیوز چینل کھولنے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت کئی ایسے نیوز چینل قائم ہوئے جن کے مالکان کے پاس اخبارات نکالنے کا ایک وسیع تجربہ تھا۔ جو لوگ کئی دہائیوں سے اخبارات چلا رہے تھے، ان کو معلوم تھا کہ صحافت کیا ہوتی ہے یا صحافت کی حرکیات کیا ہوتی ہیں؟ اخبارات کے بھر پور تجربے کے ساتھ ایسے ایسے پیشہ ور صحافی ٹی وی کے پروگراموں کے اینکرز بن گئے، جنہوں نے پورے پاکستان میں اپنی قابلیت کو منوایا۔ پاکستان کے پڑھے لکھے متوسط طبقے کے افراد ایسے پیشہ ور صحافیوں کے تجز یے سن کر اپنی سیاسی سوچ کے رخ کا تعین کرتے رہے، مگر اس سب کے ساتھ ساتھ جب کئی ایسے سرمایہ داروں کو بھی میڈیا کی طاقت کا اندازہ ہونے لگا،جن سرمایہ داروں نے کبھی سرے سے صحافت ہی نہیں کی تھی، مگر ان کے پاس اربوں روپے موجود تھے تو ایسے سرمایہ داروں نے بھی اپنے میڈیا ہاؤسز کھولنے شروع کر دےئے۔

اب اس سب کا نتیجہ کیا ہوا؟ان سرمایہ داروں کے پاس صحافت کا تجربہ تو سرے سے ہی نہیں تھا اس لئے ایسے میڈیا ہاؤسز میں ایسے ایسے افراد کو کئی کئی لاکھ روپے کی بھاری تنخواہوں پر اینکر اور تجزیہ نگار بنا دیا گیا، جن کے پاس صحافت کا تجربہ تو دور کی بات ایک کالم تک لکھنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ ایسے سرمایہ داروں کے اپنے میڈیا ہاؤسز کھولنے سے الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر سرمائے کی گیم بن گیا۔ ’’ریٹنگز‘‘ کی جنگ شروع ہوگئی۔ صحافت کے تجربے سے مکمل طور پر عاری ایسے اینکرز کی ’’ریٹنگ‘‘ ہی ان کی کامیابی کا سبب بننے لگی۔ نیوز چینلز میں با قاعدہ اس بارے میں مقابلہ بازی شروع ہوگئی کہ فلاں اینکر کی فلاں ٹی وی میں بڑی زبردست ریٹنگ ہے، اس کی تنخواہ دو گنا یا تین گنا بڑھا کر اپنے میڈیا ہاؤس میں لایا جائے۔

اپنے 11سالہ تجربے کے دوران مَیں نے خود ایسے ایسے منظر دیکھے کہ کیسے اچھی ’’ریٹنگ‘‘ لینے والے اینکرز کو اپنے اپنے ٹی وی پر لانے کے لئے 30,30 لاکھ یا 40,40 لاکھ کی تنخواہوں کا لالچ دیا جاتا۔ یہ سب دیکھ کر مجھے خیال آتا کہ پاکستان میں پی ایچ ڈی کرنے والا کوئی عالم فاضل شخص کیا ایک ماہ میں 30 یا 40 لاکھ روپیہ کما سکتا ہے؟ مگر اوسط ذہن سے بھی کم رکھنے والا شخص ٹی وی پر آسانی سے ایک ماہ میں اتنی رقم بنا لیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کئی گنا قابل صحافی چند ہزار روپے کی نوکری پر ہی قناعت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس سب سے صحافت کے پیشہ ور اصول بری طرح سے متاثر ہونے لگے۔ نیوز شوز میں صحافت سے زیادہ ’’سیاست‘‘ ہونے لگی۔بات آگے بڑھ کر گالم گلوچ تک بھی پہنچی، آج بھی اعلیٰ عدالتوں میں ایسے مقدمات چل رہے ہیں،جنہوں نے چینلوں کی گالیوں سے جنم لیا۔ پروگراموں کی ’’ریٹنگ‘‘ کے لئے ان نیوز شوز میں ایسی ایسی حرکات کروائی جاتیں، جن کو کسی بھی طور پر صحافت نہیں کہا جاسکتا۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ ایسے میڈیا ہاؤسز جن کے پاس کروڑوں کا سرمایہ سفید یا کالے دھن کی صورت میں موجود تھا، جنہوں نے صحافت سے نہیں،بلکہ دوسرے ذرائع سے اربوں بنائے تھے، انہوں نے تو سرمائے کے اس کھیل میں اپنا کھیل جاری رکھا، مگر سرمائے کی اس دوڑ میں ایسے پیشہ ور نیوز چینل بری طرح سے متاثر ہونے لگے، جن کے پاس اخبارات کے علاوہ آمدن کے دوسرے ذرائع موجود نہیں تھے۔ ایسے پیشہ ور نیوز چینلوں کے لئے اپنے ملازمین کی تنخواہیں بھی وقت پر ادا کرنا ناممکن ہو گیا، جس کا نتیجہ میڈیا کی اس زبوں حالی کی صورت میں نکلا۔مَیں نے اس کالم میں صحافت کے لئے مقدس شعبے کا لفظ دانستہ طور پر استعمال کیا ہے۔یہ شعبہ اس لئے مقدس ہے، کیونکہ تاریخ میں صحافت کو مشن کے طور استعمال کیا گیا ہے۔ آپ دنیا کے بڑے بڑے انقلابات کی تاریخ کو دیکھیں ہر انقلاب کے پیچھے انقلابی پارٹی کی کامیابی میں اخبار کا کردار ہوتا تھا۔

برصغیر میں انگر یزوں کے خلاف چلنے والی تحریک آزادی کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر طرح کا سیاسی رجحان رکھنے والی جماعت کا اپنا اپنا اخبار ہوتا تھا۔ کانگرس اور مسلم لیگ جیسی بڑی جماعتیں اپنا اپنا پروگرام لوگوں تک پہنچانے کے لئے اخبارات کا ہی سہارا لیتیں۔ بڑی بڑی تحریکوں کو چلانے کے لئے اخبارات سے ہی مدد لی جاتی۔ بائیں بازو اور دائیں بازو کی جماعتیں اخبارات کے ذریعے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاتیں۔ اس سے سب لوگوں کو شعور ملتا، یوں صحافت ایک بامقصد جذبے کے ساتھ کی جاتی تھی، جس کا مقصد صرف سرمایہ بنانا نہیں ہو تا تھا۔ آج سرمایہ داری نظام کے اس بازار میں جہاں تعلیم اور صحت جیسے شعبے بھی منافع کے لئے استعمال کئے جاتے ہوں،وہاں پر صحافت جیسا مقدس شعبہ بھلا کیسے اپنے آپ کو سرمائے کے اس مرض سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ جیساکہ مَیں نے ذکر کیا کہ ہزاروں انسانوں کی طرح مَیں بھی اپنی روزی روٹی کے لئے اسی شعبے کا مرہون منت ہوں۔ اس شعبے کی زبوں حالی ہزاروں لوگوں کی طرح میرے لئے بھی انتہائی تکلیف دہ ہے، تاہم رجائیت پسندی کا سہارا لیتے ہوئے یہ امید ہی کرسکتا ہوں کہ یہ شعبہ زبوں حالی کی اس کیفیت سے جلد باہر نکلے گا۔

مزید : رائے /کالم